30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وان کان قول الکافر لایقبل فی الدیانات ومنھا الحل والحرمۃ اصلا،ثم رأیت بحمد اﷲ التعلیل بعین ھذا فی تبیین الحقائق للامام الزیلعی حیث قال رحمہ اﷲ تعالٰی عاین ملکا بحدودہ ینسب الی فلان بن فلان الفلانی وھو لم یعرفہ بوجھہ ونسبہ ثم جاء الذی نسب الیہ الملك وادعی ان المحدود ملکہ علی شخص حل لہ ان یشھد استحسانا لان النسب یثبت بالتسامع،فصاۤر المالك معلوما بالتسامع و الملك بالمعاینۃ،ولولم یسمع مثل ھذا الضاع حقوق الناس لان فیہم الحجوب ومن لایبرز اصلا و لا یتصور ان یراہ متصرفا فیہ ولیس ھذا اثبات الملك بالتسامع وانما ھو اثبات النسب بالتسامع وفی ضمنہ اثبات الملك بہ وھو لایمتنع وانما یمتنع اثباتہ قصدا[1]۔ |
کھانے کا حلال ہونا ضمنًا ثابت ہوجائے گا اگرچہ امور دینیہ میں کافر کا قول بالکل مقبول نہیں ہوتا اور حلال وحرام ہونا امور دینیہ میں سے ہے،پھر میں نے بحمداﷲ یہی تعلیل بعینہ علامہ زیلعی کی تبیین الحقائق میں دیکھی جہاں آپ نے فرمایا کہ ایك شخص نے ملك کو اس کی حدود کے ساتھ دیکھا کہ فلاں ابن فلاں کی طرف منسوب ہوتی ہے جبکہ اس نے مالك کو نہ تو چہرے سے پہچانا اور نہ ہی اس کے نسب کو جانا پھر وہ شخص آیا جس کی طرف ملك محدود کی نسبت کی جاتی ہے اور خاص اسی ملك محدود کے مالك ہونے کا دعوٰی کیا تو شاہد کو اس کی ملك پر گواہی دینا بطور استحسان حلال ہے کیونکہ نسب سماع سے ثابت ہوجاتا ہے لہذا مالك لوگوں سے سن کر اور ملك دیکھ کر معلوم ہوگیا،اور اگر اس طرح کی گواہی مسموع نہ ہو تو لوگوں کے حقوق ضائع ہوجائیں گے کیونکہ لوگوں میں کچھ نقاب پوش ہوتے ہیں اور کچھ ایسے ہوتے ہیں بالکل سامنے نہیں آتے تو ایسے شخص کو ملك میں تصرف کرتے ہوئے دیکھنا شاہد کے لئے متصور نہیں،اور یہ تسامع سے ملك کو ثابت کرنا نہیں ہے بلکہ یہ تو تسامع سے نسب کا اثبات ہے اور اس کے ساتھ ضمن میں ملك کا اثبات ہے اور یہ ممتنع نہیں،ممتنع توقصدًا تسامع سے ملك کا اثبات ہے۔(ت) |
مسئلہ کتب میں دوار اورمتون وشروح وفتاوٰی میں مستفیض وآشکار ہے،تنویر میں ہے:
|
تقبل فیہ الشہادۃ بدون الدعوی و |
وقف میں بلا دعوٰی شہادت قبول کی جاتی ہے اور |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع