دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

اسی میں ہے:

فی البزازیۃ من اٰخر الصرف،اذاکان لہ علی اٰخر طعام او فلوس فاشتراہ من علیہ بدرہم وتفرقا قبل قبض الدراہم بطل وھذا ممایحفظ [1]۔واللہ تعالٰی اعلم۔

بزازیہ باب الصرف کے آخر میں ہے کہ اگر کسی کا دوسرے کے ذمے اناج یا پیسے لازم ہیں پھر مقروض نےاس سے کچھ دراہم کے بدلے وہ اناج یا پیسے خرید لئے اور دراہم پر قبضہ سے پہلے ہی یہ دونوں شخص متفرق ہوگئے تو خرید اری باطل ہے، یہ بات قابل حفظ ہے۔(ت) واللہ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ۱۲۶:ازالہ آباد دائرہ شاہ اجمل صاحب مرسلہ مولوی محمد صاحب محمدی برادر مولانا مفتی اسد اللہ خان صاحب مرحوم ۲۴ ربیع الآخر ۱۳۱۴ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ عوض قرضہ یا فتنی مورثکے منجملہ سے بری کردیا،مطابق شرع مذہب اہل سنت وجماعت دیگر وارثان کو وارث مذکور اس جو خریدار جائداد مدیون ہے بقدر حصہ رسدی زر قرضہ یافتنی مورچ کے نقد دلایا جائے گا یا جائداد خریدہ وارث مذکور متروکہ متصور ہوکر دیگر وارثان کو بھی بقدر سہام مفروضہ حصہ جائداد دلایا جائیگا۔بینوامشرحا ومدللا مع سند الکتاب توجرواعنداللہ الملك العزیز الوھاب(تفصیل سے مدلل اور حوالہ کتب کے ساتھ بیان فرمائیں اللہ تعالٰی بادشاہ غالب بہت عطا فرمانے والے کے ہاں اجر دئے جاؤگے۔ت) 

 

الجواب:

صورت مستفسرہ میں ظاہر ہے کہ بائع مدیون کا مقصود یہی ہوگا کہ جائداد سب ورثہ کے حصص دین میں دے ان میں ہر ایك بقدر اپنے حصہ کے جائداد بعوض دین پالےکہ مدیون اسے دے کر دین سے بری ہو او مشتری بھی جبکہ دین مشترك میں لیتا ہے تو دیانۃً اس سے بھی یہی امید کہ تنہا اپنے ہی لئے نہ خریدی ہومگر واقع بارہا اس کے خلاف ہوتا ہے اورعبارت سوال سے کچھ نہیں کھلتا کہ بیع کس کے نام واقع ہوئی تنہا ایك شخص کا مشتری ہونا اسےمستلزم نہیں کہ مشترٰی لہ بھی تنہا وہی ہو،یوں ہی ثمن کسی مال مشترك بشرکت ملك بلکہ خاص ملك غیر ہی کو قرار دینا اس کی دلیل نہیں کہ شرا مشترك یاغیر کےلئے ہو،

فی الخیریۃ لایلزم من الشراء من مال الاب ان یکون المبیع للاب [2]۔

فتاوٰی خیریہ میں ہے کہ باپ کے مال سے کسی شیئ کو خریدنے سے لازم نہیں آتا کہ مبیع باپ کےلئے ہو۔(ت)

لہٰذا ہمیں ہر احتمال پر کلام لازم اگر اس عقد میں کام عاقدین مختلف واقع ہوا یعنی بائع نےاپنی براءت تامہ کےلئے سب ورثہ کی طرف اضافت کی اور مشتریہ نے اپنی منفعت کے واسطے صرف اپنی خصوصیت رکھی،مثلًا اس نےکہا میں نے یہ جائداد تم سب کے ہاتھ تمہارے دین میں بیع کی اس نے کہا میں نے اپنے لئے خریدی جب تو بیع ہی نہ ہوئی کہ ایجاب وقبول متخالف رہے،

فی البحر الرائق عن فروق الکرابیسی لو قال اشتریت لفلان بکذا و البائع یقول بعت منك بطل العقد فی اصح الروایتین والفرق انہ خاطب المشتری والمشتری یسترد لغیرہ فلایکون جوابا فکان شطر العقد[3]۔

بحرالرائق میں فروق الکرابیسی سے منقول ہے کہ اگر کسی نے کہا کہ میں نے اتنے کے عوض یہ شیئ فلاں کےلئے خریدی، اور بائع نے کہا کہ میں نے تیرے ہاتھ فروخت کے لئے خریدی،اور بائع نے کہا کہ میں نے تیرے ہاتھ فروخت کی، تو دو روایتوں میں سے زیادہ صحیح روایت کے مطابق عقد باطل ہوگا،فرق یہ ہےکہ بائع نے مشتری کو مخاطب بنایا جبکہ مشتری اس کو غیر کی طرف لوٹانا چاہتا ہے تو یہ مشتری کا جواب نہ ہوا تو اس طرح یہ آدھا عقد ہوا(یعنی دو۲ میں سے صرف ایك رکن پایا گیا)(ت)

 

اس صورت میں جائداد مدیون کو واپس اور ورثہ کا دین اس پر قائم،صرف مشتری کہ بری کرچکا،اگر اس کا ابرا اس عقد سے جدا واقع ہوا یعنی دین بطور خود معاف کردینا چاہاہو،اور اگر اس کی طرف سے بھی کوئی ابرائے جدا گانہ واقع نہ ہوا اسی شرائے جائداد بعوض دین کی بناء پر دعوٰی سے اسے بری کیا ہے تو س کا بھی دین بدستور باقی رہا وقد اوضحناہ وفصلناہ فی المداینات من فتاوٰنا(اس کی وضاحت وتفصیل ہم اپنے فتاوٰی میں مداینات کی بحث میں بیان کرچکے ہیں۔ت)اور اگر مشتری نے اپنے ہی لئے خریدی اور بائع نے بھی اس کے ہاتھ بیچی سب ورثہ کی طرف اضافت نہ کی توبیع اسی مشتری کے لئے تمام ہوگئی دیگر ورثہ کا جائداد میں کچھ حق نہیں،ہاں زر ثمن میں اس دین کا محسوب ہونا ان کی اجازات جائزہ شرعیہ پر موقوف رہے گا،جواجازت دے گا اس کے حصہ دین سے بائع بری،اور اس قدر روپیہ اجازت دہندہ کےلئے لازم بذمہ مشتری اور خود مشتری کے حصہ دین سے تو بائع بری ہو ہی چکا یہ اجازت دیگر ورثہ کہ یہاں درکار ہیوئی اجازت نقد ہے نہ اجازت عقد،عقد تو بامشتری تام ونافذ ہولیا یہاں تك کہ اگر کوئی شخص اپنے لئے کچھ خریدے اور اس کا ثمن کسی غیر کا غلام یا مکان قرار دے تو وہاں بھی صرف اس بناء پر کہ یہ من وجہ شراء ہے اور شراء مشتری پر نافذ عقد بنام مشتری تمام ہوجاتا ہے حالانکہ وہ من وجہ بیع ہے اور بیع مال غیر غیر نافذ و موقوف،تو جہاں من کل وجہ شرا ہے اس کا مشتری پر نفاذ اوضح واجلی ہے،

فی البحر الرائق ان کان الثمن عرضا کان مملوکا للفضولی واجازۃ المالك اجازۃ نقدلا اجازۃ عقد لانہ لما کان العوض متعینا کان شراء من وجہ والشراء لایتوقف بل ینفذ علی المباشران وجد نفاذا،فیکون ملکا لہ وباجازۃ المالك لاینقل الیہ،بل تاثیر اجازتہ فی النقد لافی العقد ثمن یجب علی الفضولی مثل المبیع ان کان مثلیا والافقیمتہ الخ[4]۔

 



[1]                       ردالمحتار کتاب البیوع فصل فی القرض داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۷۴

[2]                       الفتاوٰی الخیریۃ کتاب البیوع فصل فی القرض دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۲۱۹

[3]                       بحرالرائق کتاب البیوع فصل فی بیع الفضولی ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۶ /۱۴۹

[4]                       البحرالرائق کتاب البیوع فصل فی بیع الفضولی ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶/۱۴۸

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن