30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۲)ہر گز نہیں کہ وہ فاسق ہے اور فاسق کی شہادت مردود ہے،
|
قال اﷲ تعالٰی" یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ جَآءَکُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوۡۤا[1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا:اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبرلائے تو چھان بین کرلو۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
(۳)باتیں مطابق عقل کے ہوں کام عاقلانہ ہوں،کبھی عاقلوں کبھی پاگل کےسے قول فعل نہ کرے یہ تصرفات کے لئے ہے، اور اگر امثال شہادت وروایت وقضا وافتا کے لئے سلامت حو اس مقصود ہو تو یہ بھی ضرورہے کہ شاہد وراوی کی یاد صحیح ہو سخت بھولنے والا نہ ہوا ور قاضی ومفتی کی فہم وفکر ٹھیك ہو۔درمختار میں ہے:
|
الشہادۃ شرطہا العقل الکامل والضبط[2]۔ |
شہادت کے لئے کامل عقل اور یادداشت شرط ہے۔(ت) |
اسی کی کتاب القضامیں ہے:
|
ینبغی ان یکون موثوقا بہ فی عفافہ وعقلہ وصلاحہ وفھمہ وعلمہ،ومثلہ فیما ذکر المفتی[3]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
قاضی معتمد علیہ ہونا چاہئے پاکدامنی،عقل وصلاح فہم اور علم میں۔اور مذکورہ امور میں مفتی بھی قاضی کی مثل ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
(۴)ادائے شہادت کے لئے بالغ ہونا شرط ہے،نابالغ کی گواہی معتبر نہیں،نہ اتنا بوڑھا ہو کہ بوجہ پیر انہ سالی دماغ صحیح نہ رہا بات یا د نہ رہے کچھ کا کچھ کہے۔درمختارمیں ہے:
|
لاتقبل من اعمی مطلقًا ومرتد ومملوك وصبی و مغفل ومجنون الا ان یتحملا فی الرق والتمییز، وادیا بعد الحریۃ والبلوغ[4]۔ |
اندھے کی گواہی مطلقًا قبول نہیں کی جائے گی اور نہ ہی مرتد، غلام،بچے،غافل اور پاگل کی مگر جب غلام اور بچہ غلامی اور تمیز کی حالت میں تحمل شہادت کریں اور آزادی وبلوغ کے بعد شہادت ادا کریں تو قبول ہوگی۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع