30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فان العباد ﷲ والبلاد ﷲ والحکم ﷲ والملك ﷲ، " تَبٰرَكَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ لِیَكُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَ ﰳاۙ (۱) "[1] ، وقال اللہ تعالٰی " وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ کیونکہ تمام بندے اور شہر اللہ تعالٰی کے ہیں،حکم اور بادشاہی اللہ تعالٰی کی ہے،برکت والا وہ ہے جس نے حق و باطل میں فرق کرنیوالی کتاب اپنے بندے پر نازل فرمائی تاکہ وہ تمام جہانوں کے لئے ڈرسنانے والا ہوجائے،اور اللہ تعالٰی نے فرمایا:اور جہاں کہیں تم ہو اپنے
شَطْرَهٗؕ- "[2]" وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ "[3]وقال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جعلت لی الارض مسجد او طہور افا یمارجل من امتی ادرکتہ الصلاۃ فلیصل[4]۔
چہروں کو مسجد حرام کی طرف پھیرلو۔اور اللہ تعالٰی نے فرمایا:ان کو قتل کرو جہاں کہیں ان کو پاؤ۔اور رسو ل اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ میرے لئے زمین کو مسجد اور پاك کرنیوالی بنادیا گیا ہے چنانچہ میری امت کے کسی شخص پر جب نماز کاوقت ہوجائے تو نماز پڑھے(جہاں بھی ہو)۔(ت)
یہاں تك کہ مذہب معتمد میں کفار خود بھی مخاطب بالفروع ہیں
حتی العبادات اداء واعتقادا فیعذبون علی ترك الاداء ایضا،لقولہ تعالٰی قالوالم نك من المصلین الی قولہ تعالٰی وکنا نکذب بیوم الدین [5]۔
یہاں تك کہ عبادات کی ادائیگی اور اعتقاد کے اعتبار سے چنانچہ ادائیگی چھوڑنے پر بھی ان کو عذاب دیا جائے گا بدلیل اللہ تعالٰی کے اس ارشاد کے کہ وہ کفار کہیں گے ہم نمازی نہیں تھے(اس لئے عذاب میں مبتلا ہیں)اللہ تعالٰی کے ارشاد" اور ہم قیامت کے دن کو جھٹلاتے تھے"تک(ت)
آخر دارالحرب میں غدر بالاجماع حرام یونہی زنا لعدم جریان الاباحۃ فی الابضاع(کیونکہ شرمگاہوں میں اباحت جاری نہیں ہوتی۔ت)فتح میں مبسوط سے بعد عبارت مذکورہ منقول،
وبخلاف الزنا ان قیس علی الربا لان البضع لا یستباح بالاباحۃ بل بالطریق الخاص اما المال فیباح بطیب النفس بہ واباحتہ [6]۔ بخلاف زنا کے اگر اس کو سود پر قیاس کیا جائے کیونکہ فرج (شرمگاہ)اباحت سے مباح نہیں ہوتی بلکہ خاص طریقے (نکاح)سے،رہا مال تو وہ خوشدلی سے دینے کے سبب سے اور اباحت سے مباح ہوجاتا ہے(ت)
ولہٰذا مسلم مستامن سے عقد ربا قطعًا حرام اگرچہ شرف دار منتفی ہے لوجود العصمۃ(عصمت کے پائے جانے کی وجہ سے۔ت) اور مسلم غیر مہاجر سے حلال لانعدام العصمۃ(عصمت کے معدوم ہونے کی وجہ سے۔ت)درمختار میں ہے:
وحکم من اسلم فی دار الحرب ولم یھاجر کحربی فللمسلم الربٰو معہ خلافا لھما لان مالہ غیر معصوم فلو ھا جرالینا ثم عاد الیہم فلا ربا اتفاقا،جوھرۃ[7]۔
جو شخض دارالحرب میں اسلام لایا اور ہجرت نہ کی اس کا حکم حربی والا ہے یعنی مسلمان اس سے سود لے سکتا ہے بخلاف صاحبین کے،کیونکہ اس کا مال معصوم نہیں،اگر وہ ہجرت کرکے ہماری طرف یعنی دارالاسلام میں آگیا پھر ان کی طرف یعنی دارالحرب میں لوٹ گیا تو اب بالاتفاق سودنہیں(یعنی سود جائزنہیں)جوہرہ (ت)
تو ہر زمین و بقعہ بالیقین محل جریان احکام الٰہیہ جل وعلا ہے ہاں احکام قضا دارالحرب بلکہ دار البغی میں بھی بسبب انقطاع ولایت نافذ نہیں ان کے عدم سے حلت وحرمت فی نفسہا مختلف نہیں ہوسکتی،و لہٰذا علماء نے جہاں حکم قضا کی نفی فرمائی اس کے ساتھ ہی حکم دیانت کا اثبات فرمایا،
فی الدر ادانہ حربی او بعکسہ او غصب احدھما صاحبہ و خرجا الینا لم نقض لاحد بشیئ ویفتی المسلم برد المغصوب دیانۃ لاقضاء لانہ غدر،وکذا الحکم فی حربیین فعلا ذٰلك ثم استامنا لما بینا اھ [8]ملخصا۔
درمختار میں ہے:حربی نے مستامن کو مدیون کیا یا اس کے برعکس یعنی مسلمان مستامن نے حربی کو مدیون کیا یا ان میں سے ایك نے دوسرے کا مال غصب کیا اور دونوں ہماری طرف یعنی دارالاسلام میں نکل آئے تو ہم ان میں سے کسی کیلئے کسی شے کا حکم نہیں کرینگے اور مسلمان کو رد مغصوب کا فتوٰی دیا جائیگا دیانت کے اعتبار سے نہ کہ قضا ء کے اعتبار سے،کیونکہ دین کی عدم ادائیگی دھوکہ ہے،اور یہی حکم ان دو حربیوں کا ہے جنہوں نے فعل مذکور کیا پھر(دارالاسلام میں داخل ہوکر)مستامن ہوگئے اسی دلیل کی وجہ سے جس کو ہم نے بیان کیا اھ تلخیص(ت)
تبیین الحقائق میں ہے:
لان القضاء یستدعی الولایۃ ویعتمدھا
کیونکہ قضاء ولایت کا تقاضا کرتی ہے اوراس پر
[1] القرآن الکریم ۲۵/ ۱
[2] القرآن الکریم ۲/ ۱۴۴
[3] القرآن الکریم ۲/ ۱۹۱ و ۴ /۹۱
[4] السنن الکبرٰی للبیہقی کتاب الصلوٰۃ باب اینما ادرکتك الصلوٰۃ دارصادر بیروت ۲/ ۴۳۳
[5] القرآن الکریم ۷۴/ ۴۳ تا ۴۶
[6] فتح القدیر باب الربا مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۱۷۸
[7] درمختار باب الربا مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۴۳
[8] درمختار باب المستامن مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۴۶
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع