30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
نفذ)واثم فتح(الاان یمنع منہ)ای من القضاء بشھادۃ الفاسق(الامام فلا)ینفذ لمامرانہ یتأقت ویتقید بزمان و مکان وحادثۃ وقول معتمد حتی لاینفذ قضاؤہ باقوال ضعیفۃ[1]۔ |
نافذ ہوگا اور قاضی گنہگار ہوگا(فتح)لیکن اگر حاکم نے قاضی کو فاسق کی شہادت پر فیصلہ کرنے سے منع کیا تو نافذ نہ ہوگا کیونکہ قاضی کو مخصوص زمانے مخصوص جگہ،مخصوص حادثے اور معتمد قول پر فیصلہ کرنے کے ساتھ مقید کیا جاسکتا ہے یہاں تك کہ اقوال ضعیفہ کی بنیاد پر کیا ہوا اس کا فیصلہ نافذ نہ ہوگا۔(ت)ان سب امور کا لحاظ ضرور ہے،واﷲتعالٰی اعلم |
مسئلہ۹تا۱۲: ازدولت پور ضلع بلند شہر مرسلہ رئیس بشیر محمد خاں صاحب ۵/شعبان ۱۳۲۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسئلوں میں:
(۱)اگر کچھ طمع ناجائزسے کوئی شخص شہادت دے تو اس کی شہادت کا اعتبار ہوگا یانہیں؟
(۲)جو شخص پابند صوم صلوٰۃ نہ ہو اور مسکرات کا پابند ہو ایسے شخص کی شہادت شرعًا مانی جاسکتی ہے یانہیں؟
(۳)حواس سالم کے کیا علامات ہیں ازروئے شرع شریف کے؟
(۴)شہادت شاہد کے واسطے عمر کی قید ہے یانہیں؟اور اگرہے تو کس عمر سےکس عمر تك ناقابل شہادت مانا جاتا ہے؟
الجواب:
(۱)اظہار سائل سے معلوم ہوا کہ طمع ناجائز سے مراد رشوت ہے،ایسی شہادت باطل محض مردود ہے،رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
الراشی والمرتشی فی النار[2]۔رواہ الطبرانی فی الصغیر عن عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
رشوت دینے والا اور رشوت لینے والا جہنمی ہیں اس کو طبرانی نے معجم صغیر میں سیدنا عبداﷲ بن عمر ورضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا،واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع