30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قال اللہ تعالٰی " وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- "[1]۔
اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا:گناہ اورظلم پر تعاون مت کرو۔ واللہ تعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ۱۳۲: ۱۵ ذی الحجہ ۱۳۰۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے کچھ روپیہ سودی نکلوایا دو شخص ضامن ہوئے اب گناہگار زیادہ کون ہے؟ وہ شخص جس نے سود پر دیا اب تو بہ کرتا ہے اور سود کو واپس دینا چاہتا ہے تو یہ توبہ اسکی قبول ہوگی یانہیں ؟ اور وہ سود کے گناہ سے پاك ہوگا یانہیں ؟بینواتوجروا۔
الجواب:
بغیر سخت مجبوری کے جسے شرع بھی مجبور کہے سودی قرض لینا حرام ہے،اور اسی طرح اس کے کام میں کسی طرح کی شرکت ہو باعث گناہ ہے،اور حدیث صحیح میں:ھم سواء[2]فرمایا یعنی وہ سب نفس گناہ میں برابر ہیں،اور سود سے توبہ کے یہی معنی ہیں کہ جس قدر سود لیا واپس دے اور اللہ عزوجل سے آئندہ کےلئے سچے دل سے نادم ہوکر عہد کرے،جو ایسا کرے گا اس کی توبہ بیشك قبول ہوگی " وَ هُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ "[3] (وہ وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ت) اور وہ سود کے گناہ سے پاك ہوجائے گا التائب من الذنب کمن لاذنب لہ [4](گناہ سے توبہ کرنے والا ایسے ہے جیسے اس نے کوئی گناہ نہ کیا ہو۔ت)واللہ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم۔
مسئلہ ۱۳۳تا۱۳۸: ازشاہجہان پور محلہ خلیل مرسلہ محمد اعزاز حسین خاں مہتمم مدرسہ اسلامیہ ۲۶محرم ۱۳۰۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس صورت میں کہ:
(۱)زید نے اپنی حیات میں کچھ روپیہ سود پر قرض دیا اور قبل وصول روپیہ کے زید مرگیا اب ورثا زید کو تاریخ وفات زید تك کا سود لینا جائز ہے یانہیں ؟
(۲)زید نے روپیہ قرض سود پر دے کر دیوانی سے مع سود ڈگری حاصل کی تھی اور حسب ضابطہ کچہری ۸ فیصدی سود تا ادائے روپیہ اور بھی ڈگری میں لکھا جاتا ہے بعد مرنے زید کے ورثاء اسکے دونوں قسم کا سود لے سکتے ہیں اور شرعًا جائز ہے یانہیں ؟
(۳)زید نے پر امیسری نوٹ خریدے تھے اور گورنمنٹ سے ساڑھے چار روپیہ فیصدی سالانہ سود لیا کرتاتھا زید مرگیا ورثاء زید کو حسب ضابطہ کچہری اول سارٹیفکیٹ وراثت لینا ضرور ہے اور بغیر اس کے ورثاء نہ سود نوٹوں کا پاسکتے ہیں اور نہ ان کو فروخت کرسکتے ہیں اور سارٹیفکیٹ لینے میں قریب تین ہزار روپیہ کے کچہری میں صرف ہوگا ورثاء زید چاہتے ہیں کہ گورنمنٹ نوٹوں تك سود لے کر سارٹیفکیٹ کے لینے میں خرچ کردیں یعنی گورنمنٹ سے لے کر پھر اسی کو واپس کردیں پس ورثاء زید تاریخ انتقال زیدتك سود نوٹوں کالے سکتے ہیں یا آئندہ کا بھی لے سکتے ہیں یا مطلق ناجائز ہے؟
(۴)عمرو نے پر امیسری نوٹ ایك لاکھ کے خریدے اور پر امیسری نوٹوں کا قاعدہ ہے کہ گورنمنٹ اصل روپیہ کبھی نہیں دیتی بلکہ ساڑھے چار روپیہ فی صدی سالانہ سود دیا کرتی ہے ہاں اگر مالك چاہے تو دوسرے خریداروں کے ہاتھ فروخت کرے اور نرخ نوٹوں کا بھی کم ہو تا ہے اور کبھی زیادہ جیسے آجکل سو روپیہ کا پر امیسری نوٹ ایك سو آٹھ روپیہ کو فروخت ہوتا ہے پس اگر عمرو بھی ایك لاکھ روپیہ کے پر امیسری فیصدی آٹھ روپیہ کے نفع سے فروخت کرے یا نرخ سے دو روپیہ زیادہ نفع پر بیچ ڈالے تویہ بیع درست ہے یانہیں ؟
(۵)کسی شخص نے دو ہزار کی ڈگری کچہری سے حاصل کی جس میں ایك ہزار اصل ہے اور ایك ہزار سود،وہ شخص کسی کے ہاتھ یا وارث اس کا بعوض بارہ سو کے وہ ڈگری فروخت کرڈالے تو کیسا ہے؟
(۶)اوپرکی صورتوں میں جو جو رقم کہ سود کی قرار دی گئی اگر اس میں سے کل یا بعض لے کر مدرسہ اسلامیہ میں دے دی جائے تو شرعًا کیا اس کی حالت ہے؟بینواتوجروا۔
الجواب:
(۱)حرام قطعی ہے،
قال المولٰی سبحانہ وتعالٰی " یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(۲۷۸) فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ
مولا سبحانہ وتعالٰی نے فرمایا:اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو سود باقی رہا ہے چھوڑ دو اگر تم مسلمان ہو پھر جو ایسا نہ کرو تو خبر دار ہوجاؤ خدا ورسول کے لڑنے سے یا اعلان کردو
مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۚ "[5] اللہ ورسول سے لڑائی کا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع