30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پھر اگر مصلحت ہو تو یہ قباحت بھی نہ رہے گی،
کقول سیدنا ابراہیم علٰی نبینا الکریم وعلیہ وعلٰی سائر الانبیاء افضل الصلٰوۃ
جیسا کہ سیدتنا حضرت سارہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما کے بار ے میں سیدنا حضرت ابراہیم کا فرمانا
والتسلیم لسیدتنا سارۃ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما انہا اختی[1]۔
کہ بیشك یہ میری بہن ہے،ہمارے نبی کریم،حضرت ابراہیم اور تمام انبیاء کرام پر بہترین دور وسلام ہو۔(ت)
پھر علماء نے تو یہاں مصلحت اخذ مباح تك معتبر رکھی نہ کہ مصلحت احیائے حق وازالہ مظالم کے بالبداہۃ اس سے ازید واتم ہے اور بالفرض کوئی مصلحت نہ بھی ہو تاہم اس مال کے حل و طیب میں اصلًا شك نہیں،
کما علمت وقد انتظمہ اطلاق قولھم لاربابین المولٰی وعبدہ ولا بین شریکی المفاوضۃ والعنان کما لا یخفی۔
جیسا کہ تو جان چکا ہے،اور تحقیق فقہاء کے اس قول کا اطلاق اس کو شامل ہے کہ مالك و غلام کے درمیان اور مفاوضہ و عنان کے دو شریکوں کے درمیان کوئی سود نہیں جیساکہ پوشیدہ نہیں۔(ت)
اور یہیں سے ظاہر ہوگیا کہ اس مسئلہ میں ماخوذ منہ کاکافر حربی خواہ محل اخذ کادارالحرب ہونا ضرور نہیں کما تشھد بہ مسائل المولی والشرکاء(جیسا کہ مالك اور شریکوں کے مسئلے اس پر گواہ ہیں۔ت)صرف انتفائے حقیقت و قصد ربا،درکار ہے کہ اس کے بعد نہ عنداللہ ارتکاب حرام نہ اپنے زعم میں مخالفت شرع پر اقدام،علماء نے کہ مسئلہ حربی میں قید دارالحرب ذکر فرمائی اس کا منشاء اخراج مستامن ہے کہ اس کا مال مباح نہ رہا۔ردالمحتار میں ہے:
قولہ ثم ای فی دارالحرب قید بہ لانہ دخل دار نا بامان فباع منہ مسلم درھما بدرھمین لایجوز اتفاقا ط عن المسکین [2]۔
ماتن کا قول"وہاں یعنی دارالحرب،یہ قید اس لئے کہ اگر کوئی حربی ہمارے ملك میں امان لے کر داخل ہوا پھر کسی مسلمان نے اس کے ہاتھ ایك درہم دو درہموں کے عوض فروخت کیا تو بالاتفاق ناجائز ہے ط نے مسکین سے نقل کیا۔ (ت)
ہدایہ میں ہے:
لاربا بین المسلم والحربی فی دارالحرب بخلاف المستامن منھم لان مالہ
مسلمان اور حربی کے درمیان دارالحرب میں کوئی سود نہیں بخلاف حربی مستامن کے کیونکہ
صار محظورا بعقد الامان اھ [3] ملخصا۔
عقد امان کی وجہ سے اس کا مال ممنوع ہوگیا اھ تلخیص(ت)
فتح القدیر میں مبسوط سے ہے:
اطلاق النصوص فی المال المحظور وانما یحرم علی المسلم اذاکان بطریق الغدر فاذالم یاخذ غدر فبای طریق اخذہ حل بعد کونہ برضا،بخلاف المستامن منھم عندنا لان مالہ صار محظورابالامان فاذا اخذہ بغیرالطریق المشروعۃ یکون غدرا[4]۔
نصوص کااطلاق ممنوع مال میں ہے حربی کا مال مسلمان پر صرف اس صورت میں حرام ہوتا ہے جب وہ دھوکے سے لے،چنانچہ جب اس نے دھوکہ کے بغیر لیا چاہے جس طریقے سے لیا ہو تو اس کےلئے حلال ہے بشرطیکہ اس حربی کی رضامندی سے لیا ہو بخلاف حربی مستأمن کے دارالاسلام میں کیونکہ اس کا مال امان کی وجہ سے ممنوع ہوگیا لہٰذا ا سکو اگر جائز طریقے کے علاوہ لیا ہو تو دھوکہ ہوگا۔(ت)
بالجملہ حقیقت ربا اموال محظورہ میں متحقق ہوتی ہے کما سمعت اٰنفا(جیسا کہ تونے ابھی سنا ہے۔ت)اور مال اصحاب دیون و مظالم بقدر دیون و مظالم محظور اگر جنس حق سے ہو جیسا کہ اکثر صور مستفسرہ میں ہے تو بالاجماع ورنہ علی المفتی بہ لفساد الزمان،
درمختار میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع