30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صح التصرف فی الثمن والحط عنہ،ای صح للمشتری القاء کل المبیع اوبعضہ عن البائع،وللبائع القاء کل الثمن او بعضہ عن المشتری وان لم یبق المبیع ولم یقبض الثمن فصح ان یقول حططت کلہ او بعضہ عنك اووھبتہ منك او ابرأتك عنہ(الٰی قولہ)وان لم یلتحق باصل العقد[1]۔
ثمن میں تصرف اور اس کو گھٹانا درست ہے یعنی مشتری کے لئے کل یا بعض مبیع بائع سے گھٹانا اور اسی طرح بائع کے لئے کل یا بعض ثمن مشتری سے ساقط کردینا درست ہے اگرچہ مبیع باقی نہ رہا ہو اور ثمن پر قبضہ نہ کیا ہو تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ میں نے تجھ سے کل یا بعض گھٹادیا یا میں نے تجھ کو اس سے بری کردیا(اس کے اس قول تک)اگرچہ یہ اصل عقد کے ساتھ ملحق نہیں ہوگا۔(ت)
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب البیوع فصل ۱۳:
ولووھب کل الثمن لایلتحق باصل العقد ولو وھب بعض الثمن یلتحق [2]۔
اگر کل ثمن ہبہ کردیے تو اصل عد کے ساتھ ملحق نہ ہونگے اور اگر بعض ثمن ہبہ کئے تو ملحق ہوجائیں گے۔(ت)
فتاوٰی ہندیہ مطبع احمدی جلد سوم صفحہ ۵۸:
اذاحط کل الثمن اووھبہ او ابرأہ عنہ فان کان ذلك قبل قبض الثمن صح الکل ولکن لایلتحق باصل العقد [3]۔
جب کسی نے کل ثمن گھٹا دیئے یا ہبہ کردیے یا مشتری کو اس سے بری کردیا اگر یہ ثمن پر قبضہ سے پہلے ہوا تو سب صورتیں درست ہیں لیکن یہ اصل عقد کے ساتھ ملحق نہیں ہوگا۔(ت)
اور ان سب کتابوں سے صاحب درمختار رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اسی درمختا رمیں صدہا جگہ استناد کیا ہے۔
سوا فتاوٰی ہندیہ کےکہ اس کی تالیف تصنیف درمختا رس ے متاخر ہے تو اب کالشمس فی النصف النہار روشن ہوگیا کہ طرف مقابل کا یہ عذر کہ بمقابلہ درمختار شامی کا کیا اعتبار،کتنی بے محل بات ہے،قطع نظر اس سے کہ جس نے علامہ شامی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی تحقیقات لائقہ اور تدقیقات فائقہ اس حاشیہ اور کتاب مستطاب عقود دریہ وغیرہما میں دیکھی ہیں وہ ایسا لفظ ہر گز نہیں کہہ سکتا،اور علاوہ اس سے کہ علماء نے تصریح فرمادی ہے کہ درمختا ر ہرچند معتبر کتاب ہے مگر جب تك اس کے حواشی پاس نہ ہوں اس سے فتوٰی دینا جائز نہیں کیونکہ عبارت اس کی اکثر مقامات پر ایسی چیستاں ہےجس سےصحیح مطلب سمجھ لینا دشوار ہوتا ہے،ان سب باتوں سے قطع نظر کرکے جب اس قدر اکابر ائمہ مستند ین صاحب درمختار کی تحقیق علامہ شامی کے بالکل مطابق ہے تو اس لفظ کا کون ساموقع رہا۔
(۳)اگر تسلیم کیا جائے کہ عبارت درمختار سے ظاہرًا جو مطلب سمجھا گیا وہی صحیح ہے اور جما ہیرائمہ کی تحقیق کا کچھ اعتبار نہیں تاہم اس کے مفاد کو دعوٰی مدعیہ سے کیا علاقہ،اس سے اس قدر سمجھا گیا کہ ہبہ ثمن باطل ہے نہ یہ کہ بیع فاسد و قابل فسخ ہے جیسا کہ دعوٰی مدعیہ ہے کاش یہ عبارت کہیں سے پیدا کی جاتی کہ بطل البیع بحط الکل(کل ثمن گھٹا دینے سے بیع باطل ہوگئی۔ت)تو شاید قابل التفات ہوتی۔
(۴)وکیل مدعیہ نے جو عبارت عالمگیری پیش کی کہ اگر ہبہ ثمن قبل قبول واقعہ ہوا تو عقد صحیح نہیں،یہ مسئلہ مختلف فیہ ہے۔
فتاوٰی خلاصہ کتاب البیوع فصل ۲:
فی مجموع النوازل رجل قال بعت منك ھذاالعبد بعشرۃ دراہم ووھبت منك العشرۃ وقال الاٰخر اشتریت لایصح البیع کما لو باع بدون الثمن،وفی النوازل الشراء جائز ولم تجز الھبۃ[4]۔
مجموع النوازل میں ہے ایك شخص نے دوسرے کو کہا کہ یہ غلام میں نے تیرے ہاتھ دس درہم کے عوض بیچا اور میں نے تجھ دس درہم ہبہ کئے دوسرے نے جواب میں کہا کہ میں نے خریدا تو بیع صحیح نہ ہوگی جیساکہ وہ بغیر ثمن کے بیچے،اور نوازل میں ہے کہ خریداری جائز ہے اور ہبہ ناجائز ہے۔(ت)
اور امام علامہ فقیہ النفس مالك التصحیح والترجیح فخر الملۃ والدین قاضی خان اوزجندی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اپنے فتاوٰی میں روایت صحت پر جزم کیا اور اسی کے ذکر پر اقتصار فرمایا دوسری روایت نقل بی نہ فرمائی اور اسی روایت کو مدلل و مبرہن کیا۔
قاضیخاں مطبوعہ العلوم جلد ۲ص۲۴۹و۳۴۴:
نظیرہ مالو قال بعتك ھذاالشیئ بعشرۃ دراہم ووھبت لك العشرۃ ثم قبل المشتری البیع جاز البیع،ولا یبرأ المشتری عن الثمن لان الثمن لا یجب الابعد قبول البیع فاذا ابرأ عن الثمن قبل القبول کان ابراء قبل السبب فلایصح[5]۔
اس کی نظیر یہ ہے کہ اگر کسی نےکہا میں نے یہ چیز تمہارے ہاتھ دس درہم کے بدلے فروخت کی اور میں نے تیرے لئے دس درہم ہبہ کئے،پھر مشتری نے بیع کو قبول کرلیا تو بیع جائز ہے اور مشتری ثمن سے بری نہ ہوگا کیونکہ ثمن تو قبول بیع کے بعد ہی واجب ہوتے ہیں،اگر اس نے قبول سے پہلے مشتری کو ثمن سے بری کیا تو یہ سبب سے قبل بری کرنا ہوا لہٰذا صحیح نہ ہوگا۔(ت)
اور علماء تصریح فرماتے ہیں کہ کسی قول پر اقتصار کرنا اس کے اعتماد کی دلیل ہے۔ردالمحتار مطبوعہ قسطنطنیہ پنجم صفحہ ۶۵۲:
الاقتصار علیہ یدل علی اعتمادہ[6]۔
[1] شرح النقایہ
[2] خلاصۃ الفتاوٰی کتاب البیوع الفصل الثالث عشر فی الثمن مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۳ /۹۴
[3] فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الباب السادس عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۱۷۳
[4] خلاصۃ الفتاوٰی کتاب البیوع الفصل الثانی مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۳/ ۱۴
[5] فتاوٰی قاضیخان کتاب البیوع فصل فی احکام البیع الفاسد نولکشور لکھنؤ ۲/۳۴۹
[6] ردالمحتارعلی الدرالمختار کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۲۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع