30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں ایك شخص کا کھیت مبلغ پچیس روپے میں گروی رکھتا ہوں اپنے پاس،عرصہ دو سال کے بعد وہ شخص اپنا کھیت مبلغ پچیس روپے ہم کو دے کر واپس لے گااور دوسال تك اس کھیت میں جوت کر اور اس میں محنت کرکے جو ہماری طبیعت چاہے وہ ہم بوئیں گے مثلًا چنا،گیہوں اور مکاوغیرہ،توجو فصل اس میں ہوگی وہ ہماری ہے،اور سرکاری لگان بھی ہم دیں گے جو اس کی باقی ہے،اور بعد دو برس کے وہ پورے پورے مبلغ پیچیس روپے واپس دے کر اپنا کھیت واپس لے لے گا،اب ازراہ مہربانی اورعنایت پروری کے ساتھ یہ تحریر کریں کہ یہ بیاج تو نہیں ہوا ؟ اگر بیان ہوگیا تو نہ رکھوں اور اگر بیاج نہ ہو اہو تو رکھ لوں۔ خوب اچھی طرح سمجھا کر تحریر کر دو کیونکہ ایك صاحب اس میں رائے دیتے ہیں کہ یہ بیاج ہوگیا،اب آپ کیہ رائے پر ہے یہ معاملہ،اگر بیاج ہوگیا تو ہم بھی اپنا کھیت دوسرے کے پاس نہ گروی رکھیں۔
الجواب:
یہ نہ شرعًا رہن ہے نہ کسی طرح سود رہنکے لئے ضرور یہ ہےکہ وہ شیئ رہن رکھنے والے کی ملك ہو یا مالك نے اسے رہن کی اجازت دی ہو گیر کی ملك بے اس کی اجازت کے رہن نہیں ہوسکتی،یہاں یہ دونوں صورتیں،ظاہر ہے کہ کھیت کا شتکار کی ملك نہیں زمیندار کی ملك ہے اور زمیندار نے اسکے رہن کی اجازت نہ دی کہ اسکی طرف سے وہ اجارہ میں ہے وہ اس کی اجرت یعنی لگان لے گا والرھن والاجارۃ عقد ان متنا فیان لایجتمعان(رہن اور اجارہ دو ایسے عقد ہیں جو ایك دوسرے کے منافی ہیں آپس میں جمع نہیں ہوسکتے۔ت)تو اتنے زمانے کے لئے یہ زمیندار سےذکرکردےکہ مثلًا دو برس تك یہ زمین میری کاشت میں رہے گی اور میں لگان دوں گا وہ اجازت دے دے گا اب یہ کاشت اور اس کا محاصل سب بلا شبہہ حلال ہوگا،پہلے کاشت کارکو جتنا روپیہ قرض دیا ہے اسی قدر اس سے واپس لے زائدنہ لے تویہ صورت کسی طرح سود نہیں۔واللہ تعالٰی اعلم
مسئلہ۱۲۳ تا ۱۲۴:ازجائس ضلع رائے بریلی محلہ زیر مسجد مکان حاجی ابراہیم مرسلہ ولی اللہصاحب ۲ربیع الاول شریف ۱۳۲۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:
سوال اول:خراب اناج کھلانا اور فسل پراچھا اناج لینا جائز ہے یانہیں ؟
سوال دوم:چاول یا گیہوں پر روپیہ دینا نرخ کاٹ کر کہ فصل پر ا س نرخ سے لیں گے فصل نہ ہوئی تو اس روپیہ کو اسی بھاؤ سے جوڑ کر زیادہ کرکے یعنی جب اس بھاؤ کو جوڑا تو اب روپیہ زیادہ ہو دوسری فصل پر چھوڑ دینا یا گائے بیل لگالینا جائز یانہیں ؟فقط
الجواب :
(۱)اگراس نے ناج ناقص کردیا اور یہ شرط نہ تھی کہ عمدہ لوں گا قرضدار نے اپنی خوشی سے عمدہ ناج دے دیا سای قدر جتنا قرض لیا تھا تو اس میں مضائقہ نہیں اور اگر اسی شرط پر قرض دے کہ خراب دیتا ہوں اس کے برابر یا کم یا زائد عمدہ لوں گا،تو یہ ناجائز ہے،
لکونہ خلاف حکم الشرع من ان الدیون تقضی بامثالھا ولم یجز التنقیص ایضا لان الشرط المساواۃ قد راوالجید والردی فیہ سواء۔واللہ تعالٰی اعلم۔ کیونکہ یہ شرع کے اس حکم کے خلاف ہے کہ قرضوں کی ادائیگی ان کی مثل کے ساتھ ہوتی ہے اور کمی بھی جائزنہیں کیونکہ اس میں مقدار کے اعتبار سے مساوات شرط ہے،عمدہ اور گھٹیا اس میں برابر ہیں،واللہ تعالٰی اعلم(ت)
(۲)ناج رپ روپیہ نرخ کاٹ کر دینا اگر انہیں لفظوں سے ہو کہ فصل پر اس نرخ سے لیں گے،تو نرا وعدہ ہے جس کا وفا کرنا ناج ولاے پر لازم نہیں اور اگر یوں ہے کہ اتنا ناج اس بھاؤ سے اتنے روپیہ کا خریدا تو یہ بیع سلم ہے اس کی سب شرطیں پائی گئیں تو جائز ہے ورنہ حرام۔پھر بہرحال جب وہ ناج نہ دے سکے تو اس قرار داد بھاؤ کے حساب سے روپیہ یا اس کے بدلے گائے وغیرہ کوئی شے لینا قطعی حرام ہے،
لحدیث لاتأخذ الاسلمك او راس مالك [1]،واللہ تعالٰی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔
اس حدیث کی وجہ سے بیع سلم کی مبیع یا راس المال کے علاوہ مت لے،واللہ تعالٰی علم وعلمہ اتم واحکم۔(ت)
مسئلہ۱۲۵: از مارہرہ شریف ضلع ایٹہ مرسلہ شیخ شان الٰہی ۱۵جمادی الاولٰی ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر زید عمرو کو دس روپے کا نوٹ قرض دے اور اس وقت یا کچھ دنوں کے بعد عمرو بارہ روپے نقد ادا کرے تو اس پر سود کا اطلاق ہوسکتا ہے نہیں اور زید وعمرو گنہگار ہوئے یانہیں ؟بینو اتوجروا۔
الجواب:
اگر قرض دینے میں یہ شرط ہوئی تھی تو بیشك سود و حرام قطعی و گناہ کبیرہ ہے،ایسا قرض دینے والا ملعون اور لینے والا بھی اسے کے مثل ملعون ہے اگر بے ضرورت شرعیہ قرض لیا ہو۔حدیث میں ہے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں:
کل قرض جرمنفعۃ فھو ربٰو [2]۔ رواہ الحارث ابی اسامۃ عن امیر المؤمنین علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ الکریم ۔قرض پر جو نفع حاصل کیا جائے وہ سُود ہے۔(اسے حارث بن اسامہ نے امیر المومنین حضرت علی کرم اللہوجہہ الکریم سے روایت کیا۔ت) متعدد احادیث صحیحہ میں ہے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع