30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الاعلام [1]اھ۔ |
مقصود تو شناخت کراناہے اھ(ت) |
لفظ اشھد قطعًا رکن شہادت ہے بے اس کے شہادت شہادت ہی نہیں قبول وعدم قبول تو دوسرا درجہ ہے، تنویرا لابصار ودرمختار میں ہے:
|
رکنھا لفظ اشھد لاغیر الی قولہ فتعین[2]۔ |
شہادت کارکن لفظ اشھد(میں گواہی دیتا ہوں)ہے نہ کہ اس کا غیر(ماتن کے قول فتعین تک)۔(ت) |
انہیں میں ہے:
|
لزم فی الکل من المراتب الاربع لفظ اشھد بلفظ المضارع بالاجماع وکل مالا یشترط فیہ ھذااللفظ کطہارۃ ماء ورؤیۃ ھلال فہو اخبار لاشہادۃ[3]۔ |
چاروں مراتب میں سے ہر ایك میں لفظ اشھد بصیغہ مضارع بالاجماع لازم ہے،اور جس جگہ یہ لفظ شرط نہیں جیسے پانی کی طہارت اور چاند کی رؤیت تو وہ خبردیناہے نہ کہ شہادت۔ (ت) |
شروع شہادت سے پہلے یہ کہلوا لینا کہ"اشھد باﷲ"سچ کہوں گا،ہرگز کافی نہیں کہ وہ حلف ہے نہ کہ شہادت،اور"اشھد"کلام شہادت پر داخل ہونا لازم نہ کہ حلف پر،شاہدوں سے حلف لینا تو شرعًا جائز بھی نہیں کما فی الدر وغیرہ لانا امرنا باکرامھم (جیسا کہ دروغیرہ میں ہے کیونکہ ہمیں گواہوں کے احترام کا حکم دیا گیا ہے۔ت)ظاہر ہے کہ حکام وشہود خصوم وتمام حضار ان الفاظ کو حلف ہی سمجھتے حلف ہی کہتے حلف ہی کی نیت کرتے ہیں اور رکن شہادت وہ اشھد ہے جو بمعنی خبر ہو نہ وہ کہ بمعنی حلف وقسم ہے،تبیین الحقائق وعالمگیریہ میں ہے:
|
رکنھا لفظ اشھد بمعنی الخبردون القسم[4]۔ |
رکن شہادت لفظ اشھد ہے جبکہ خبر کی نیت سے ہو نہ کہ قسم کی نیت سے(ت) |
اشھد باﷲ سچ کہوں گا ایك قسم ہوگئی جس کا کفارہ بہت آسان ہے کلام شہادت پر اشھد داخل نہ ہو ا جس میں غلط گوئی موجبِ ہلاکت ہوتی،
[1] الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الشہادات ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱ /۳۸۶
[2] درمختار شرح تنویر الابصار الفن الثانی کتاب الشہادات مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۹۰
[3] درمختار شرح تنویر الابصار الفن الثانی کتاب الشہادات مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۹۱
[4] فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ تبیین الحقائق کتاب الشہادات نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۴۵۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع