دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

(۵)بطریق تنزل عرض کیا جاتا ہے کہ اگرحکم عالمگیری ہی تسلیم کیاجائے تو حاصل اختلاف فریقین کا یہ ہوگا کہ آیا یہ ہبہ قبل قبول واقعہ ہوا یا بعد۔اب یہ دیکھا چاہئے کہ ایسی صورت میں علماء کون سے وقت کا اعتبار رکھتے ہیں مگر ہم تصریح پاتے ہیں کہ اصل حواد ث میں یہ ہے کہ وقت ہ مدعیوں کو۔اشباہ والنظائر مطبع مقریب کی طرف اضافت کئے جائیں اور جو بعدیت کا قائل ہے اسی کا قول معتبر رکھاجائے گا اور یہ بھی تصریح ہے کہ یہ دلیل مدعا علیہم کو مفید ہے نصطفائی صفحہ ۶۰:

الاصل اضافۃ الحادث الی اقرب اوقاتہ [1]۔

اصل یہ ہےکہ حادث کی اضافت اس کے قریب ترین وقت کی طرف کی جائے۔(ت)

فقہ میں بہت مسائل اس ضابطہ پر مبنی ہیں،تمثیلًا ایك عرض کیا جتا ہے،ایك عورت نصرانیہ ایك مسلمان کے نکاح میں تھی،اس مسلمان کا انتقال ہوا عورت نے دارالقضا میں آکر دعوٰی کیاکہ میں مسلمان ہوں اور مورث کا ہنوز دم نہ نکلا تھا کہ میں اسلام لے آئی تھی مجھے اسکاترکہ ملنا چاہئے،ورثہ نے کہا تو اس وقت مسلمان ہوئی ہے جب اس کا دم نکل چکا تھا تجھے ترکہ نہیں پہنچتا،علماء فرماتے ہیں قول ورچہ کا معبتر رہے گا کیونکہ اسلام اس کا حادث ہے تو وقت قریب کی طرف اضافت کیاجائے گا جب تك اول کا ثبوت بینہ سے نہ ہو۔ہدایہ مطبع مصفائی جلد دوم ص۱۳۲:

لومات المسلم ولہ امرأۃ نصرانیۃ فجاءت مسلمۃ بعد موتہ وقالت اسلمت قبل موتہ وقالت الورثہ اسلمت بعدموتہ فالقول قولھم [2]۔

اگر کوئی مسلمان فوت ہوااس حال میں کہ اس کی ایك نصرانی بیوی تھی جس اس کی موت کے بعد مسلمان تھی اور آئی اور کہا کہ میں اس کی موت سے پہلےاسلام لائی تھی جبکہ ورثاء میت کا کہنا ہے کہ یہ اسکی موت کے بعد اسلام لائی ہے تو ورثاء کا قول معتبر ہوگا۔(ت)

بنایۃ العلامۃ العینی میں ہے:

لان الاسلام حادث والحادث یضاف الٰی اقرب الاوقات [3]۔ ورثاء کا قول اس لئے معتبر ہے کہ اسلام حادث ہے اور حادث کی اضافت اس کے قریب ترین وقت کی طرف کی جاتی ہے۔ (ت)

تو یہاں بھی ثمن حادث ہے پس قول مدعاعلیہم کا معتبر رہے گا کہ یہ ہبہ بعد تمامی بیع واقع ہوا،نہ مابین الایجاب والقبول۔

(۶)خود مسئلہ پیش کردہ مدعیہ سے ثابت کہ اگر ہبہ بطریق اشتراط فی نفس العقد ہو تو مفسد بیع ہے ورنہ نہیں،تو اب حاسل اختلاف یہ ہوا کہ مدعیہ وجود شرط مفسد کا دعوٰی کرتی ہے مدعا علیہم اس کا انکار کرتے ہیں اس خاص جزئیہ میں بھی علماء کی تصریح ہےکہ قول اسکا معتبر ہے جو شرط فاسد کا انکار کرتی ہے۔ خانیہ مطبوعہ العلوم جلد دوم ص۲۵۱میں ہے:

لوادعی عبدافی یدرجل انہ اشتراہ منہ بالف درھم وقال البائع بعتك بالف دراھم و شرطت ان لاتبیع ولا تھب او ادعی المشتری ذٰلك وانکر البائع کان القول قول من ینکر الشرط الفاسد

اگر کسی شخص نے ایك غلام جو کہ دوسرےکے قبضہ میں ہےکہ بارے میں دعوٰی کیاکہ میں نے اس سےیہ غلام ہار درہم کے عوض خریدا ہے،اور بائع نے کہا کہ میں نے تیرے ہاتھ یہ غلام ہزار درہم کے عوض فروخت کیا اور یہ شرط لگائی کہ تو اس کو نہ تو بیچے گا اور نہ ہبہ کرے،یا مشتری نے اس شرط کا دعوٰی کیا اور بائع نے اس کا انکار کیا

والبینۃ بینۃ الاٰخر،وکذٰلك لو کان مکان الشرط الفاسد شرط الخمروالخنزیر [4]۔

تو اس کا قول معتبر ہوگا جو اس شرط فاسد کا منکر ہے اور گواہ دوسرے کے مقبول ہوں گے اور ایسا ہی حکم ہوگا اگر اس شرط فاسد کی جگہ خمر و خنزیر کی شرط ہو۔(ت)

(۷)یہ بھی تسلیم کیا کہ نفس ایجاب میں معاف ہونا مذکور تھا مگر علمائے محققین ایسی جگہ صیغہ ماضی ومستقبل میں فرق فرماتے ہیں کہ اگر بصیغہ مستقبل تھا تو ناجائز او بصیغہ ماضی تھا تو جائز،اور ظاہر ہے کہ دستاویز پیش کردہ مدعا علیہم میں لفظ ماضی مذکور ہےکہ ثمن بعوض حقوق فرزندی معاف کیا۔فتاوٰی قاضیخاں جلد ۲ ص۲۳۹میں ہے:

لوقال علی ان اھب لك من ثمنہ کذا لا یجوز،ولو قال بعت منك بکذا علی ان حططت عنك کذا وعلی ان وھبت لك کذا جاز البیع اھ ملخصا[5]۔

اگرکہااس شرط پر تیرے ہاتھ بیع کی کہ تجھے اس کے ثمن سے اتنے ہبہ کروں گا تو بیع جائز نہ ہوگی وار اگر کہا کہ میں نے تیرے ہاتھ کاتنے کو بیع کی اس شرط پر تجھ سے اتنا گھٹا دیا یا تجھے اتنا ہبہ کیا تو بیع جائز ہے اھ تلخیص۔(ت)

اور اسی طرح نوازل میں مذکور ہے اور اس سے خلاصہ میں یونہی نقل کیا اور خود عالمگیری مستند وکیل مدعیہ سای طرح روایت کرکے مقرر رکھا کمامر(جیساکہ گزرا۔ت)اور سب میں بلا ذکر خلاف۔

(۸)علماء فرماتے ہیں کہ اگر کسی عقد کے صحت وعدم صحت سے سوال ہو تو اسے صحت پر حمل کیا جائیگا اور یہ مان لیا جائے گا کہ تمام شرائط صحت مجتمع تھیں تا وقتیکہ فساد دلیل روشن سے ثابت نہ ہو مجرد احتمال کفایت نہیں کرتا۔فتاوٰی خیریہ لنفع البریہ تصنیف امام خیر الملۃ والدین رملی استاذ صاحب درمختار مطبوعہ مطبع میری مصر دوم صفحہ ۹۴:

الاصل صحتہ ففی البزازیۃ لو سئل عن صحتہ یفتی بصحتہ حملا علی استیفاء الشرائط اذ المطلق  یحمل علی الکمال الخالی عن الموانع للصحۃ واللہ اعلم[6] وفیہا جلد دوم ص۳۵:اذا رفع السوال ببیع مال باعہ ذوالمال جاز بلا مرأ مع انہ کان مجنونا فلا احدیقول بانہ صح الشراء[7]۔وفیہا النظر الی العمل بعبارۃ المکلف اولی من اھدارھا والحاقہ بالحیوانات وکلامہ بجوارھا واللہ تعالٰی اعلم [8]۔

 



[1]                            الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الثالثہ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۹۴

[2]                            الہدایۃ شرح البدایۃ کتاب ادب القاضی فصل فی قضاء بالمواریث مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۱۴۷

[3]                            البنایۃ فی شرح الہدایۃ کتاب ادب القاضی فصل فی قضاء بالمواریث المکتبۃ الامدادیہ مکہ مکرمہ ۳ /۳۰۴

[4]                            فتاوٰی قاضیخان کتاب البیوع فصل فی احکام البیع فاسد مطبع نولکشور لکھنؤ ۲ /۳۵۰

[5]                            فتاوٰی قاضیخان کتاب البیوع فصل فی الشروط المفسدۃ مطبع نولکشور لکھنؤ ۲ /۳۴۴

[6]                            فتاوٰی خیریہ کتاب الصلح دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۱۰۳

[7]                            فتاوٰی خیریہ کتاب الوکالۃ دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۳۹

[8]                            فتاوٰی خیریہ کتاب الدعوی دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۷۷

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن