30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے لہٰذا یہ اس کےلئے حلال ہے،قیدی اور مستامن برابر ہیں،یہاں تك کہ اگر کسی نے ان پر دو درہموں کے عوض ایك درہم بیچا یا کچھ درہموں کے عوض مردار بیچا یا جوئے کے ذریعے ان کا مال لے لیا تو یہ سب اس کے لئے حلال ہے اھ تلخیص۔(ت)
اور حضرت امیر المومنین امام المتقین سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا کفار مکہ سے بنام شرط باجازت حضور پر نور سید عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مال حاصل فرمانا حالانکہ شرط شرعًا روا نہیں،دلیل واضح ہے
کہ نام ناجائز امر جائز کوناجائز نہیں کردیتا،
کما افادہ فی الفتح وغیرہ نقلاعن المبسوط مستد لالمذھبنا فی ھذاالباب۔
جیسا کہ مبسوط سے نقل کرتے ہوئے فتح وغیرہ میں اس کا فائدہ دیا ہے اس باب میں ہمارے مذہب سے استدلال کرتے ہوئے۔(ت)
تو احیائے حق ثابت مجرد کسی اسم بے مسمی کے باعث کیونکر ممنوع ہوسکتا ہے،
ھذامایعرفہ کل فقیہ والمسئلۃ مسئلۃ الظفر المنصوص علیہا فی الوھبانیۃ و القنیۃ والدروغیرہا۔
یہ وہ ہے جس کو ہر فقیہ جانتا ہے اور مسئلہ تو مسئلہ ظفر ہے جس پر وہبانیہ،قنیہ اور در وغیرہ میں نص کی گئی ہے(ت)
زیادت ایضاح مقام یہ ہے کہ اصل حکم حقائق پر ہے نہ کہ الفاظ پر،مثلًا اگر کوئی شخص زید سے اپنا آتا ہو الے اور اس کا نام ربا رکھے تو وہ ربا یا حرام نہ ہوجائے گا یا دو قسم کے قرض ہوں ایك کی قسطوں کے ساتھ دوسرے کا بھی ایك حصہ برضائے مدیون خواہ بحالت انکار بلا رضالے لیا کرے تو وہ بھی ہر گز ربا نہیں ہوسکتا اگرچہ بلفظ ربا تعبیر کرے کہ حقیقت ربا یعنی فضل خالی عن العوض مستحق بالعقد(وہ عوض جو ایسی زیادتی سے خالی ہو جس کا استحقاق بذریعہ عقد ہو۔ت)اس پر صادق نہیں، ہاں اگر یہ اپنی جہالت سے اسے حقیقت ربا سمجھے اور یہی جان کراس کے لینے کا مرتکب ہو تو اگرچہ سود لینے کا اس پر گناہ نہیں کہ جو اس نے لیا وہ سود عنداللہ نہیں مگر بقصد مخالفت شرع کسی فعل کا کرنا ضرور اس کے حق میں معصیت جدا گانہ ہوگا کہ یہ تو اپنے زعم میں حکم الٰہی کا خلاف ہی کررہا ہے،ولہٰذا علماء فرماتے ہیں اگر دور سے کسی کپڑے کو زن اجنبیہ سمجھ کر بہ نگاہ بد اس کی طرف نظر کرے گا گنہگار ہوگا اگرچہ واقع میں وہ خالی کپڑا ہے کہ یہ تو اپنے نزدیك نافرمانی خدا پر اقدام کررہا ہے،میزان الشریعۃ الکبری کتاب البیوع باب مایجوز بیعہ ومالایجوز میں ہے:
لو نظر انسان الی ثوب موضوع فی طاق علی ظن انہ امرأۃ اجنبیۃ فانہ یحرم علیہ[1]۔
اگر کسی انسان نے طاق میں رکھے ہوئے کپڑے کو اجنبی عورت سمجھ کر نظر بد سے دیکھا تو یہ اس کےلئے حرام ہے(ت)
اور جب یہ دونوں نہ ہوں تو رہا نرانام،تو وہ بھی جب بے ضرورت وحاجت محض بطور لہو ولعب وہزل
ہومکروہ ہونا چاہئے جیسے اپنی عورت کو ماں یا بہن کہنا کہ اس کا نام رکھنے سے نہ وہ حقیقۃً اس کی ماں بہن ہوجائے گی،
" اِنْ اُمَّهٰتُهُمْ اِلَّا اﻼ وَلَدْنَهُمْؕ "[2]
نہیں ہیں ان کی مائیں مگر وہ جنہوں نے ان کو جنا۔(ت)
نہ اس کی مقاربت میں ا س پر اصلًا کوئی مواخذہ کہ اس کہنے سے وہ اس پر حرام نہ ہوگئی،
ابوداؤد فی سننہ عن ابی تمیمۃ الھجیمی ان رجلا قال لامرأتہ یااختی فقال رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اختك ھی فکرہ ذٰلك ونہی عنہ[3]،قال فی الفتح الحدیث افادکونہ لیس ظہارا حیث لم یبین فیہ حکما سوی الکراھۃ والنھی [4]۔
امام ابوداود نے اپنی سنن میں ابوتمیمہ ہجیمی سے روایت کیا کہ ایك مرد نے اپنی بیوی کو کہا کہ اے میری بہن،تو رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کیا یہ تیری بہن ہے، آپ نے اس کی اس بات کو ناپسند جانا اور اس سے منع فرمایا۔ فتح میں کہا کہ حدیث اس قول کے ظہار نہ ہونے کا فائدہ دیتی ہے کیونکہ ا س میں ناپسند یدگی اور ممانعت کے سوا کوئی حکم بیان نہیں کیا گیا۔(ت)
ہاں صرف اتنی قباحت ہوگی کہ اس نے بے کسی ضرورت و مصلحت کے ایك جائز حلال شے کو حرام نام سے تعبیر کیا،
کما قال اللہ تعالٰی" وَ اِنَّهُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَ زُوْرًاؕ- "[5]۔
جیساکہ اللہ تعالٰی نے فرمایا:اور بیشك وہ بری بات اور جھوٹ کہتے ہیں۔(ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع