دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

اسی طرح اگر کسی شخص ایك شے مشاع ہبہ کرنا چاہے اور جانے کہ ہبہ بوجہ شیوع فاسد ہوجائیگا،تو علماء فرماتے ہیں اس مشاع کو اس کے ہاتھ بیع کرے ور ثمن معاف کرے کہ اس کی غرض یعنی تملیك بلا عوض بھی حاصل ہوجائے گی،اور بدیں وجہ کہ یہ عقد شرعًا بیع ہے فاسد بھی نہ ہوگا،ردالمحتار حاشیہ در مختار مطبوعہ دارالاسلام قسطنطنیہ جلد ۴ص۷۷۷:

(فائدۃ)من ارادان یھب نصف دار مشاعا یبیع منہ نصف الدار بثمن معلومہ ثم یبریہ عن الثمن بزازیۃ[1]۔

(فائدہ)جو آدھا مکان غیر منقسم ہبہ کرنا چاہے تو وہ آدھا مکان موہوب لہ کے ہاتھ بیچ کر ثمن سے اس کو بری کردے، بزازیہ۔ (ت)

مدعیہ تسلیم کرتی ہے کہ صورت مقدمہ بعینہ یہی جزئیہ خاص ہے جس کا حکم فقہاء نے بالتصریح فرمادیا کیونکہ اس کی عرضی دعوٰی کا بیان ہے کہ یہ عقد ضعیف مشروط بشرائط تھا لہٰذا بیع کی طرف انتقال کیا گیا،واللہ تعالٰی اعلم۔

(۲)وکیل مدعیہ نے جو عبارت درمختار پیش کی کہ بطل حط الکل [2](کل کا گھٹا دینا باطل ہے۔ت)

 علامہ شامی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ردالمحتار میں اس کے معنی بیان فرمادئے کہ مراد یہ ہے کہ ہبہ ثمن بھی صحیح ہوگا اور عقد بھی صحیح رہےگا مگر یہ کہ بہ اصل عقد سے ملتحق نہ ہوگا یعنی یہ نہ قرار پائے گا کہ سرے سے عقد بلاثمن ہوا تھا تاکہ فساد لازم آئے یا بیع ہبہ ہوجائے بخلاف حط بعض کے کہ وہ اصل عقد سے ملتحق ہوجاتا ہے سو کو بیچا پھر پچیس حط کردے تو یہ ٹھہرے گا گویا ابتداء پچھتر کو بیچا تھا۔شامی مطبوعہ استنبول ج ۴ص۲۵۹:

(قولہ)فبطل حط الکل ای بطل التحاقہ مع صحۃ العقدوسقوط الثمن عن المشتری خلافالماتوھمہ بعضھم من ان البیع یفسداخذا من تعلیل الزیلعی بقولہ لان الالتحاق فیہ یؤدی الی تبدیلہ لانہ ینقلب ھبۃ او بیع بلاثمن فیفسد وقد کان من قصد ھما التجارۃ بعقد مشروع من کل وجہ فالالتحاق فیہ یؤدی الی تبدیلہ فلایلتحق بہ اھ فقولہ فلا یلتحق صریح فی ان الکلام فی الالتحاق وان قولہ فیفسد مفرع علی الالتحاق کما صرح بہ شرح الھدایۃ وقال فی الذخیرۃ اذا حط کل الثمن او وھب او ابرأعنہ فان کان قبل قبضہ صح الکل ولا یلتحق باصل العقد وفی البدائع من الشفعۃ ولو حط جمیع الثمن یاخذ الشفیع بجمیع الثمن ولا یسقط عنہ شیئ لان حط کل الثمن لایلتحق قولہ

 یعنی ماتن کا قول کہ "کل کو گھٹا دینا باطل ہے" اس سے مراد یہ ہے کہ اس کو اصل عقد کے ساتھ لاحق کرنا باطل ہے اور باوجودیکہ عقد اور مشتری سے ثمن کا اسقاط دونوں صحیح ہیں،یہ حکم بعض لوگوں کے اس وہم کے خلاف ہے کہ بیع فاسد ہے،ان لوگوں نے زیلعی کی تعلیل سے استدلال کیا جو اس نے اپنے اس کلام میں بیان کی کہ یہ الحاق اصل عقد کی تبدیلی تك پہنچاتا ہے کیونکہ اس کے سبب سے بیع یا تو ہبہ بن جائے گی یا بیع بلاثمن تو اس طرح وہ فاسد ہوجائے گی،حالانکہ ان دونوں کا ارادہ ایسے عقد کے ذریعے تجارت تھا جو ہر لحاظ سے مشروع ہو او الحاق چونکہ اس میں تبدیلی کا موجب ہے لہٰذا یہ عقد کے ساتھ ملحق نہ ہوگا اھ اس کا قول"فلا یلتحق" صریح ہے اس بات میں کلام لاحق ہونے کے بارے میں ہے اور اس کا قول "فیفسد"اسی لحوق پر متفرع ہے جیسا کہ شرح ھدایہ میں اس کی تصریح کی گئی ہے،اور ذخیرہ میں کہا کہ جب بائع تمام ثمن گھٹا دے یا ہبہ کرے یا مشتری کو ثمن سے بری کردے اگر یہ ثمن پر قبضہ سے پہلے ہے تو سب درست ہے اور یہ اصل عقد کے ساتھ لاحق نہیں ہوگا۔بدائع میں شفعہ کی بحث میں ہےکہ اگر بائع نے تمام ثمن گھٹا دیئے تو شفیع تمام ثمن کے بدلے لے سکتا ہے اس سے کچھ بھی ساقط نہ ہوگا کیونکہ تمام ثمنوں کا

باصل العقد لانہ لو التحق لبطل البیع لانہ یکون بیعابلا ثمن فلم یصح الحط فی حق الشفیع وصح فی حق المشتری وکان ابراء لہ عن الثمن اھ زادفی المحیط لانہ لاقٰی دینا قائما فی ذمتہ و تمامہ فی فتاوی العلامۃ قاسم[3]۔

گھٹا نا اصل عقد کے ساتھ لاحق نہیں ہوتا اس لئے کہ اگر یہ لاحق ہوتو بیع باطل ہوجائے گی کیونکہ یہ بیع بلاثمن بن جائے گی،چنانچہ شفیع کے حق میں کل ثمن کا گھٹانا صحیح نہیں البتہ مشتری کے حق میں صحیح ہے اور یہ اس کوثمن سے بری کرنا ہوااھ۔اور محیط میں زیادہ کیا کہ وہ اس دین کے مقابل ہوا جو اس کے ذمہ کے ساتھ قائم ہے،اس کی پوری بحث علامہ قاسم کے فتاوٰی میں ہے۔(ت)

ملاحظہ کیاجائے کہ علامہ امین الملۃ والدین محمد ب ن عابدین آفندی شامی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے جو تحقیق انیق ارشاد فرمائی ہے کس قدر مدلل و مبرہن ہے اور وہ بھی صرف اپنی ایجاد نہیں بلکہ کتب ائمہ سے اس پر نصوص صریحہ نقل فرمائیں جن سے صاحب درمختار وغیرہ علمائے کبار سلفًا وخلفًا استناد کرتے آئے ہیں ____ ذخیرہ کہ ایك عمدہ مستند فتاوی ہے۔بدائع تصنیف امام ابوبکر بن مسعود بن احمد کاشانی جس کی نسبت علماء فرماتے ہیں ھذاالکتاب جلیل الشان لم ارلہ نظیر فی کتبنا(یہ عظیم الشان کتاب ہے جس کی نظیر ہماری کتابوں میں دکھائی نہیں دیتی۔ت)،محیط جس کا اعتبار آفتاب نیمروز ہے،فتاوٰی علامہ قاسم بن قطلوبغا تلمیذرشید امام علامہ کمال الدین محمد بن الہمام،تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق امام علامہ فقیہ محدث زیلعی،شرح الہدایۃ اور ان کے سوا اورکتابتوں میں بھی یہ مسئلہ یونہی لکھا ہے جیسا علامہ محقق نے تحقق فرمایا،مجمع الانھر شرح ملتقی الابحر مطبوعہ استنبول جلد ۲صفحہ ۷۵:

صح التصرف فی الثمن ببیع وھبۃ وتملیك ممن علیہ بعوض وغیرعوض قبل قبضہ،والحط منہ ویثبت الحط فی الحال ویلتحق باصل العقد استنادا وفیہ اشارۃ الی ان حط کل الثمن غیر ملتحق  بالعقد اتفاقا[4] اھ ملتقطا۔

ثمن میں قبض سے قبل تصرف صحیح ہے جیسے بیع،ہبہ،اور جس پر ثمن لازم ہے اس کو کچھ عوض کے ساتھ یا بلا عوض مالك بنانا،اور ثمن میں سے کچھ گھٹادینا،اور یہ گھٹانافی الحال ثابت ہوتا ہے اور اصل عقد کی طرف منسوب ہوکر اس کے ساتھ لاحق ہوتا ہے اور اس میں اشارہ ہےکہ تمام ثمن کا گھٹانا اصل عقد کے ساتھ بالاتفاق لاحق نہیں ہوتا اھ اختصار۔ (ت)

شرح نقایہ مطبوعہ لکھنؤ ج۳صفحہ ۳۳۰:

 



[1]                 ردالمحتار کتاب الھبۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۵۰۸

[2]                  درمختار کتاب البیوع فصل فی التصرف فی البیع والثمن مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۸

[3]                  ردالمحتار کتاب البیوع فصل فی التصرف فی المبیع والثمن داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۶۷

[4]                  مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر کتاب البیوع فصل فی بیان البیع قبل قبض المبیع،داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۸۱۔۸۰

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن