30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
درخواست سنے اور عدالت شہود کی تحقیقات کرے اگرچہ ادائے شہادت کو مہینے گزرچکے ہوں کہ مرور مدت مانع سوال تزکیہ نہیں اور مذہب مفتی بہ پر یہ تنقیح اس زمانہ میں مطلقًا لازم اور بعد طلب و طعن مدعا علیہ تو بالاتفاق کی جائے گی،درمختارمیں ہے:
|
لایسأل عن شاھد بلاطعن من الخصم الافی حدوقود وعند ھما یسأل فی الکل ان جہل بحالہم، بحر،بہ یفتی[1]۔ |
حدود وقصاص کے علاوہ دیگر مقدمات میں مدعاعلیہ کی طرف سے طعن کے بغیر قاضی گواہوں کاحال دریافت نہ کرے، صاحبین کے نزدیك ہرصورت میں دریافت کرے جبکہ قاضی کو ان کا حال معلوم نہ ہو،بحر،اسی پر فتوی ہے۔ (ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
قولہ یسأل ای وجوبا،قال فی البحر والحاصل انہ ان طعن الخصم سأل عنہم فی الکل والاسئل فی الحدود والقصاص وفی غیرہامحل الاختلاف[2]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
ماتن کا قول کہ"سوال کرے"یعنی قاضی پر گواہوں کا حال دریافت کرنا واجب ہے۔بحر میں فرمایا خلاصہ کلام یہ ہے کہ اگر مدعاعلیہ کی طرف سے طعن ہو تو تمام مقدمات میں گواہوں کاحال دریافت کرے ورنہ حدود وقصاص میں دریافت کرے جبکہ باقی مقدمات میں محل اختلاف ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ۵: ۲۰/ذی الحجہ ۱۳۱۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نےا پنی زوجہ ہندہ کو اپنی زندگی وصحت میں بعوض دین مہر کے اپنی جائداد منقولہ وغیر منقولہ قیمتی تخمینًا چارسوروپیہ کے دی اور قبضہ کرادیا،اب زید مرگیا ورثہ نے اپنے حصہ کا دعوٰی کیا اور کہا کہ یہ جائداد متروکہ ہے ہندہ نے بیان کیا میر امہر پانچسو روپیہ کا تھا اور میر اخاوند زید بعوض دین مہر کے گواہوں کے روبرو مجھے قبضہ دے گیا ہے اور شہادت معتبر سے یعنی دو گواہوں سے ثابت ہوگیا ہے کہ زید نے ہمارے سامنے بعوض دین مہر کے ہندہ کو جائداد دی اور قبضہ کرادیا لیکن تعداد دین مہر کی یا د نہیں کہ کس قدر تھا تو اس صورت میں مہر ہندہ کاوہی سمجھاجائے گا جو زید اپنی زندگی میں دے مرا یا مہر مثل لازم آئے گا یا کم از کم مہر دس درہم سمجھا جائے گا اور ورثہ بھی اس جائداد میں حصہ پائیں گے یانہیں؟ بینوا توجروا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع