30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فی الفتاوی العالمگیریۃ اذ احط کل الثمن اووھبہ او ابرأہ عنہ فان کان ذٰلك قبل قبض الثمن صح الکل ولکن لایلتحق باصل العقد وان کان بعد قبض الثمن صح الحط والھبۃ ولم یصح الابراء ھکذا فی المحیط [1]۔
فتاوٰی عالمگیریہ میں ہے پورا ثمن گھٹا دیا یا ہبہ کردیا یا بری کردیا اگر قبضہ سے پہلے ایسا کیا تو سب صورتیں درست ہیں مگر یہ اصل عقد کے ساتھ لاحق نہیں ہوگا او اگر ثمن پر قبضہ کے بعد ایسا کیا ہے تو گھٹا نا اور ہبہ کرنا درست ہوگا مگر بری کرنا درست نہ ہوگا محیط میں ایسا ہی ہے۔(ت)
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں سیدنا جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی:
قال غزوت مع رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ قال فتلاحق بی النبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ وانا علی ناضح لنا قد اعیا فلا یکاد یسیر فقال لی ما لبعیرك قال قلت اعٰی،قال فتخلف رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فزجرہ ودعا لہ فما زال بین یدی الابل قد امھا یسیر فقال لی کیف تری بعیرك قال قلت بخیر قد اصابتہ برکتك قال افتبیعنیہ قال فاستیحیت ولم یکن لنا ناضح غیرہ قال فلقلت نعم قال فبعنی قال فبعتہ ایاہ علی ان لی فقار ظھرہ حتی بلغ المدینۃ فلما قدم رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ المدینۃ غدوت علیہ بالبعیر فاعطا نی ثمنہ وردہ علی [2] (ملتقطا)۔
انہوں نے کہا کہ میں ایك جہاد میں رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ گیا تو آپ مجھ سے آملے درانحالیکہ میں پانی لانے والے ایك انٹ پر سوار تھا جو تھك چکا تھا اور چلنے سے تقریبًا عاجز ہوگیا تھا۔آپ نے مجھے فرمایا کہ تیرے اونٹ کو کیا ہوا۔حضرت جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کہتے ہیں میں نے عرض کی کہ تھك گیا ہے،آپ نے پیچھے مڑ کر اونٹ کو جھڑکا اور اس کے لئے دعافرمائی تو وہ مسلسل تمام اونٹوں کے آگے چلنے لگا پھر سرکار دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مجھ سے فرمایا اونٹ کو کیسا پاتے ہو؟میں نے عرض کی کہ بہتر ہے اس کو آپ کی برکت پہنچی ہے،آپ نے فرمایا کیا تم اسکو میرے پاس فروخت کروگے تو میں نے انکار سے حیا کیا جبکہ ہمارے پاس اور اونٹ نہ تھا تو میں نے وہ اونٹ اس شرط پر آپ کے ہاتھ بیچ دیا کہ میں مدینہ منورہ تك ا س کی پشت پر سواری کروں گا۔جب رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مدینہ منورہ تشریف لائے تو میں اونٹ لے کر آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا آپ نے مجھے اونٹ کے ثمن عطا فرمائے اور اونٹ بھی مجھے واپس کردیا(ملتقطا)۔(ت)
دیکھو حضور سرور عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اونٹ خرید کر قیمت بھی عطافرمائی اور اونٹ بھی نہ لیا،یوں ہی بائع کو روا ہےکہ مبیع بھی سپرد کردے اور ثمن بھی نہ لے۔واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۱۰۷: عــــــہ
الجواب:
صورت مستفرہ میں چند امور قابل لحاظ ہیں:
(۱)شرع مطہر میں عاقدین کی نیات قلبیہ واغراض باطنیہ پر بائے کار نہیں بلکہ جو لفظ انہوں نےکہے ان کے معانی پر مدار ہے،صدہا مسائل شرع اس پر متفرع۔اسی لئے اگر کسی عورت سے نکاح کرے اوراس کے دل میں عزم قطعی ہو کہ دو روز کے لئے نکاح کرتا ہوں تیسرے روز طلاق دے دوں گا تو وہ نکاح صحیح ونافذ رہتا ہے پھر اسے اختیار رہتا ہے چاہے طلاق دے یا نہ دے۔اوراگر عقد نکاح ہی ان لفظوں سے واقع ہو تو باطل محض ہوجاتا ہے،
بنایۃ للعلامۃ العینی کتاب النکاح فصل المحرمات، قال شیخنا زین الدین العراقی فی شرح جامع الترمذی نکاح المتعۃ المحرم اذخرج بالتوقیت فیہ اما اذاکان فی تعیین الزوج انہ لا یقیم معھا الاسنۃ او شھرا او نحو ذٰلك ولم یشترط ذٰلك فانہ نکاح صحیح[3]۔
علامہ عینی کی تصنیف بنایہ کتاب النکاح،فصل محرمات میں ہے کہ ہمارے شیخ زین الدین عراقی نے جامع ترمذی کی شرح میں فرمایا کہ نکاح متعہ حرام ہے بشرطیکہ اس میں معین مدت کا اظہار کرے،اور اگر زوج نے محض اپنی نیت میں تعیین کی ہو کہ وہ اس عورت کو ایك سال یا ایك مہینہ وغیرہ مدت تك اپنی زوجیت میں رکھے گا لیکن بوقت نکاح شرط نہیں لگائی تو بیشك یہ نکاح صحیح یہ ہے۔(ت)
علٰی ہذا اگر کوئی شخصاپنا مکانزید کے ہاتھ بیچنا چاہے اور شفیع کے خوف سے لفظ بیع نہ کہے بلکہ یہ اس کو مکان ہبہ کردے اور وہ بقدر ثمن روپیہ اسے ہبہ کردے تو یہ ہبہ شرعًا ہبہ ہی رہے گا او شفیع کا حق ثابت نہ ہوگا اگرچہ ان کی نیت مبادلہ مال بالمال تھی۔
عالمگیریہ مطبع احمد ی جلد ششم صفحہ ۱۴۹:
یھب البائع الدار من المشتری ویشھد بائع مکان مشتری کو ہبہ کردے اور اس پر گواہ
عــــــہ: اصل میں سوال درج نہیں۔جواب سے سوال کی صورت سمجھی جاسکتی ہے۔
علیہ ثمن الشتری یھب الثمن من البائع ویشھد علیہ وذکر فی حیل الاصل ثم المشتری یعوضہ مقدار الثمن فاذا فعلا ذلك لاتجب الشفعۃ لان حق الشفعۃ یختص بالمعاوضات [4]۔
قائم کردے پھر مشتری ثمن بائع کو ہبہ کرے اور اس پر گواہ قائم کرے اور حیل اصل میں مذکور ہے کہ پھر مشتری اس پر ثمن کے برابر عوض مقرر کرے،جب بائع او مشتری نے ایسا کرلیا تو اب شفعہ ثابت نہیں ہوگا کیونکہ حق شفعہ تو معاوضات کے ساتھ مختص ہے۔(ت)
[1] فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الباب السادس عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۱۷۳
[2] صحیح البخاری کتاب الجہاد باب الاستیذان الرجل الامام الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۱۶،صحیح مسلم،کتاب المساقاۃ باب بیع البعیر و استثناء رکوبہ قدیمی کتب خانہ ۲/ ۲۹
[3] ا لبنایۃ فی شرح الہدایۃ کتاب النکاح فصل فی نکاح المحرمات المکتبۃ الامدادیہ مکہ مکرمہ ۲ /۶۷
[4] فتاوٰی ہندیۃ کتاب الحیل الفصل العشرون نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۴۲۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع