30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لیس لذی الحق ان یاخذ غیر جنس حقہ وجوزہ الشافعی وھو الاوسع[1]۔
صاحب حق کےلئے روا نہیں کہ اپنے حق کی جنس کا غیر لے جبکہ امام شافعی رحمۃ تعالٰی علیہ نے اس کو جائز قرار دیا اور اس میں زیادہ وسعت ہے(ت)
ردالمحتا رمیں ہے:
قولہ وجوزہ الشافعی قدمنافی کتاب الحجر ان عدم الجواز کان فی زمانھم اما الیوم فالفتوی علی الجواز اھ [2] وفیہ من کتاب الحجر
ماتن کا قول کہ"امام شافعی نے اس کو جائز قرار دیا"ہم اس کو کتاب الحجر میں بیان کرچکے ہیں کہ عدم جوازانکے زمانے میں تھالیکن آج کل فتوٰی جواز پر ہے اھ،اور اسی میں کتاب الحجر
عن العلامۃ الحموی عن العلامۃ المقدسی عن جدہ الجمال الاشقر عن الامام الاخصب انہ قال فی شرح القدوری ان عدم جواز الاخذ من خلاف الجنس کان فی زمانھم لمطاوعتھم فی الحقوق والفتوی الیوم علی جواز الاخذ عند القدرۃ من ای مال کان لاسیما فی دیارنا لمداومتہم العقوق[3]اھ۔
میں علامہ حموی سے منقول ہے انہوں نے علامہ مقدسی سے انہوں نے اپنے دادا جمال اشقر سے انہوں نے امام اخصب سے نقل کیا انہوں نے شرح قدوری میں کہا کہ تحقیق غیر جنس سے حق لینے کا عدم جواز ان کے زمانے میں تھا حقوق میں ان کی پاسداری کی وجہ سے جبکہ آج کل فتوٰی جواز پر ہے جب کسی بھی مال سے لینے پر قادر ہو خصوصًا ہمارے شہروں میں بسبب ان کی دائمی نافرمانی کے اھ(ت)
تنویر الابصار میں ہے:
من لہ حظ فی بیت المال ظفر بما وجد لبیت المال فلہ اخذہ دیانۃ[4]۔
جس کا بیت المال میں حق ہو اور اس نے بیت المال کا مال پایا دیانت کے اعتبار سے اس کو لینا جائز ہے۔(ت)
درمختار میں ہے:
وللمودع صرف ودیعۃ مات ربھا ولاوارث لنفسہ او غیرہ من المصارف[5]۔ جس کے پاس ودیعت رکھی گئی ہے وہ ودیعت کو اپنی ذات یا دیگر مصارف میں صرفکرسکتا ہے جبکہ ودیعت رکھنے والا فوت ہوگیا ہو اور اس کا کوئی وارث نہ ہو۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
عن شرح الوھبانیۃ عن البزازیۃ عن الامام الحلوانی لانہ لواعطاھا لبیت المال لضاع لانھم
شرح وہبانیہ میں بحوالہ بزازیہ امام حلوانی سے منقول ہے، اس لئے کہ اگر اس نے ودیعت بیت المال کو دے دی تو وہ ضائع ہوجائیگی
لایصرفون مصارفہ فاذا کان من اھلہ صرفہ الی نفسہ وان لم یکن من المصارف صرفہ الی المصرف [6] اھ۔
کیونکہ بیت المال والے مصارف میں خرچ نہیں کرتے لہٰذا اگر وہ خود مصارف میں سے ہے تو اپنی ذات پر صرف کرے اور اگر وہ خود مصارف میں سے نہیں ہے تو کسی اور مصرف میں خرچ کرے اھ(ت)
ان تقریروں سے خوب روشن ہوگیا کہ حاش ﷲ ہمارے ائمہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے ہر گز کسی صورت ربا کو حلال نہ ٹھہرایا یہ غیرمقلدوں کا محض افتراء ہے بلکہ ان مواقع میں کہ حکم جواز ہے وجہ یہ کہ وہ ربا ہی نہیں اپنا حق یا کوئی مال مباح ایك ذریعہ جائزہ سے حاصل کرنا ہے اگرچہ بضرورت و مصلحت اس شخص نے اسے کسی لفظ سے تعبیر کیا ہو،ولہٰذا علماء ان مسائل میں لاربا(کوئی سود نہیں۔ت)فرماتے ہیں نہ لا یحل الربا(سود حلال ہے۔ت)والعیاذ باللہ تعالٰی۔
تنبیہ:اگرچہ ہمارے کلام سابق سے متبین ہوا کہ مسلم و حربی میں دارالحرب میں نفی ربا بربنائے انتفائے عصمت ووجود اباحت ہے نہ بربنائے انتفائے شرف دار مگر ہم تتمیم فائدہ کو ا س مطلب کی مزید تو ضیح کرتے ہیں فاقول: وباللہ التوفیق(پس میں کہتا ہوں اوراللہ تعالٰی ہی سے توفیق ہے۔ت)اگر اس سے یہ مقصود کہ تحریم محرمات بوجہ شرف دار تھی دارالحرب میں کہ یہ شرف مفقودحرمت مفقود،ولہٰذا وہاں غصب وربا حلال وموجب ملك ہے تو بداہۃً باطل،احکام الٰہیہ دارٍ دون دارٍ(ایك ملك سوائے دوسرے ملك کے۔ت)پر موقوف نہیں،نہ اختلاف زمین کسی حرام شیئ کو حلال کرسکتا ہے،
[1] درمختار کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۵۳
[2] ردالمحتار کتاب الحظر والاباحۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۷۱
[3] ردالمحتار کتاب الحجر داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۹۵
[4] درمختار شرح تنویر الابصار کتاب مسائل شتی مجتبائی دہلی ۲/ ۳۴۳
[5] درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الزکوٰۃ باب العشر مجتبائی دہلی ۱/ ۱۴۰
[6] ردالمحتار کتاب الزکوۃ باب العشر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۵۶
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع