30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ردالمحتار میں ہے:
|
قولہ او بلقبہ وکذا بصفتہ کما افتی بہ فی الحامدیۃ فیمن یشھد ان المرأۃ التی قتلت فی سوق کذافی یوم کذا فی وقت کذا قتلھا فلان تقبل بلابیان اسمھا و اسم ابیھا حیث کانت معروفۃ لم یشار کہا فی ذٰلك غیرہا[1]۔ |
صاحب درمختار کا قول او بلقبہ(یا اس کے لقب سے شناخت ہوجائے)ایسا ہی حکم ہے اس کی صفت کے ساتھ شناخت کا، جیسا کہ فتاوٰی حامدیہ میں اس پر فتوٰی دیا گیا ہے اس شخص کے بارے میں جو گواہی دے کہ فلاں دن،فلاں وقت،فلاں بازار میں جو عورت قتل کی گئی اس کو فلاں نے قتل کیا ہے تو اس عورت اور اس کے باپ کانام بیان کئے بغیر شہادت قبول کرلی جائے گی جبکہ وہ مقتولہ عورت مشہور ہو اور اس وصف میں اس کے ساتھ کوئی اور شریك نہ ہو۔(ت) |
عقود الدریہ میں ہے:
|
قالوافی ثبوت ھلال رمضان شھد واانہ شھد عند قاض مصر کذا شاہد ان برؤیۃ الہلال وقضی القاضی بھا،ووجد استجماع شرائط الدعوٰی قضی القاضی بشہادتہما فانظرواحفظکم اﷲ تعالٰی الی قولہم قاضی بلدۃ کذاولم یذکروا اشتراط اسم ابیہ وجدہ لانہ لایلتبس بغیرہ اذ القاضی فی ذٰلك الوقت واحد لا اثنان کما ھوا المعلوم[2] |
ہلال رمضان کے ثبوت کے بارے میں فقہاء نے کہا،گواہوں نے گواہی دی کہ فلاں شہر کے قاضی کے پاس دو گواہوں نے چاند دیکھنے کی شہادت دی اور قاضی نے ان کی شہادت پر فیصلہ دیا اور تمام شرائط دعوٰی پائی گئیں توقاضی ان کی گواہی پر فیصلہ کردے گا تو دیکھو اﷲ تعالٰی تمہاری حفاظت فرمائے ان کے اس قول کی طرف کہ انہوں نے کہا"فلاں شہر کا قاضی"اور اس کے باپ اور دادا کے نام کوذکر کرنے کی شرط کا تذکرہ انہوں نے نہیں کیا کیونکہ اس وقت شہر کا قاضی ایك ہی ہے نہ کہ دو جیسا کہ معلوم ہے۔(ت) |
اشباہ میں ہے:
|
تکفی النسبۃ الی الزوج لان المقصود |
عورت کی نسبت زوج کی طرف کرنا کافی ہے کیونکہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع