30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دروازہ پرکھڑے تھے اور حسین بخش مجھ کوبلانے کو گئے تھے اور حبو بھی بلاتے رہے میں نے اس کے جواب میں یہ کہا کہ میری کوئی لڑائی اور جھگڑا نہیں ہے آتاہوں کلن مجھ سے عداوت رکھتے ہیں اس کو چار آدمیوں سے دریافت کر لو فقط۔
بیان والدہ مسماۃ کایہ ہے کہ میں اپنا کام کرتی تھی دونوں میاں بی بی میں صندوق پر جھگڑا ہورہا تھا اس کے شوہر نے کہا کہ تجھ کو طلاق جوتو کچھ کر نگزار ے،بعد اس کے اسی وقت تین مرتبہ یہ کہاکہ تجھے طلاق ہے تجھے طلاق ہے تجھے طلاق ہے،اس وقت یہاں محمد امین موجود تھا اور حسین بخش کی زوجہ کومیں نے دیوار پر کھڑے ہوئے نہیں دیکھا وہ کہتی تھی کہ میں دیوار پر کھڑی تھی اور میرے بھائی کلن کی زوجہ ایك لفظ سن کر آئیں فقط طلاق کا۔
بیان زوجہ حسین بخش کایہ ہے کہ ان کے گھر میں دونوں میں بہت دیر سے رنج ہورہا تھا مجھ کو یہ نہیں معلوم کہ کس بات پرہورہا تھا میں اس وقت دیوار پر کھڑی تھی صندوق دونوں کے ہاتھ میں تھا زوجہ یہ کہتی کہ صندوق نہ لے جاؤ یہیں کیونکر کھول کر دیکھ لو،اور خاوند اس کا یہ کہتا تھا کہ میں صندوق لیجاؤں گا،اسی پر اس کے خاوند نے کہا کہ میں نے طلاق دی میں نے طلاق دی میں نے طلاق دی،اور اس وقت محمد امین اور والدہ مسماۃ کی موجودتھی فقط بقلم محمدیعقوب علی۔
العبد قاضی فراست علی بقلم خود یہ بیان کیا اور دوبارہ پوچھا گیا تولفظ"میں"کی جگہ"تجھ"کو بیان کیا،میں نے زوجہ حسین بخش کو اول ہی مرتبہ جب سوال کیا کہ بیان کرو تو بجواب اس کے کہاکہ میں نے سنا اور یہ کہا کہ میں کم سنتی ہوں بقلم خود قاضی محمدفراست علی بقلم محمد یعقوب علی،تحریر تاریخ۷/ماہ جمادی الاولٰی ۱۳۱۴ھ
بیان محمد امین کا یہ ہے کہ عرصہ آٹھ روز کا ہواکہ دونوں میں لڑائی ہونے لگی میں نے جاکر ان سے کہا آہستگی سے بات کرو جو تم کہو میں دلوادوں بعد اسکے صندوق پر چھینا جھپٹی ہونے لگی انہوں نے مارا اس کی ناك میں سے خون نکلا تو صندوق انکو دیدیا گیا پھر لوٹ پھیر ہونے لگی اسی صندوق پر انہوں نے یہ کہا کہ جو کچھ کر نہ گزارے تجھ کو طلاق ہے ایك زبان میں تین دفعہ کہا تجھ کو طلاق ہے ایك زبان میں تین دفعہ کہا تجھ کو طلاق ہے اس کے بعد میرے والد آگئے ان سے کہا کہ باہر جاؤ،وہاں پر میں تھا اور جو اس وقت کوئی موجود نہ تھا میری پھوپھی تھی اور پھوپھی کی لڑکی تھی فقط۔
بیان کلن پڑوسی کا یہ ہے کہ عرصہ آٹھ روز کا ہوا کہ میں باہر سے اپنے گھر میں سنا کہ شوروغوغا بہت سے مچا ہوا تھا میرے گھر میں ذکرکیا کہ آج عبدالرحیم نے اپنے گھر میں بہت مارا میں نے کہا اس سے مجھے کیا ہے میں روٹی کھانے کو بیٹھ گیا صندوق کے لئے دونوں میں کھینچاتانی ہورہی تھی میں نے اپنے گھر میں سنا کہ تجھے طلاق ہے کر نہ گزارے بعد کو تین مرتبہ کہا تجھے طلاق تجھے طلاق تجھے طلاق بعد کو میں گیا میں نے کہا کہ اب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع