دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

یہ اعتراض اس پر وارد نہیں ہوتاجس نے تعریف میں یوں کہا کہ"بیع بمثل الثمن الاول"یعنی ثمن اول کی مثل کے بدلے بیع کرنا،اقول:(میں کہتاہوں) ضمان غصب کے ساتھ صورت بیان کی گئی ہوجو"ماقام علیہ" پر صادق اور ثمن پر صادق نہیں اگر ایسے مال ربوی کے ساتھ صورت بیان کی جاتی جس کا وہ اس کی جنس کے بدلے میں مالك ہوا جیسے گندم کے بدلے گندم تو یہ صورت ضمان غصب اور ثمنوں کو شامل ہوتی اور سب پر اعتراض کا ورود برابر ہوتا۔یہ شرط ثانی کی تحقیق ہے۔بیشك مولٰی سبحانہ وتعالٰی نے ان مباحث جلیلہ کے سبب محمد پر فضل فرمایا اور تو ان کو محفوظ کر کہ انھیں تو دوسری جگہ نہیں پائے گا۔ان مسلسل نعمتوں کے عطا ہونے پر الله تعالٰی ہی کے لئے حمد ہے اور درود وسلام ہو نبیوں کے سردار محمد مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اورآپ کی آل واحباب پر۔(ت)

جب یہ اصل اصیل منقع ہولی اب جواب مسئلہ کی طرف چلئے فاقول: وبالله التوفیق(تو میں کہتاہوں اور توفیق الله سے ہے۔ت)نوٹ میں شرط دوم تو خوموجود ہے کہ وہ سرے سے مال ربوٰی ہی نہیں نہ وہ اور روپے یا اشرفی متحد الجنس۔اور شرط اول اس کی نفس ذات میں تو متحقق ہے کہ وہ فی نفسہٖ ایك عرض ومتاع ہے نہ ثمن مگر بذریعہ اصطلاح اسے ثمنیت عار ض ہے اور جب تك رائج رہے گا اور عاقدین بالقصد اسے متعین نہ کریں گے عقود معاوضہ متعین نہ ہوگا۔اور اوپر معلوم ہولیا کہ یہاں تعین دونوں وقت درکار ہے ملك اول کے وقت اور اس بیع مرابحہ کے وقت تاکہ صادق آئے کہ وہی شے جو پہلے اس کی ملك میں آئی تھی اس نفع پر بیچی۔وقت مرابحہ کا تعین بھی خودہی ظاہر ہے کہ جب مرابحہ بے تعین ناممکن اور وہ قصد مرابحہ کررہے ہیں ضرور اسے متعین کرلیا جس طرح پیسوں کی بیع سلم میں ہمارے ائمہ کے اجماع سے اورایك پیسہ معین دوپیسے معین کو بیچنے میں ہمارے امام اعظم وامام ابویوسف رضی الله تعالی عنہما کے نزدیك ہے جس کی تحقیق ہمارے رسالہ کفل الفقیہ الفاھم میں ہے۔

وقلت فی الوفاقیۃ ان المسلم فیہ لایکون ثمنا قط فاقدامہا علی جعلہا مسلما فیہا دلیل علی الابطال [1]اھ ای ابطال الاصطلاح علی الثمینۃ القاضیۃ بعدم التعیین وفی الہدایۃ فی الخلافیۃ لہما ان الثمینۃ فی حقہما باصطلاحہما

میں نے اتفاقی اور اجماعی مسئلہ میں کہا کہ مسلم فیہ کبھی بھی ثمن نہیں ہوسکتا لہٰذا بائع اور مشتری کا پیسوں کو مسلم فیہ بنانے کا اقدام دلیل ابطال ہے اھ یعنی اصطلاح ثمنیت کا ابطال جو عدم تعیین کا تقاضا کرتی ہے اور ہدایہ میں اختلافی مسئلہ کے بارے میں شیخین کی دلیل یون بیان کی کہ بائع اور مشتری کے حق میں ثمنیت ان دونوں کی

فتبطل باصطلاحہما [2] اھ وقلت فیہا فی ہامش الکفل ان الحاجۃ الی تصحیح العقد تکفی قرینۃ علی ذٰلك ولایلزم کون ذٰلك ناشئا عن نفس ذات العقد کمن باع درہما ودینارین بدرہمین ودینار یحمل علی الجواز صرفا للجنس الی خلاف الجنس مع ان نفس ذات العقد لاتابی مقابلۃ الجنس بالجنس واحتمال الرباء کتحققہ فما الحامل علیہ الاحاجۃ التصحیح و کم بلہ من نظیر [3]۔

اصطلاح کی وجہ سے ہے لہٰذا ان دونوں کی اصطلاح سے باطل ہوجائے گی۔اور میں نے اس مسئلہ اختلافیہ کے بارے میں کفل الفقیہ کے حاشیہ پر کہا ہے کہ عقد کو صحیح کرنے کی حاجت اس پر کافی قرینہ ہے اس کا نفس عقد سے ناشی ہونا لازم نہیں جیسے کسی نے ایك درہم اور دو دینار کو دو درہموں اور ایك دینار کے عوض فروخت کیا۔تو جنس کو غیر جنس کی طرف پھیرتے ہوئے اس کو جواز پر محمول کریں گے باوجود یکہ خود ذات عقد جنس کا مقابلہ جنس سے کرنے سے انکار نہیں کرتی اور سود کا احتمال بھی حقیقت سودکی طرح ہے تو سوائے تصحیح عقد کی حاجت کے اس کا کوئی باعث نہیں اوراس کی متعدد نظیریں ہیں۔(ت)

اب نہ رہی مگر وقت میں نظر۔اگریہ نوٹ کسی نے اسے ہبہ کیا تھا یااس پر تصدق کیا یا بذریعہ وصیت یا مورث کے ترکہ میں اسے ملایا اس نے کسی سے چھین لیا اور تاوان دے دیا یاکسی کا اس کے پاس امانت رکا تھا اس سے منکر ہو کر تاوان دے کر بیچ لیا تو ان صورتوں میں اسے بیع مرابحہ کرسکتاہے کہ اب سب وجوہ میں خود روپے اشرفی معین ہوتے ہیں جو ثمن خلقی ہیں نوٹ تو ثمن اصطلاحی ہے،پہلی چارصورتوں میں تو بازار کے بھاؤ سے اس کی قیمت بتاکر اس پر نفع لگائے مثلایہ نوٹ سو روپے کا ہے میں نے تیرے ہاتھ اکنی روپے کے نفع پر بیچا اور پچھلی دو صورتوں میں جو کچھ تاوان دینا پڑا ہو وہ بتاکر اس پر نفع رکھے کہ یہ نوٹ مجھے اتنے میں پڑا اور انتے نفع پر میں نے تیرے ہاتھ بیع کیا،درمختار میں ہے:

المرابحۃ بیع مامبلکہ ولو بھبۃ او ارث اووصیۃ اوغصب [4]۔

مرابحہ اس چیز کی بیع ہے جس کامالك بنااگر چہہبہ،میراث،وصیت یا غصب کے سبب سے مالك بنا ہو۔ (ت)

بحر میں ہے:

الغصب اذا ضمنہ جازلہ بیعہ مرابحۃ وتولیۃ علی ماضمن ومامبلکہ بھبۃ اوارث اووصیۃ اذا قومہ فلہ المرابحۃ علی القیمۃ اذا کان صاد قافی التقویم اھ ملتقطا۔[5]

غصب کا جب تاوان دے دیا تو اب اس تاوان پر غصب کی بیع بطور مرابحہ یا بطور تولیہ جائز ہے اور جس چیز کا ہبہ،میراث یا وصیت کے ذریعے مالك بنا جب اس کی قیمت مقرر کرے تو اس قیمت پر اس مملوك چیز کی بیع مرابحہ کرسکتا ہے بشرطیکہ قیمت مقرر کرنے میں سچا ہو اھ التقاط(ت)

اشباہ پھر ردالمحتار میں ہے:

تتعین ای الدراہم والدنانیر فی الامانات والھبۃ والصدقۃ والشرکۃ والمضاربۃ والغصب [6]۔

امانتوں۔ہبہ،صدقہ،شرکت،مضاربہ اور غصب میں دراہم ودنانیر متعین ہوجاتے ہیں (ت)

 



[1]                      کفل الفقیہ الفاہم امام العاشر نوری کتب خانہ داتا دربار لاہور ص۶۲۔۶۱،کفل الفقیہ الفاہم امام العاشر منظمۃ الدعوۃ الاسلامیہ لوہاری دروازہ لاہور ص۴۷

[2]                      الہدایۃ کتاب البیوع باب المسلم مطبع مجتبائی دہلی ۳/۹۴

[3]                      کفل الفقیۃ الفاہم امام العاشر حاشیہ نوری کتب خانہ داتا دربار لاہور ص۶۲،کفل الفقیہ الفاہم امام العاشر منظمۃ الدعوۃ الاسلامیہ لوہاری دروازہ لاہور ص۴۸

[4]                      درمختار کتاب البیوع باب المرابحۃ والتولیۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۵

[5]                      البحرالرائق کتاب البیوع باب المرابحۃ والتولیۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶/ ۱۰۷

[6]                      ردالمحتار کتاب البیوع باب المرابحۃ والتولیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۲۹

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن