دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

الجواب:

سود لینا قطعًا حرام ہے،اللہ عزوجل نے مطلقًا فرمایا:

"وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰواؕ- "[1]

اللہ نے حلال کی بیع اور حرام کیا سود۔

اس میں رب العزت جل جلالہ نے کوئی تخصیص نہ فرمائی کہ فلاں سے سود لینا حرام اور فلاں سے حلال ہے بلکہ مطلقًا حرام فرمایا،اور وہ مطلقًا ہی حرام ہے کافر سے ہو خواہ مسلم سے۔ہاں اپنا کسی پر آتا ہوا یا اور کوئی مال جائزشرعی کسی حیلہ شرعیہ سے حاصل کرنا دوسری بات ہے والتفصیل فی فتاوٰنا(اور تفصیل ہمارے فتاوٰی میں ہے۔ت)واللہ سبحانہ و تعالٰی اعلم۔

مسئلہ۱۴۷: ازمارہرہ ضلع ایٹہ مرسلہ حضرت سید ارتضا حسین صاحب ۱۴رجب ۱۳۱۶ھ

بنك سے سود لینا جائز یا ناجائز؟ زیادہ نیاز

الجواب:

سود لینا مطلقًا حرام ہے،قال اللہ تعالٰی" وَحَرَّمَ الرِّبٰواؕ "[2](اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا:اور اللہ تعالٰی نے سود کو حرام کیا۔ ت)واللہ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ۱۴۸: ۸/جمادی الاولٰی ۱۳۱۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے عہ ۱۰ روپے کا مال اپنے روپیہ سے عمرو کو دلوادیا اور کہا کہ میں تم سے لہ عہ۱۱/ لوں گا اس میں نفع جائز ہے یانہیں ؟ بینواتوجروا۔

 

الجواب:

نراسود اور حرام ہے،واللہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۱۴۹: ازاوجین مرسلہ حاجی محمد یعقوب علی خان صاحب ۲۴/شعبان ۱۳۱۵ھ

جب جنس و قدر دونوں پائے جائیں تو امام اعظم کے نزدیك نسیہ و فضل دونوں حرام ہیں تو اگر کوئی ایك من گیہوں ایك من گیہوں سے دست بدست بیچے تو اس تجارت میں بائع و مشتری کو کیا فائدہ ہوا اور اس سے یہ بھی پایا گیا کہ کسی کو گیہوں یا جو یا جوار یا چنا وغیرہ کی ضرورت پڑی اور ا س نے اس سے کہا کہ مجھ کو ایك من گیہوں وغیرہ بطریق ادھار دے دے میں تجھ کو چند روز میں دے دوں گا تو یہ بھی سود میں داخل ہوگیا اور یہ ضرورت ہر کس و ناکس کو پیش آتی ہے اس مسئلہ میں جو حکم تحقیق ہو بیان فرمائیں۔بینواتوجروا۔

الجواب:

قرض تو ایك دوسرا عقد ہے بیع کے سوا جسے شرع مطہر نے حاجات ناس کے لئے جائز فرمایا غلہ کیا،بڑا قرض تو روپے کا ہوتا ہے روپیہ خود اموال ربویہ سے ہے کہ روپے کے عوض روپیہ یا چاندی ہو تو قدر و جنس دونوں موجود اور فضل و نسیہ دونوں حرام مگر روپیہ قرض لینا جائز ہی ہے اور خود غلہ قرض لینا صحیح حدیث میں حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ثابت ہے اور رب العزت جل وعلا فرماتا ہے:

" یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوْهُؕ-"[3] الآیۃ۔

اے ایمان والو! جب تم ایك مقررہ مدت تك کسی دین کا لین دین کرو تو اس کو لکھ لیا کرو۔(ت)

اور اموال ربویہ میں شرع مطہر نے وصف کا اعتبار ساقط فرمایا ہے ولہٰذا ان کا جید و ردی یکساں ہے اور اختلاف اوصاف اختلاف اغراض وحاجات ناس کا باعث ہوسکتا ہے مثلًا ایك قسم کی چیز زید کو مطلوب ہے اس کے پاس اس قسم کی نہیں دوسری قسم کی ہے اور اس قسم کی شیئ عمرو کے پاس ہے اسے اس قسم کی مطلوب ہے جو زید کے پاس ہے تو باہم دست بدست یکساں برابر مبادلہ کرکے ہر ایك اپنے مطلوب کو پہنچ سکتا ہے معہذا یہ صورت بھی ہے کہ مثلًا زید کے منہ سے قسم نکل گئی کہ یہ گیہوں جو اپنے پاس ہیں نہ کھائے گا اب اگر وہ ان گیہوں کو عمرو کے گندم سے دست بدست برابر بدل لے

 

تو قسم بھی پوری ہوگی اور کوئی حرج بھی لازم نہ آئے گا۔علاوہ بریں شرع نے دست بدست برابر بیع کرنا واجب تو نہ کیا یہ فرمایا ہے کہ اگر ان چیزوں کی باہم بیع کرنی ہو تو یوں کرو جسے نہ کرنی ہو نہ کرے کوئی شرعی ایجاب تو نہیں۔واللہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم

مسئلہ ۱۵۰: ازلاہورمسجد بیگم شاہی مرسلہ مولوی احمد الدین صاحب یکم ذی القعدہ ۱۳۳۸ھ

 



[1]       القرآن الکریم ۲/ ۲۷۵

[2]       القرآن الکریم ۲/ ۲۷۵

[3]       القرآن الکریم ۲ /۲۸۲

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن