30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
منحۃ الخالق علی البحرالرائق میں کلام مذکور کے بعدفرمایا:
|
ولان الجہالۃ انما تؤثر لانھاتفضی الی منازعۃ مانعۃ من التسلیم والتسلم الاتری ان مالایحتاج الی قبضہ فجہالتہ لاتضر وھو المصالح عنہ بخلاف ما یحتاج الی قبضہ وھو المصالح علیہ فاذا اقر باستیفاء الثمن فلا حاجۃ ھنا الی تسلیم الثمن فجہالتہ لا تمنع القاضی من القضاء بحکم الاقرار[1]اھ ومن تامل ھذہ الکلمٰت ظھر لہ الحکم فی مسألتنا ھذہ ظہورا بینا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اس لئے کہ بیشك جہالت یہاں مؤثر ہے کیونکہ وہ ایسے نزاع کا باعث ہے جو تسلیم وتسلم سے مانع ہے،کیا تو نہیں دیکھتا کہ جہاں قبضہ کی حاجت نہ ہو اس کی جہالت مضر نہیں اور وہ مصالح عنہ ہے(جس شے پر نزاع واقع ہوا)بخلاف اس چیز کے جس پر قبضہ کی حاجت ہے اور وہ مصالح علیہ ہے(جس شے پر صلح ہوئی)۔اور جب بائع نے ثمن وصول کرلینے کا اقرار کرلیا تو یہاں تسلیم ثمن کی حاجت نہ رہی لہذا ثمن کی جہالت قاضی کو بوجہ اقرار قضاء سے مانع نہیں ہوگی اھ جو شخص ان کلمات میں غور کرے اس پر ہمارے زیر بحث مسئلہ کا حکم خوب واضح ہوجائیگا واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ۶:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جو عورت قوم طوائف بوجہ آشنائی کسی مرد کے پاس عرصہ دراز تك بغیرہونے نکاح کے ہمخانہ اور ہم صحبت رہی اور پھر اس مرد نے بوجہ مذکور جو ہبہ نامہ جائداد مشترك کا بنام ہذا عوض دین مہر کے اس عورت کے نام لکھ دیا اور اس میں لکھاہو کہ نکاح میراساتھ اس کے ہوگیا ہے تویہ اقرار مرد کا بمقابلہ حقدار شرعی شخص ثالث کے شرعًا ثبوت ہونے نکاح کا کافی ہے یانہیں؟اور شہادت سماعی یا کسی شخص واحد کی کافی ہوسکتی ہے یانہیں؟ اور شرعًا شہادت کیسی اور کن آدمیوں کے واسطے ثابت ہونے نکاح کے جائز اور معتبر ہوگی؟ اور ایسا ہبہ نامہ بھی جائداد مشترك کا شرعًا جائز ہے یانہیں؟بینواتوجروا
الجواب:
شہادت شخص واحد کی ثبوت نکاح کے لئے کافی نہیں،دو مرد یا ایك مرد و دو عورت عادل ہونا چاہئے۔
|
فی الدر المختار ونصابھا لغیرھا من الحقوق سواء کان الحق مالااو |
درمختا رمیں ہے:امور مذکورکے سوا دیگرحقوق میں نصاب شہادت دو مرد یا ایك مرد اور دو عورتیں ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع