دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

 

ولاولایۃ وقت الادانۃ اصلا اذ لا قدرۃ للقاضی فیہ علی من ھو فی دارالحرب [1] الخ۔

اعتماد کرتی ہے جبکہ ادانت(مدیون بناتے)وقت کی ولایت تو یہاں بالکل نہیں کیونکہ اس میں قاضی کو اس شخص پر قدرت نہیں جو دارالحرب میں ہے الخ(ت)

پس ثابت ہوا کہ کوئی حرام بوجہ انتفائے شرف دار حلال نہیں ہوسکتا اور دارالحرب میں کسی شے کی حلت فی نفسہ اس کی حلت ہے کہ باختلاف دارمختلف نہ ہوگی،رہا وہاں امور مذکورہ کا حلال ہونا وہ ہر گز اس بناء پر نہیں کہ یہ محرمات وہاں حلال ہیں بلکہ وجہ یہ کہ ان محرمات کی حقیقت عصمت و محظوریت پر مبنی کما نص علیہ فی المبسوط کما تقدم(جیسا کہ اس پر مبسوط میں نص کی گئی ہے جیسے گزر چکا ہے۔ت)اور وہ وہاں معدوم تو حقیقۃً ان کی حقیقت ہی ان صورتوں میں منتفی اگرچہ مجرد صورت و اسم باقی ہو اور حکم حقیقت پر ہے نہ کہ اسم و صورت پر کما لایخفی(جیساکہ پوشیدہ نہیں۔ت)اور اگر یہ مقصود کہ امور مذکورہ اگرچہ حقیقۃً محرمات نہیں مگر دارالاسلام میں بوجہ شرف دار ان کا صرف نام و صورت ہی حرام،تاہم بالیقین باطل کہ بداہۃً مدار احکام حقائق ہیں نہ کہ اسم بے مسمی،ورنہ معاملہ مولی وعبدوشرکاء مفاوضہ وشرکاء عنان کہ اسم مجردوہاں بھی موجود،ہر گز جائز نہ ہوتا،نہ مسئلہ ظفر بالحق میں اخذ بالجبر و اخذ خفیۃ کی اجات ہوتی کہ صورت غصب و سرقہ یقینا ہے گو حقیقت بوجہ عدم محظوریت منتفی صورت سرقہ کا جواز تو عبارات سابقہ میں گزرا اور صورت غصب کی حلت یہ ہے:

قال فی الدر وحیلۃ الجوازان یعطی مدیونہ الفقیر زکاتہ ثم یاخذھا عن دینہ ولو امتنع المدیون مدیدہ واخذھالکونہ ظفر بجنس حقہ[2]۔

درمیں کہا جواز کا حیلہ یہ ہے کہ دائن اپنے فقیر مدیون کو اپنی زکوٰۃ دے پھر دین کے عوض اس سے وہی دی ہوئی زکوٰۃ لے لے اگر مدیون رکاوٹ ڈالے تو اسکا ہاتھ پکڑے اور جبرًا لے لے کیونکہ یہ اپنے حق کی جنس وصول کرنے پر کامیابی ہے۔ (ت)

وبالجملہ یہ دونوں مقدمے کہ دار الحرب حرام کوحلال نہیں کرتی اور دارالاسلام کسی ایسے اسم بے مسمی کو حرام نہیں فرماتی، تصریحات بے شمار سے واضح آشکار،تو مانحن فیہ میں تفرقہ بین دار ودار کی طرف کوئی سبیل نہیں۔یونہی صورت غصب و سرقہ و نام عقد فاسد سے فرق ناممکن کہ اگرمجرد العلم و صورت محرم ہو توغصب و سرقہ کیوں محرم نہ ہوئے اور نہ ہو تو نام عقد فاسد کیوں حرام کرنے لگا بلکہ غصب وسرقہ تو عقد فاسد سے اشد و اخبث ہیں کہ یہ بعد

 

قبض مفید ملك ہوجاتے ہیں اگرچہ بروجہ خبیث،اور وہ اصلًا مورث ملك نہیں،ھذاماعندی والعلم بالحق عند ربی(یہ وہ ہے جو میرے پاس ہے اور حق کا علم میرے پروردگار کے پاس ہے۔ت)واللہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔

مسئلہ ۱۴۱: ازشہرکہنہ ۲۹ربیع الاول شریف ۱۳۱۳ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے کچھ روپے بکر سے مدت معینہ پر قرض لئے اور وقت روپیہ لینے کے کچھ ذکر سود وغیرہ کا نہ ہوا بلکہ زید نے صاف کہہ دیا کہ بلا سود ی لیتا ہوں اور وقت دینے روپے کے کچھ اور روپے بدلے اس کے احسان کے زیادہ کردئیے،تو یہ روپے جو زیادہ دئیے یہ سود میں داخل ہیں یا طریقہ سنت کا ہے یا مستحب ہے؟بینواتوجروا۔

الجواب:

جبکہ زیادہ دینا نہ لفظًا موعود نہ عادۃً معہود،تو معنی ربا یقینًا مفقود خصوصًا جبکہ خود لفظوں میں نفی ربا کا ذکر موجود،بلکہ یہ صرف ایك نوع احسان و کرم و مروت ہے اور بیشك مستحب وثابت بہ سنت

لحدیث صحیح البخاری وصحیح مسلم وعن جابر بن عبداللہانصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما قال اتیت النبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ وکان لی علیہ دین فقضانی وزادنی [3](ملخصا)ولحدیثہما عن ابی ھریرۃ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ قال کان لرجل علی النبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سن من الابل فجاءہ یتقاضاہ فقال اعطوہ فطلبوا سنہ فلم یجد وا لہ الاسنا فوقھا

صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی حدیث کی وجہ سے کہ سیدنا حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ میں حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا میراآپ پر کچھ قرض تھا آپ نے وہ ادا فرمادیا اور کچھ زیادہ بھی مجھے عنایت فرمایا۔اور ان دونوں کی اس حدیث کی وجہ سے کہ سیدنا حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا کہ ایك شخص کا نبی اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایك عمر کا اونٹ قرض تھا وہ شخص خدمت اقدس میں آیا اور قرض کا تقاضا کرنے لگا،حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے صحابہ کو حکم دیا کہ اس کو اونٹ دے دو،

 

فقال اعطوہ فقال او فیتنی او فاك اللہ فقال النبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ان خیارکم احسنکم قضاء[4] و لحدیث قولہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم لوزان زن و ارجح [5]رواہ احمد والاربعۃ وابن حبان والحاکم عن سویدبن قیس العبدی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ قال الترمذی حسن صحیح وقال الحاکم صحیح وھذا الوزان فی مکۃ و رواہ الطبرانی فی الاوسط [6]وابویعلی فی المسند وابن عساکر عن ابی ھریرۃ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ وھذالوزان فی المدینۃ۔

 



[1]         تبیین الحقائق باب المستامن المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۳/ ۲۶۶

[2]         درمختار کتاب الزکوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۳۰

[3]      صحیح البخاری کتاب الاستقراض باب حسن القضاء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۲۲

[4]         صحیح البخاری کتاب الاستقراض باب حسن القضاء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۲۲

[5]         مسند امام احمد بن حنبل حدیث سوید بن قیس رضی اﷲ عنہ دارالفکر بیروت ۴ /۳۵۲،جامع الترمذی ابواب البیوع ۱/ ۱۵۶ والمستدرك کتاب البیوع ۲ /۳۰

[6]         المعجم الاوسط حدیث۶۵۹۰ المکتبۃ المعارف الریاض ۷ /۳۰۷

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن