دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس بارہ میں کہ اس ملك میں اہل ہنود سے بیاج لیناجائز ہے یانہیں ؟ بعض کہتے ہیں کہ نصارٰی سے بوجہ اہل کتاب ہونے کے بیاج لینا نادرست ہے،ایسے خیال والوں کے پیچھے نماز پڑھنی درست ہے یا نہیں؟

الجواب:

سود مطلقطًا حرام ہے،

قال اللہ تعالٰی " وَحَرَّمَ الرِّبٰواؕ "[1]۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا:اور اللہ تعالٰی نے سود کو حرام کیا۔ (ت)

ہاں جو مال غیر مسلم سےکہ نہ ذمی ہو نہ مستامن بغیر اپنی طرف سے کسی غدر اور بدعہدی کے ملے اگرچہ عقود فاسدہ کے نام سے اسے اسی نیت سے نہ بہ نیت ربا وغیرہ محرمات سے لینا جائز ہے اگرچہ وہ دینے والا کچھ کہے یا سمجھے کہ ا سکے لئے اس کی نیت بہتر ہے نہ کہ دوسرے کی،لکل امرئ ما نوی [2](ہرشخص کےلئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔ت)پھر بھی جس طرح برے کام سے بچنا ضرور ہے برے نام سے بچنا بھی مناسب ہے ایاك وبالسوء الظن(بدگمانی سے بچ۔ت)ان تمام احکام میں مشرك ومجوسی و کتابی سب برابر ہیں جبکہ نہ ذمی و مستامن ہوں نہ غدر کیا جائے بلکہ یہی شرط کافی ہے کہ ان دونوں کو بھی حاوی ہے،واللہ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۱۵۱: ازقصبہ حسن پور ضلع مراد آباد مرسلہ محمد شیر علی خان مورخہ ۷ ذوالحجہ ۱۳۳۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین بدیں امر کہ ہر دو فریق کہ باہمی رضامندی پر سود(بیاج)کہاں تك جائزہے یانہیں،اور اگر نہیں تو کس صورت میں اور کیوں ؟مفصل تحریر فرمائیے۔

 

الجواب:

اگر باہمی رضامندی سے سود جائز ہوسکے گا تو زنا بھی جائز ہوسکے گا اور سور بھی جائز ہوسکے گا جبکہ سور کا مالك اس کے کھانے پر راضی ہو،اللہ ورسول کے غضب میں کسی کی رضامندی کو کیادخل،صحیح حدیث میں ہے فرمایا کہ سودکھانا تہتر بار اپنی ماں سے زنا کرنے سے زیادہ سخت ہے۔کیا باہمی رضامندی سے ماں کے ساتھ ۷۳ باز زنا جائز ہوسکتا ہے،واللہ تعالٰی اعلم

مسئلہ۱۵۲: ازشہر بانس منڈی مسئولہ محمد صدیق بیگ صاحب ۲۵محرم ۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سود کیا چیز ہے اور کس کس صور ت میں سود ہوجاتا ہے؟ بینواتوجروا۔

الجواب :

وہ زیادت کہ عوض سے خالی ہو اور معاہدہ میں اس کا استحقاق قرار پایا ہو سود ہے مثلًا سو روپے قرض دئے اور یہ ٹھہرالیا کہ پیسہ اوپر سولے گا تویہ پیسہ عوض شرعی سے خالی ہے لہٰذا سود حرام ہے واللہ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ۱۵۳: ازمدرسہ منظر الاسلام بریلی مسئولہ اختر حسین طالبعلم ۵/صفر ۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کسی پنواڑی یاسرمہ فروش کو دس یاپانچ روپے کوئی شخص دے اور اس سے کہے کہ جب تك میر اروپیہ تمہارے ذمہ رہے مجھے پان بقدر خرچ روزانہ کے دیا کرو اور جب روپیہ واپس کردو گے تو مت دینا یہ صورت جائز ہے یانہیں ؟اور نہیں تو جواز کی کون سی صورت ہے؟

الجواب:

یہ صورت خاص سود اور حرام ہے،سود کے جواز کی کوئی شکل نہیں۔واللہ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۱۵۴ تا۱۵۵: ازبریلی مسئولہ عزیز الدین خاں سوداگر ۲۷/شوال ۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسئلوں میں کہ:

(۱)ایك مسلمان اور ایك ہندو کو دس روپیہ کا نوٹ دیا آیا ہندو مسلمان دونوں سے اس کا نفع جو قرار پایا ہے لیاجائےگا یانہیں ؟

(۲)ہندو سے نقد قرض سودی لینا مسلمان کو جائز ہے یانہیں ؟ یا کچھ زیور رکھ کر روپیہ سودی لینا مسلمان کو ہندو سے جائز ہے یا نہیں ؟بینواتوجروا۔

 

الجواب:

(۱)دس کا نوٹ اگر زیادہ کو بیچا تو ہندو مسلمان دونوں سے لینا جائز اور اگر قرض دیا اور زیادہ لینا قرار پایا تو مسلمان سے حرام قطعی اور ہندو سے جائز جبکہ اسے سود سمجھ کر نہ لے۔واللہ تعالٰی اعلم۔

(۲)سود جس طرح لینا حرام ہے یونہی دینا بھی حرام جب تك سچی حقیقی مجبوری نہ ہو،زیور اگر اپنا ہے تو اسے رہن رکھ کر سودی روپیہ نکلوانا حرام کہ یہ مجبوری نہ ہوئی،زیور بیچ کیوں نہیں ڈالتا،اوراگردوسرے سے رہن رکھنے کے لے مانگ کرلیا ہے اور پاس کوئی ایسی چیز نہیں جسے بیچ کر کام نکال سکے اور قرض لینے کی سچی ضرورت و مجبوری ہے تو جائز ہے۔واللہ تعالٰی اعلم۔

 



[1]       القرآن الکریم ۲ /۲۷۵

            [2] صحیح البخاری کتاب الایمان باب ماجاء ان الاعمال بالنیۃ والحسبۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۱۳

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن