30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اصل عقد کی صحت ہے چنانچہ بزازیہ میں ہے کہ اگر صحت عقد کے بارے میں سوال کیا جائے تو اس بنیاد پر کہ اس میں تمام شرائط مجتمع تھیں اس کی صحت کا فتوٰی دیا جائیگا کیونکہ مطلق کو موانع صحت سے خالی کمال پر محمول کیا جاتا ہے اور اللہ تعالٰی خوب جانتا ہے۔ اور اسی میں جلد دوم ص ۳۵ پر ہے:اگر ایسے مال کی بیع کے بارے میں سوال کیا جائے جس کو مال والے نے منعقد کیا ہے تو بلا شبہہ یہ جائز ہے اس کے باوجود کہ اگر وہ مجنون ہے تو کوئی بھی یہ نہیں کہتا کہ خریداری درست ہے۔ اسی میں ہے کہ مکلف کی عبارت کوقابل عمل بنانے پر نظر کرنا اس کو لغو قراردینے اور مکلف کو حیوانوں اور اس کے کلام کو حیوانوں کے ڈکارنے کے ساتھ لاحق کرنے سے اولٰی ہے،اللہ تعالٰی بہتر جانتا ہے۔(ت)
ملاحظہ ہو کہ جب مفتی کے لئے یہ حکم ہے کہ اصل صحت پر عمل کرے اور شرائط صحت کا اجتماع مان کر فتوٰی دے تو قاضی جس کی نظر صرف ظاہر پر مقتصر ہے اور احتمالات بعیدہ کا لحاظ اس کے منصب سے جدا بات ہے وہاں تو اصل پر نظر رکھنااولٰی واحق ہوگا،خصوصًا یہاں کہ بائع مرحوم عالم دین تھے اور ان کا قصد تملیك کا ہونا ظاہر،تو موانع صحت سے احتراز کرنا ہی ان سے متوقع۔
(۹)علماء تصریح فرماتے ہیں جب عاقدیم میں صحت وفساد کی اختلاف واقع ہو تو قول اس کا قول ہے جو مدعی صحت ہے۔فتاوٰی قاضی خان جلد دوم ص۲۵۱:
اذا اختلف المتبائعان احدھما یدعی الصحۃ والاخر الفساد بشرط اسد اواجل فاسد کان القو قول مدعی الصحۃ والبینۃ بینۃ مدعی الفساد باتفاق الروایات، وان کان مدعی الفساد یدعی الفساد لمعنی فی صلب العقد بان ادعی انہ اشتراہ بالف درہم ورطل من خمر والاٰخریدعی البیع بالف درہم،فیہ روایتان عن ابی حنیفۃ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی فی ظاھر الروایۃ القول قول من یدعی الصحۃ ایضا والبینۃ بینۃ الاٰخر کما فی الوجہ الاول وفی روایۃ القول قول من یدعی الفساد[1]۔
جب بائع اور مشتری میں اختلاف ہوان میں سے ایك صحت عقدکا جبکہ دوسراکسی شرط فاسد کی وجہ سے فساد عقد کا دعوٰی کرے تو قول صحت کے مدعی کا بہتر ہوگا اور گواہ فساد کے مدعی کے معتبر ہوں گے،اس پر تمام روایات میں اتفاق ہے۔ اگر فساد کا دعوٰی کرنے والا اصل عقد میں پائی جانیوالی کسی خرابی کے سبب سے فساد کادعوٰی کرے مثلًا اگر وہ دعوٰی کرے کہ اس نے یہ شے ہزار درہم اور ایك رطل شراب کے عوض خریدی ہے جبکہ دوسرا دعوٰی کرے کہ اس نے ہزار درہم کے عوض فروخت کی،تو اس میں امام ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی سے دو روایتیں منقول ہےں،ظاہر الروایۃ میں ہے کہ قول مدعی صحت کا اور گواہی دوسرے کے معتبر ہیں جیساکہ پہلی صورت میں بیان ہوا،اور ایك روایت میں یوں ہے کہ فساد کے مدعی کا قول معتبر ہوگا۔(ت)
اور اسی طرح فتاوٰی عالمگیری میں نقل کیاجدل۳ ص ۵۲۔خلاص کتاب البیوع فصل ۴:
لو ادعی احدھما فساد العقد والاخر الصحۃ القول قول من یدعی الصحۃ [2] الخ۔
فتاوٰی صغری میں ہے اگر بائع اور مشتری میں سے ایك نے فساد عقد کا جبکہ دوسرے نے صحت عقد کیا دعوٰی کیا تو صحت کے مدعی کا قول معتبر ہوگا۔(ت)
قابل لحاظ ہے کہ جب اسل بائع دعوٰی فساد کرتا تو اس کا قول تسلیم نہ ہوتا غیر کا کیونکر ہوگا۔
(۱۰)اتنی بات اور بھی لائق التفات ہے کہ مدعیہ کو اس کی گنجائش ہی نہیں کہ وہ ہبہ ثمن بر سبیل اشتراط یا بلا اشتراط مابین الایجاب والقبول خواہ بعد القبول واقع ہونا مانے،کیونکہ اس تقدیر پر مورث کا بیع وہبہ کرنا ثابت ہوتا ہے اگرچہ وہ کسی طور پر ہو اور یہ قول اس کی عرضی دعوٰی و اظہار حلفی کے بالکل مناقض ہے،اور علماء تصریح فرماتے ہیں کہ مناقض دعوٰی قابل تسلیم نہیں تو مدعا علیہم کا قول بلامعارض ولائق قبول ہے واللہ تعالٰی اعلم وحکمہ جل مجدہ احکم
مسئلہ ۱۰۸: ازریاست رامپور مرسلہ جناب سیدنا درحسین صاحب ۵شعبان ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے اپنا ایك مکان سلمی کے ہاتھ جس سے پسر ہندہ کی شادی قرار پائی تھی بیع صحیح شرعی کیا اور زر ثمن کے سلمی پر اس بیع سے واجب ہوا تھا سلمی کو بخوشی معاف کردیا اس عقد کی دستاویز بدیں خلاصہ تحریر ہوکر رجسٹری ہوگئی منکہ سعادت النساء بیگم زوجی سید سعادت علی صاحب ساکن رام پور ہوں جو کہ ایك منزل مکان(چنیں وچناں)واقع رامپور محدودہ ذیل مقبوضہ مملوکہ میراہے وہاب میں نے بحالت صحت نفس و ثابت عقل بلا اکراہ واجبار بطوع ورغبت اپنی سے جمیع حقوق ومرافق بعوض مبلغ آٹھ سوروپیہ چہرہ دار ہمدست مسماۃ سلمی بیگم بنت سید نا درحسین صاحب ساکنہ بریلی جس کا نکاح حسب خواہش میری سید سکندر شاہ پسر بطنی میرے سے قرار پایا ہے بیچا اور بیع کیا میں نے،_________________________________________________________
اور مکان مبیعہ پر مشتریہ مذکورہ کو مثل اپنی ذات کے مالك وقابض کردیا میں نے،اور زر ثمن تمام کمال مشتریہ سے وصول پایا میں نے،یعنی ثمن اسکا بوجہ محبت فطری سید سکندر شاہ مذکور کے سلمی بیگم مشتریہ کو معاف کیا اور بخشا میں نے اب مجھ کو اور قائم مقامان میرے کو دعوٰ ی زر ثمن کا نہیں ہے اور نہ ہوگا تقابض بدلین واقع ہوا اب مجھ بائعہ کو مکان مبیعہ سے کچھ سروکار نہ رہا،اگر کوئی سہیم یا شریك پیدا ہو توجدابدہ میں بائعہ ہوں فقط،اس صورت میں یہ بیع شرعًا صحیح ہے یانہیں ؟ اور ہندہ خواہ اس کے قائم مقاموں کو اس بیع پر کوئی رد واعتراض ہے یانہیں ؟ او یہ معافی ثمن بھی صحیح ہوئی یا نہیں ؟ اور ہندہ یا ا سکے ورثہ کو اس معافی سے رجوع کا اختیار ہے یانہیں ؟ بینواتوجروا۔
الجواب:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع