30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس پر اقتصار اس کے اعتماد پر دلالت کرتا ہے۔(ت)
طحطاوی حاشیہ درمختار مطبوعہ بولاق دارالسلطنت مصر جلد ۴ص۳۲۱:
الاقتصار علیہ یدل علی اعتمادہ [1]۔
اس پر اقتصار اس کے اعتماد پر دلالت کرتا ہے۔(ت)
اور یہ بھی تصریح فرماتے ہیں کہ کسی قول کو مدلل و مبرہن کرنا بھی اس کی ترجیح کی دلیل ہے،فتاوٰی حامدیہ مع التنقیح مطبوعہ مطبع سرکاری مصر جلد اول ص۱۶:
التعلیل دلیل الترجیح [2] وفیہا ھوالمرجح اذ ھو المحلی بالتعلیل [3]۔
کسی کی علت بیان کو نا اس کی ترجیح کی دلیل ہے،اور اسی میں ہے کہ وہی راجح ہے کیونکہ وہ بیان دلیل سے مزین ہے(ت)
پس دو وجہ سے ثابت ہوا کہ امام قاضی خاں نے صحت بیع پر اعتماد فرمایااور اسی کو ترجیح دی اب علماء تصریح فرماتے ہیں کہ اس امام اجل کا ارشاد زیادہ اعتبار واعتماد کے لائق اور ان کی تصحیح و ترجیح فائق ہے کہ انہیں رتبہ اجتہاد حاصل تھا،حاشیہ جامع الفصولین للعلامہ خیر الدین الرملی
استاد صاحب الدرالمختار :
علیك بما فی الخانیۃ فان قاضی خان اھل التصحیح الترجیح [4]۔
جو خانیہ میں ہے اس کو قبول کرناتجھ پر لازم ہے کیونکہ امام قاضی خاں ترجیح وتصحیح والوں میں سے ہیں۔(ت)
تصحیح القدوری للعلامہ قاسم :
مایصححہ قاضی خان من الاقوال یکون مقدما علی مایصححہ غیرہ لانہ کان فقیہ النفس[5]۔
جن اقوال کی تصحیح قاضی خان کردیں وہ مقدم ہوتے ہیں ان اقوال پر جن کی تصحیح دوسرے کریں کیونکہ امام قاضی خاں فقیہ النفس ہیں(ت)
حاشیہ سید احمد طحطاوی علی الدرالمختار مطبوعہ مصر جلد دوم ص۲۵:
الذی یظہر اعتماد مافی الخانیۃ قولھم ان قاضی خان من اجل مایعتمد کعلی تصحیحاتہ [6]۔
جوخانیہ میں ہے اس پر اعتماد ظاہر ہے فقہاء کے اس قول کی وجہ سے کہ قاضی خان ان جلیلہ القدر لوگوں میں سے ہیں جن کی تصحیحات پر اعتماد کیا جاتا ہے۔(ت)
غمز العیون والبصائر شرح الاشباہ والنظائر مطبوع مطبع مصطفائی دہلی ص۲۷۵:
ھذاالقول صححہ قاضی خان فینبغی اعتمادہ [7]۔
اس قول کو قاضی خان نے صحیح قرار دیا ہے لہٰذا اس پر اعتماد کرنا چاہئے۔(ت)
عقود الدریۃ مطبوعہ مصر جلد دوم ص۵۷:
مایصححہ قاضی خان مقدم علی مایصححہ غیرہ[8]۔
جس کی تصحیح قاضی خان فرمادیں وہ اس پر مقدم ہے جس کی تصحیح کوئی دوسرا کرے۔(ت)
اور اسی طرح اور کتب میں بھی تصریح ہے،پس ثابت ہوا کہ مذہب راجح صحت بیع ہے اگرچہ ہبہ ثمن مابین الایجاب والقبول واقع ہوا ہو۔لطف یہ ہے کہ وہی عالمگیری جس سے اس مسئلہ میں طرف مقابل کو استناد ہے،اسی کی جلد سوم ص۴۷ پر بحوالہ خانیہ مرقوم:
لو قال بعت منك بکذاعلی ان حططت منك کذا اوقال علی ان وھبت لك کذاجاز البیع [9]۔
اگر کسی نے کہا کہ میں تیرے ہاتھ اتنے کے عوض بیع کرتا ہوں اس شرط پرکہ میں تجھ سے اتنے گھٹاؤں گا یا کہا اس شرط پر کہ میں تیرے لئے اتنا ہبہ کروں گا تو بیع جائز ہے(ت)
بالجملہ طرف مقابل کوکوئی محل استدلال نہیں رہا یہ کہ ہبہ بھی صحیح ہوا یا نہیں ؟ یہ دعوٰی مدعیہ سے جدا بات ہے۔
[1] حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الوصایا دارالمعرفۃ بیروت ۳ /۴۲۱
[2] العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوٰی الحامدیۃ کتاب النکاح حاجی عبدالغفار کتب خانہ ارگ بازار قندھار افغانستان ۱ /۱۷
[3] العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوٰی الحامدیۃ کتاب النکاح حاجی عبدالغفار کتب خانہ ارگ بازار قندھار افغانستان ۱ /۱۷
[4] الآلی الدریۃ فی الفوائد الخیریۃ حشیۃ جلیلۃ جامع الفصولین الفصل الثامن عشر اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۴۶
[5] غمز عیون البصائر بحوالہ تصحیح القدوری مع الاشباہ الفن الثانی کتاب الاجارات ادارۃ القرآن کراچی ۲ /۵۵
[6] حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب النکاح فصل فی المحرمات دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۲۵
[7] غمز عیون البصائر مع الاشباہ الفن الثانی کتاب الاجارات ادارۃ القرآن کراچی ۲ /۵۵
[8] العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ کتاب الاجارات حاجی عبدالغفار وپسران تاجران کتب قندھار افغانستان ۲/ ۱۰۳
[9] فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الباب العاشر نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۱۳۶
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع