30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دراہم ودنانیر سے صورت بیان کرنا جس وہم کو پیدا کرتاہے علامہ آفندی کو ملحوظ ہے نہ ہی وہ تعلیل جو اکمل نے یہ کہہ کر بیان کی کہ یہ سب ثمن ہیں اس لئے کہ نفع تو مطلقًا جائز ہے چاہے کسی بھی جنس سے ہویعنی چاہے کپڑا ہویا غلام ہو یا زمین وغیرہ ہو بشرطیکہ وہ مقدار معین ہو جیسا کہ ہم عنایہ سے بحوالہ تحفۃ الفقہاء پہلے بیان کرچکے ہیں اور اس کی مثل عام کتابوں میں ہے یہ توجیہ ہے اقول ثانیا:(میں دوبارہ کہتا ہوں)اگر ہم اس سے قطع نظر کرلیں تو بھی اس میں ایسی کوئی چیز نہیں جو شرط مجانست سے مانع ونافی ہو،چنانچہ فقہاء نے تصریح کی ہے کہ چند جگہوں میں درہم اور دینار جنس واحد شمار ہوتے ہیں،ان میں سے مرابحہ بھی ہو،جیسا کہ بحر اور در وغیرہ میں ہے،اقول ثالثا:(میں سہ بارہ کہتا ہوں) جو قول فیصلہ کن اور اعتراض کو سرے سے منہدم کردینے والا ہے کہ تمام کتابیں اس پر متفق ہیں کہ تولیہ ومرابحۃ کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ عوض یعنی ثمن اول مثلی ہو اور علت بیان کرنے والوں جیسے ہدایہ اور اس کی شروحات عنایہ،تبیین اور بحر وغیرہ نے اس کی علت یوں بیان کی،لفظ عنایہ کے ہیں کہ ان دونوں (تولیہ ومرابحہ)کی بناء خیانت اور
شبھھا والاحتراز عن الخیانۃ فی القیمیات ان امکن، وقد لایمکن عن شبہہا لان المشتری لا یشتری المبیع الابقیمۃ ماوقع فیہ من الثمن اذ لایمکن دفع عینۃ حیث لم یمبلکہ ولا دفع مثلہ اذ الفرض عدمہ فتعیت القیمۃ وھی مجھولۃ تعرف بالخرص و الظن فیتمکن فیہ شبہۃ الخیانۃ الااذا کان المشتری باعہ مرابحۃ ممن ملك ذٰلك البدل من البائع الاول بسبب من الاسباب فانہ یشتریہ مرابحۃ بربح معلوم من دراہم او شیئ من المکیل والموزون الموصوف لاقتدارہ علی الوفاء بما التزمہ [1]اھ ۔ اقول: ولاتنس ماقدمنا ان الربح سائغ مطلقًا ولو ثوبا کما نص علیہ فی التحفۃ وقال فی التحفۃ وقال فی الفتح لوکان مااشتراہ بہ وصل الی من یبیعہ منہ فرابحہ علیہ بربح
شبہ خیانت سے اجتناب پر ہے جبکہ قیمتی چیزوں میں اگرچہ خیانت سے اجتناب ممکن ہے مگر شبہ خیانت سے اجتناب کبھی ممکن نہیں ہوتا کیونکہ مرابحہ میں مشتری مبیع کو اس قیمت کے بدلے ہی خریدسکتاہے جس میں ثمن واقع ہوا نہ کہ عین ثمن کے بدلے کیونکہ جب وہ اس کا مالك ہی نہیں تو اس کا دینا اس کے لیے نا ممکن ہے اورنہ ہی مثل ثمن کے بدلے کیونکہ مفروض اس کا عدم ہے تو قیمت ہی متعین ہوئی اور وہ مجہول ہے جو کہ ظن وتخمینہ سے پہچانی جاتی ہے لہٰذا اس میں شبہ خیانت پایا جاتاہے سوائے اس کے کہ جب مشتری اول مبیع کو اس شخص کے ہاتھ بطور مرابحہ بیچے جو اس بائع اول سے اس مبیع کے بدل کا کسی سبب سے مالك بن چکا ہے کیونکہ اس صورت میں مشتری ثانی اس مبیع کو دراہہم یا کسی کیلی وزنی شے میں سے معین ومعلوم نفع پرخرید رہا ہے یہ اس لئے ہے کہ مشتری ثانی نے جس چیز کا التزام کیا ہے وہ اس کی ادائیگی پر قادرہے اھ،اقول:(میں کہتاہوں)جو ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں اس کو مت بھولیں کہ نفع مطلقًا جاری ہوتاہے اگر چہ کپڑ ا ہو جیساکہ فتح میں کہا کہ اگر کسی طرح مبیع کے ثمن اس شخص کے پاس پہنچ جائیں جس کے ہاتھ اب یہ بیع بطور مرابحہ بیچ رہا ہے اور
معین کان یقول ابیعك مرابحۃ علی الثوب الذی بیدك وربح درھم اوکرشعیرا وربح ھذا الثوب جاز اھ [2] فالقصر علی المکیل والموزون لامفہوم لہ ومن البین ان اشتراط مثلیۃ الثمن الاول یوجب المماثلۃ بینہ وبین الثمن الثانی فی الجنس اذا لاہ لعاد علی مقصودہ بالنقص فان الشیئ ولومثلیا اذا بدل بخلاف جنسہ خرج المثل من البین وآل الامرالی التقویم فھناك قلتم لایمکنہ دفع مثلہ اذا الفرض عدمہ وھھنا نقول لایمکن دفعہ مثلہ اذ الفرض ان البیع الثانی بخلاف جنسہ وھذ اکان شیئا واضحا فی غایۃ الوضوح فسبحان الذی اذ ھل ھؤلاء الاکابر من مثلہ ولاعصمۃ الالکلام اللہ وکلام الرسول جل جلالہ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ۔
اس ثمن پر معین نفع لگائے مثلا یوں کہے کہ میں یہ چیز بطور مرابحہ تجھ پر فروخت کرتاہوں اس کپڑے کے عوض جو تیرے قبضے میں ہے اور ایك درہم کے نفع پر یا ایك کُر جو کے نفع پر یا اس کپڑے کے نفع پرتویہ بیع مرابحہ جائزہے اھ چنانچہ نفع کے کیلی اور وزنی اشیاء میں اقتصار کا کوئی مفہوم نہیں ،اور ظاہرہے ثمن اول کے مثل ہونے کی شرط اس بات کو واجب کرتی ہے کہ ثمن اول اور ثمن ثانی کے درمیان جنس کے اعتبار سے مماثلت ہو اس لئے کہ اگر ایسا نہ ہو تو یہ امر مقصود پر بطور نقض لوٹے گا کیونکہ کوئی شے اگرچہ مثلی ہو جب غیر جنس سے بدلی جائے تو مماثلت درمیان سے نکل جاتی ہے اور معاملہ قیمت لگانے کی طرف لوٹ آتاہے،وہاں تم نے کہا کہ ثمن اول کی مثل دیناممکن نہیں کیونکہ مفروض اس کا عدم ہے تو یہاں ہم کہتے ہیں کہ اس کی مثل دینا ممکن نہیں کیونکہ مفروض یہ ہے کہ بیع ثانی اس کی جنس کے غیر بدلے میں ہے یہ انتہائی واضح چیز ہے،پاك ہے وہ جس نے ان کا ابر کو اس جیسی ظاہر چیز بھلادی،خطا سے پاك تو صرف الله تعالٰی اور رسول الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کاکلام ہے۔(ت)
اور ناجائز یوں ہوئی جس کا بیان ابھی عنایہ وغیرہا کے حوالے سے گزرا کہ غیر جنس کا عوض اول کے مثل ومساوی ہونا محض تخمین واندازہ سے ہوگا اور تخمین میں غلطی کا احتمال ہے اور مرابحہ کی بناء کمال امانت پر ہے اس میں خیانت کا شبہ بھی حرام ہے پوراٹھیك ٹھیك ثمن اول کا مساوی بتاکر اس پر نفع باندھے،غیر جنس میں ٹھیك مساوات بتانا محال ہے لہٰذا مال ربوی جب اپنی جنس کے عوض کیا ہواسے مرابحۃ بیچنا ناممکن وحرام ہے،یہ وہ شرط ثانی ضروری ولازمی وواجب تھی جس سے بحرالرائق میں باوصف استقصاء کے غفلت واقع ہوئی،
وھذا م وعدناك من قبل بان الحد الذی اتی بہ لم یتم ایضا وکان علیہ ان یزید بعض قولہ"ممایتعین" غیر ربوی قوبل بجنسہ ثم العجب من العلامۃ المحقق ابی الاخلاص حسن الشربنلالی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی اذا ورد علی تعریف الدرر المذکور بیع مامبلکہ بمثل ماقام علیہ بزیادۃ مسئلۃ المثلی اذا غیبہ الغاصب وضمن وملك ولایرابح کما قدمنا عنہ،قال ولایرد علی من قال بیع بمثل الثمن الاول [3]۔اقول: صور بضمان الغصب فصدق ماقام علیہ ولم یصدق الثمن ولوصور بربوی مبلکہ بجنسہ کبر ببر لعم الضمان والاثمان وورد علی الکل بالسویۃ فہذا تحقیق الشرط الثانی وقد تفضل علی المولٰی سبحانہ وتعالٰی بہذا المباحث فاتقنہا فانك لاتجدہ فی محل اٰخر وﷲ الحمد علی تواتر الائہ والصلٰوۃ والسلام علی سید انبیائہ محمد واٰلہ واحبائہ۔
یہ وہ ہے جس کا ہم نے آپ کے ساتھ پہلے وعدہ کیا تھا کہ جو تعریف علامہ بحر نے بیا ن کی ہے وہ بھی تام نہیں،ان پر لازم تھا کہ وہ اپنے قول"ممایتعین"کے بعد یہ الفاظ بڑھاتے "غیر ربوی قوبل بجنسہٖ"یعنی وہ چیز مال ربوٰی کا غیر ہو جس کا مقابلہ اس کی جنس سے کیا گیا ہو،پھر علامہ محقق ابو الخلاص حس شربنلالی رحمہ الله تعالٰی پر حیرت ہے کہ جب درر کی اس تعریف"وہ ملوك چیز کی بیع ہے اس کی مثل کے ساتھ جتنے میں اس کو پڑی مع کچھ زیادتی کے"پر اس مسئلہ کے ساتھ اعتراض وارد ہوا کہ غاصب دینے پر وہ اس شیئ کوغائب کردیا اور اس کا ضمان دینے پر وہ اس شیئ مغصوب کا ماملك بن گیا اس کے باوجود وہ اس میں بیع مرابحہ نہیں کرسکتا جیساکہ اس سے نقل کرچکے ہیں،تو علامہ ابوالاخلاص حسن شربنلالی نے فرمایا کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع