30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فحینئذ لاتقبل شہادتہ علی مثلہ ولاعلی غیرہ و للحاکم تعزیرہ علی ترکہ ذٰلك ثم قال والعالم من یستخرج المعنی من الترکیب کما یحق و ینبغی[1]۔ |
اس کو ترك کرنے کی وجہ سے وہ فاسق ہوگیا،تو اس صورت میں یعنی فاسق ہونے کی صورت میں تو اس کی گواہی نہ اپنے جیسے جاہل اور نہ ہی غیر جاہل پر قبول کی جائے گی،اور اس ترك تعلم پر حاکم اس کو بطور تعزیر سزادے سکتاہے،پھر کہا کہ عالم وہ ہے جو تراکیب الفاظ سے معنی کا استخراج کرسکے جیسا کہ ثابت اور مناسب ہے۔(ت) |
پھر عورت میں تیسری وجہ اور ہے کہ وہ ہندہ کی نوکر ہے اور نوکر کی گواہی آقا کے حق میں مقبول نہیں،درمختار میں ہے:
|
لاتقبل شہادۃ الاجیر الخاص لمستاجرہ مستانہۃ او مشاہرۃ اوالخادم[2] الخ۔ |
اجیر خاص(مزدور یانوکر)کی گواہی اپنے مستاجر کے حق میں قبول نہیں کی جائے گی چاہے اجرت سالانہ ہو یا ماہانہ،یا اجیر خاص سے مرادخادم(تابع یا شاگرد خاص ہے)۔(ت) |
پس صورت مستفسرہ میں طلاق ثابت نہیں زید ہندہ بدستور زوج و زوجہ مانے جائیں گے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۴: ازریاست ٹونك محلہ مئوخیل وزیر گنج مرسلہ حسن رضاخاں ۲۸/ربیع الاول شریف ۱۳۱۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس صورت میں کہ مسماۃ ہندہ مدعیہ کے شوہر کا انتقال ہوگیا اس نے خسر ضامن مہر و نیز مدعاعلیہ ثانی ضامن چڑھا وا و جہیز پر تین دعوے عدالت شریعت میں پیش کئے۔ثبوت ہر سہ دعوی میں ہشت مع قاضی شہادتین شرعیہ بمواجہہ مدعاعلیہم پیش ہوئیں کہ عدالت شرعی میں پذیراوتسلیم ہوچکیں وحصر بھی فریقین سے کرچکی تھی ونیز مدعاعلیہم کے بیانات سے بھی اقرار ثابت ہے،ادخال ثبوت سے بعد پانچ ماہ کے ایك مدعا علیہ نے درخواست خلاف شرع پیش کی کہ اب گواہان مدعیہ پر جرح ہے تزکیہ کرادیاجائے،وکیل مدعیہ نے بھی عرض بدیں خلاصہ پیش کی کہ اب جرح کرنا مدعاعلیہ کا اور درخواست تزکیہ کی شرعًا ناجائز ہے،پس تزکیہ ایسے وقت میں ایسے معاملہ داد وستد میں جس کامذکورہ بالا ہو چکاہے بعد پانچ ماہ کے درست ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع