30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اتقبل من الفرع لاصلہ وان علاوبالعکس للتھمۃ[1] (ملخصًا) |
تہمت کی وجہ سے فرع کی گواہی اصل کے حق میں مقبول نہیں اگرچہ اصول اوپر تك چلے جائیں اور یونہی اس کے برعکس (یعنی اصل کی گواہی فرع کے حق میں قبول نہ ہوگی)(ملخصًا)۔ (ت) |
کلن کی گواہی یوں مردود ہے کہ وہ صاف کہہ رہا ہے کہ میں نے اپنے گھر میں سے عبدالرحیم کو طلاق دیتے سنا اور آڑ میں سے سننے پر گواہی بعض صورتوں کے سوا ہر گز مقبول نہیں کہ آواز آواز سے مشابہ ہوتی ہے خصوصًا جب گواہ بیان کردے کہ میں نے آڑ میں سے سناتو مطلقًا مردود ہے،درمختارمیں ہے:
|
لا یشھد علی محجب بسماعہ منہ الا اذا تبین القائل بان لم یکن فی البیت غیرہ لکن لو فسر لاتقبل درر [2]الخ۔ |
نہ گواہی دے اس شخص پر جو آڑ کے پیچھے پوشیدہ ہے اس کی آواز کو سن کر سوائے اس کے کہ ظاہر وواضح ہو جائے کہ اس مکان میں قائل کے علاوہ کوئی دوسراموجود نہیں،لیکن اگر شاہد آڑ کی سماعت کوبیان کردے تو اس کی گواہی نہ ہوگی درر الخ(ت) |
اب نہ رہے مگر محمد امین وزوجہ حسین بخش قطع نظر اس سے کہ ان کی شہادتوں میں کتنے خلل شرعی ہیں خصوصا زوجہ حسین بخش کا بیان مضطرب ہے اگر کوئی خلل نہ بھی ہوتا تو صرف ایك مرد اورایك عورت کی گواہی سے طلاق ثابت نہیں ہو سکتی،دو مردعادل یا ایك مرد ودو عورتیں ثقہ درکار ہیں۔درمختار میں ہے:
|
نصابھا لغیرہ من الحقوق کنکاح وطلاق رجلان او رجل وامرأتان [3]۔(ملتقطًا) |
امور مذکور ہ کے سوا دیگر حقوق میں نصاب شہادت دو مرد یا ایك مرد اوردو عورتیں ہے جیسے نکاح و طلاق وغیرہ میں (ملتقطا)۔ (ت) |
مگر یہ ثبوت وعدم ثبوت قاضی ودیگر خلائق کے نزدیك واقع میں اگر عورت سچی ہے اس کے سامنے اسے تین طلاق دی ہیں تو عورت پر فرض ہے کہ جس طرح جانے اس سے جدا ہوجائے پھر اگر جدا نہ ہوسکے تو وبال مرد پر ہے یہ الزام سے بری رہے گی جب تك اس کے پاس رہے ہاتھ لگانے پر سچے دل سے ناراض ہو اور اپنی حد قدرت تك اس سے بچنے میں ہمیشہ کوشش کرتی رہے والمسئلۃ منصوص
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع