30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کمانص علیہ العلماء الکرام فی حکمۃ عدم تحلیف الشاہد و وضع ھذا اللفظ عوضہ ان شاھد الزورلما اراداھلاك مال المشہود علیہ عوض باھلاك ذاتہ بخلاف مالو حلف اذکان یسیرا علیہ کفارتہ۔ |
جیسا کہ گواہوں سے حلف نہ لینے اور اس کے بجائے لفظ اشھد رکھنے کی حکمت کے بارے میں علماء کرام نے نص فرمائی ہے کہ جھوٹا گواہ جب مشہودعلیہ کے مال کی ہلاکت کا ارادہ کرے تو اس کا بدلہ اسے ہلاکت ذات کی صورت میں ملتا ہے بخلاف قسم کے گواہ پر اس کا کفارہ ادا کردینا آسان ہوتا ہے(ت) |
غرض ایسی شہادت ہر گز شہادت نہیں اور اس پر جو قضا ہو اصلًا نافذ نہیں۔
|
لانتفاء احداطراف القضاء وھو الطریق فان القاضی انما یقضی بالبینۃ اوالنکول اوالاقرار فاذاانعدمت انعدم القضاء۔ |
اطرافِ قضاء میں سے ایك یعنی طریق کے منتفی ہونے کی وجہ سے کیونکہ قاضی گواہوں یا انکار مدعا علیہ یا اقرار مدعی علیہ کے ذریعے ہی فیصلہ کرتا ہے جب یہ معدوم ہوں تو قضاء بھی معدوم ہوگی(ت) |
فتاوٰی خیریہ میں ہے:ومما نظمہ ابن الغرس فی الفواکہ البدریۃ(ابن الغرس نے فواکہ بدریہ میں نظم کیا۔ت)
اطراف کل قضیۃ حکمیۃ ست یلوح بعدھا التحقیق
حکم ومحکوم بہ ولہ ومحکوم علیہ وحاکم وطریق[1]
(ہر قضاء کے چھ اطراف ہوتے ہیں جن کے بعد تحقیق ظاہر ہوتی ہے:۱حکم،۲محکوم بہ،۳محکوم لہ،۴محکوم علیہ،۵حاکم اور ۶طریق۔ت)
|
وبفقد واحد من اطراف القضیۃ یفقد الحکم وبذٰلك یعرف بطلان المحضر المذکور۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اطراف قضاء میں سے ایك کے مفقود ہونے کی وجہ سے حکم مفقود ہوجاتا ہے اور اسی سے مذکورہ دستاویز کا بطلان بھی معلوم ہوجاتا ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع