30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
البحرالرائق میں ہے ثمن اگر سامان ہو تو فضولی کا مملوك ہوگا اور مالك کی اجازت اجازت نقد ہے نہ کہ اجازت عقد، کیونکہ عوض جب متعین ہے تو یہ من وجہ شراء ہے اور شراء موقوف نہیں ہوتی بلکہ مباشر پر نافذ ہوجاتی ہے اگر وہ نفاز کی راہ پائے تو یہ مشتری کی ملك ہوا اور مالك کی اجازت سےت یہ مشتری کی ملك ہو ااور الك کی اجازت سے یہ مالك کی طرف منتقل نہیں ہوگا بلکہ اس کی اجازت نقد میں اثر کرے گی نہ کہ عقد میں،پھر فضولی پر مبیع کی مثل واجب ہوگی اور اگروہ مثلی ہے ورنہ اس کی قیمت واجب ہوگی الخ(ت)
اور ورثہ سے جو اجازت نہ دے گا اسے اختیار ہے کہ اپنے تمام حصہ دین کا مطالبہ مدیون پر رکھے خواہ جس قدر حصہ دین مشتری نے بذیعہ شراء وصول پایا اسے جمیع سہام پر تقسیم کرکے بقدر اپنے سہم کے روپے کا مطالبہ مشتری اور باقی کا مدیون سے رکھے، مثلًا نوے روپے دین تھے،اور زید،عمرو،بکر تین بیٹے وارث زشید نے مدیون سے جائداد بعوض دین مورث اپنے نام خریدلی تو اس نے اپنے تیس روپے پالئے عمرو نے یہ تصرف جائز رکھا وہ اپنے پورے تیس روپے زید سے لے لے بکر نے اجازت نہ دی وہ چاہے تو کامل تیس روپے مدیون سے لے خواہ ازانجا کہ دین مشترك سبب واحد یعنی ارث سے ناشی تھا اور زید نے اپناحصہ اس سے پالیا بقدر ثلث یعنی دس روپے زید سے لے باقی بیس کا مطالبہ مدیون پر رکھے جائداد پر دعوٰی نہیں کرسکتا مگر یہ کہ زید اپنی خوشی سے اسے حصہ رسد جائداد دے اور وہ قبول کرلے،
فی الدر المختار الدین المشترك بسبب متحد کدین موروث اذا قبض احدھما شیئا منہ شارکہ الاٰخرفیہ ان شاء او اتبع الغریم،فلو اشتری بنصفہ شیئا ضمنہ شریکہ الربع لقبضہ النصف بالمقاصۃ او اتبع غریمہ لبقاء حقہ فی ذمتہ [1] اھ مختصرا وفی الھندیۃ ولو اشتری بنصیبہ ثوبا فللشریك ان یضمنہ نصف ثمن الثوب ولا سبیل لہ علی الثوب فان اجتمعا جمیعا علی الشرکۃ فی الثوب فذلك جائز کذا فی السراج الوھاج [2]۔
درمختار میں مذکور ہے دو شخصوں میں سبب واحد سے مشترك دین ہو جیسے دین موروث ہو اور ان دونوں میں سے ایك نے اگر کچھ دین مشترك وصول کرلیا تو دوسراگر چاہے تو اس میں شریك ہوجائے یا پھر مدیون کا پیچھا کرے،اور دونوں میں سے ایك شریك نے نصف دین کے بدلے مدیون سے کوء چیز خریدی تو یہ خریدنے والا شریك دوسرے کو دین کے چوتھائی کا تاوان دے کیونکہ اس نے نصف دین پر قبضہ کیا ہے دین کے ثم میں مجراہونے کے سبب سے یا پھر دوسرا شریك مدیون کا پیچھا کرے کیونکہ اس کا حق مدیون کے ذمے پر باقی ہے اھ مختصرا۔ہندیہ میں ہے کہ اگر ایك شریك نے اپنے حصے کے بدلے میں مدیون سے کپڑا خریدا تو دوسرے شریك کو حق حاصل ہے کہ وہ اس کو آدھے کپڑے کے ثمن کا ضامن ٹھہرائے اور کپڑے پر اس کا کوئی حق نہ ہوگا اور اگر وہ دونوں کپڑے کی شرکت پر متفق ہوجائیں تو یہ جائز ہے السراج الوہاج میں یونہی ہے۔(ت)
اور اگر یہ عقد شراء سب وارثوں کے لئے واقع ہوا مثلًا مدیون نے کہا میں نے تم سب ورثہ کو یہ جائداد دین میں دین مشتری نے کہا میں نے سب کی طرف سے خریدی یا سب کے لئے لی،یا اسی قدرکہا کہ میں نے قبول کی کہ مذہب صحیح پر ایك ہی کلام میں اضافت الی الغیر توقف عقدکےلئے بس ہے جبکہ کلام غیر میں اس کا خلاف نہ ہو،
فی البزازیۃ والبحر وغیرہما الصحیح انہ اذااضیف العقد فی احدالکلامین الی فلان یتوقف علی اجازتہ اھ [3]واما عدم التخالف فقد مناہ عن البحرعن الفروق ان الاصح عند التخالف البطلان قلت وھو مراد وجیز الکردری بقولہ لو قال اشتریت لفلان وقالا بائع بعت منك الاصح عدم التوقف [4]اھ وقد عرض ھھنا وھم للعلامۃ الشامی فی ردالمحتار نبھنا علیہ فیما علقنا علیہ وباللہ التوفیق۔
بزازیہ اور بحر وغیرہ میں مذکور ہے صحیح یہ ہے کہ جب دو کلاموں میں سے صرف ایك میں عقد کی اضافت فلان کی طرف کی گئی ہو تو عقد اس کی اجازت پر موقوف ہوگا،رہا مخالفت کا نہ ہونا تو ہم بحر سے بحوالہ فروق پہلے بیان کرچکے ہیں کہ بائع ومشتری کے کلاموں میں مخالفت کی صورت میں زیادہ صحیح یہ ہے کہ وہ عقد باطل ہوگا،میں کہتا ہوں کہ وجیز الکردری کے اس قول سے یہی مراد ہے کہ اگر مشتری نے کہامیں نے فلاں کے لئے خریدا اور بائع نے کہا میں نے تیرے ہاتھ بیچا تو زیادہ صحیح یہ ہے کہ عقد موقوف نہیں ہوگا اھ یہاں پر علامہ شامی کو ردالمحتار میں ایك وہم عارض ہوا،ہم نے ردالمحتار پر اپنی تحریر کردہ تعلیقات میں اس پر تنبیہ کردی،اور توفیق اللہ تعالٰی ہی کی طرف سے ہے۔(ت)
تو اس صورت میں اگر مشتری باقی سب ورچہ کی طرف سے وصایۃً یا ولایۃً یا وکالۃً اس شراء کا اختیار رکھتا تھا جب تو ظاہر کہ عقد تمام وکمال فورًا نافذ اور سب ورثہ حصہ رسد جائداد میں شریك اور مدیون سب کے دین سے بری لانہ تصرف من لہ التصرف فتم و نفذ من دون توقف(کیونکہ یہ اس کا تصرف ہے جس کو تصرف کا اختیار ہے تو بلا توقف تام و نافذ ہوگیا۔ت)ورنہ اگر ورثہ میں کوئی قاصدایسا ہے جس پر کسی کو اس شراء کا اختیار شرعی نہیں جس طرح آج کل بہت یتیم ہوتے ہیں جن کے نہ باپ،نہ دادا نہ ان کا وصی،نہ وصی الوصی،نہ ان بلاد میں قاضی شرع،نہ سلطان اسلام،اور ان کے سوا
ماں بھائی چچا وغیرہ یتیم کے لئے جائداد خریدنے کے مجاز نہیں تو اس کی طرف اس خریداری کی اجازت دینے والا کوئی نہیں اور فضولی سے و عقد ایساصادر ہو کہ وقت عقد جس کا مجیز نہیں ہو باطل ہوتا ہے،
فی الدر کل تصرف صدر منہ ولہ مجیز ای من یقدر علی اجازتہ حال وقوعہ انعقد موقوفا وما لا مجیزلہ حالۃ العقد لاینعقد اصلا[5]۔
[1] درمختار کتاب الصلح فصل فی دعوی الدین مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۴۴
[2] فتاوٰی ہندیہ کتاب الشرکۃ الباب السادس نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۳۳۷
[3] البحرالرائق کتاب البیع فصل فی بیع الفضولی ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶/ ۱۴۹
[4] الفتاوٰی البزازیۃ علی ہامش الفتاوٰی الھندیۃ کتاب البیوع،الباب التاسع نورانی کتب خانہ پشاور۴/ ۴۸۳
[5] الدرالمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع