30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
جائز ہے،
عملا بقول الامام ا ابی یوسف من اعتبار العرف فی الکیل والوزن مطلقًا وقد تعمل بہ الناس وشاع بینھم استقراض الحنطۃ وزنا،ولاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔واللہ تعالٰی اعلم۔ امام ابویوسف کے قول پر عمل کرتے ہوئے کہ کیلی اور وزنی اشیاء میں مطلقًا عرف کا اعتبار ہے اور لوگوں کا اس پر عمل ہے اور گندم کو وزن کے اعتبار سے قرض لینا لوگوں میں رائج ہے،گناہ سے بچنے اور نیکی کی طاقت نہیں مگر بلند و عظمت والے معبود کی طرف سے۔واللہ تعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۲۰:مسئولہ الف خان مہتمم مدرسہ انجمن اسلامیہ قصبہ سانگوا ریاست کوٹہ راجپوتانہ بروز یکشنبہ ۳شعبان ۱۳۳۴ھ
(۱)نوٹ قیمتی پچیس روپے کو ہمراہ یك صدیا پانصد روپے کے قریبًا پچاس روپے کی قیمت پر بدست کسی ہندو یا مسلمان کے کسی مدت کے وعدہ پر بیع کرنا شرعًا درست ہے کہ نہیں ؟ اسی طرح زیور طلائی یا کوئی پارچہ کسی شیئ تجارت کو ہمرا روپے ادھار میں زیادہ قیمت پر بیع کرنا اور تنہا نوٹ کو بھی اصلی قیمت سے زیادہ ادھار میں بیع کرنا درست ہے کہ نہیں ؟
(۲)غلہ تجارتی کو ادھار میں موجودہ نرخ سے زیادہ قیمت پر بیع کرنا درست ہے کہ نہیں ؟
الجواب:
(۱)قرض لینے والا بضرورت قرض قرض کے ساتھ کم مالیت کی شے زیادہ قیمت کو اس طرح خریدے کہ وہ بیع اس قرض پر مشروط ہو تو بالاتفاق حرام ہے،
لان النبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نہی عن بیع و شرط[1]۔
کیونکہ نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بیع ور شرط سے منع فرمایا ہے۔(ت)
خواہ یہ شرط نصا ہو یا دلالۃً لان المعروف کالمشروط [2](کیونکہ معروف،مشروط کی طرح ہوتاہے۔ت)او اگر عقد قرض پہلے ہو اور یہ بیع اس میں نصًا یا دلالۃً مشروط نہ ہو تو اس میں اختلاف ہے،بعض علماء اجازت دیتے ہیں کہ یہ بیع بشرط القرض نہیں بلکہ قرض بشرط البیع ہے اور قرض شروط فاسدہ سے فاسد نہیں ہوتا،اور راجح یہ ہے کہ یہ بھی ممنوع ہے کہ اگرچہ شرط مفسد قرض نہیں مگر یہ وہ قرض ہے جس کے ذریعہ سے ایك منفعت قرض دینے والے نے حاصل کی اور یہ ناجائز ہے۔نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں:کل قرض جر منفعۃ فھو ربو[3] (جو قرض نفع کھینچے وہ سود ہے۔ت)لہٰذا ان سب صورتوں کو ترك کیا جائے وار قرض کا نام ہی نہ لیا جائے اور خالص بیع ایك وعدہ معینہ پر ہو،اب نوٹ کی بیع روپے کے عوض جائز ہوگی اگرچہ دس کا نوٹ سو کو بیچے،اور دونوں صورتوں میں فرق وہی ہےجو قرآن عظیم نے فرمایا:
" وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰواؕ-"[4]۔
اللہ تعالٰی نے بیع کو حلال وار سود کو حرام کیا۔(ت)
مگر چاندی سونے کی بیع اب بھی جائز نہ ہوگی اور نوٹ کی جائز ہوگی۔
قال النبی صلی اللہ تعالٰی اعلم وسلم اذا اختلف النوعان فبیعواکیف شئتم [5]۔
نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ جب بدلین مختلف نوعوں کے ہوں تو جیسے چاہوبیع کرو۔(ت)
اور یہ زیادہ قیمت دینا اگرچہ بحالت قرض ہے بوجہ بیع جائزہے اگرچہ اولٰی نہیں، درمختار میں ہے:
شراء شیئ بثمن غال لحاجۃ القرض
کسی چیز کو حاجت قرض کی وجہ سے مہنگے داموں
یجوزویکرہ۔[6] واللہ تعالٰی اعلم۔ خریدنا جائز اور مکروہ ہے(ت)واللہ تعالٰی اعلم
(۲)درست ہے۔واللہ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۲۲: ازچھاؤنی بانس بریلی بنگلہ ۲۴ملازم میجر اسٹور صاحب سؤلہ جناب شکور محمد صاحب خانساماں ۹ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
[1] نصب الرایۃ کتاب البیوع باب البیع الفاسد المکتبۃ الاسلامیۃ لصاحبہا الریاض ۴ /۱۷
[2] فتح القدیر کتاب البیوع باب المرابحہ والتولیۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۱۳۴
[3] کنز العمال حدیث ۱۵۵۱۶ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۶/ ۲۳۸
[4] القرآن الکریم ۲/ ۲۷۵
[5] نصب الرایہ لاحادیث الہدایہ کتاب البیوع المکتبۃ الاسلامیہ لصاحبہا الریا ض ۴/ ۴
[6] درمختار کتاب البیوع فصل فی القرض مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع