30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہ بیع کا صرف ہونا مطلقًا اس کی ممانعت کو مستلزم،سونا کہ دس روپے کو خریدا تھا گیارہ روپے کو بیچا یا دس روپے بھر چاندی کا کنگن کہ ایك اشرفی کو مول لیا تھا ڈیڑھ اشرفی یا ایك اشرفی اورایك روپے کوبیچنا،یہ سب صرف ہی ہے اور مرابحہ اور جائز،نہ صرف نہ ہونا مطلقًا جواز مرابحہ کو کافی،من بھرگیہوں من بھر گیہوں کو خریدے،ان کی بیع مرابحہ حرام ہے کہ سود ہےحالانکہ صرف نہیں۔شرنبلالی علی الدرر میں ہے:
المثلی اذا غیبہ الغاصب وقضی علیہ بمثلہ مبلکہ ولا یجوز لہ بیعہ بازید منہ لکونہ ربی [1]۔
غاصب نے مثلی شے کو غائب کردیا،قاضی کی طرف سے اس پر اس کی مثل دینے کا فیصلہ صادر ہوا تو اب وہ مغصوب کا مالك بن گیا اس کے لئے جائز نہیں کہ اس چیز کو اس سے زائد پر فروخت کرے کیونکہ یہ سود ہے،(ت)
ہندیہ میں محیط سے ہے:
لواشتری مختوم حنطۃ بمختومی شعیر بغیر عینہما ثم تقا بضا فلابأس بان یبیع الحنطۃ مرابحۃ، وکذٰلك کل صنف من المکیل والموزون بصنف اٰخر اھ [2]،افاد بمفہوم قولہ بصنف اٰخر انہ لو قوبل الجنس بالجنس لم تجز المرابحۃ وسنعطیك دلیلہ ان شاء اللہ تعالٰی،
اگر کسی نے گندم کا ایك مختوم جو کے دو غیر معین مختوموں کے بدلے میں خریدا پھر باہمی قبضہ بھی کرلیا تو گندم کو بطور مرابحہ فروخت کرنے میں کوئی حرج نہیں ایسے ہی ہر کیلی اور وزنی چیزوں کی ایك قسم کو دوسری قسم کے ساتھ بیچنے کا یہی حکم ہے اھ ہندیہ کے قول یصنف اٰخر(یعنی دوسری قسم کے ساتھ)کے مفہوم نے یہ فائدہ دیا کہ اگر جنس کا مقابلہ جنس سے ہو توبیع مرابحہ ناجائز ہے،ہم عنقریب ان شاء الله تعالٰی تجھے اس کی دلیل دیں گے۔(ت)
بلکہ تحقیق یہ ہے کہ جوشے مرابحۃ بیچی جائے اس میں دو۲ شرطیں ہیں:
شرط اول:وہ شے معین ہو یعنی عقد معاوضہ اس کی ذات خاص سے متعلق ہوتاہے نہ یہ کہ ایك مطلق چیز ذمہ پر لازم آتی ہو، ثمن جیسے روپیہ اشرفی عقود معاوضہ میں متعین نہیں ہوتے،ایك چیز سو روپے کو خریدی کچھ ضرور نہیں کہ یہی سو روپے جو اس وقت سامنے تھے ادا کرے بلکہ کوئی سو دے دے،اور اگر مثلا سونے کے کنگن بیچے تو خاص یہی کنگن دینے ہوں گے،یہ نہیں کرسکتا کہ ان کو بدل کر دوسرے کنگن دے اگر چہ وزن ساخت میں ان کے مثل ہوں یہ شرط مرابحۃ وتولیۃ ووضیعہ تینوں میں ہے یعنی اول سے نفع پر بیچے یا برابر کو یا کمی پر،یہاں اس شیئ کا معین ہونا اس لئے ضرور ہے کہ یہ عقد اسی شیئ مملوك سابق پر وارد کا جاتاہے اور جب وہ معین نہیں تو نہیں کہہ سکتےکہ یہ وہی شی ہے،ولہٰذا اگرروپوں سے اشرفیاں خریدیں تو ان کو مرابحہ نہیں بیچ سکتے۔
کما نص علیہ فی التبیین والفتح و العنایۃ والکفایۃ و البحر والنہر و الظہیریۃ والخانیۃ وخزانۃ المفتین و الہندیۃ وجامع الرموز وغیرہما وان نقل ط عن حاشیۃ سری الدین علی الزیلعی نقل عن البدائع انہ یجوز [3]۔
جیسا کہ تبیین،فتح القدیر،عنایہ،کفایہ،بحر،نہر، ظہیریہ، خانیہ،خزانۃ المفتین،ہندیہ اور جامع الرموز میں اس پر نص کی گئی ہے اگرچہ ط نے تبیین کے حاشیہ سری الدین سے بحوالہ بدائع نقل کیا ہے کہ یہ جائز ہے۔(ت)
اس لئے کہ اشرفیاں معین نہیں ہوتیں،بیچنے والا ان اشرفیوں کے بدلے دوسری اسی طرح کی دے دیتاتو جائز تھا اور اب جو یہ بیچ رہا ہے اب بھی متعین نہ ہوں گی یہ اشرفیاں دے یا ان کے ساتھ کی دوسری،تو یہ کیونکر کہا جا سکتا ہے کہ جو اشرفیاں پہلے اس کی ملك میں آئی تھی وہی اتنے نفع پر بیچیں کہ بیع مرابحہ ہو،فتاوٰی امام قاضی خاں میں ہے:
رجل اشتری دنانیر بداراہم ثم باع الدنانیر مرابحۃ لایجوز لان الدنانیر لاتتعین فی البیع فلم یکن المقبوض بعقد الصرف مبیعا فی البیع الاول [4]۔
ایك شخص نے درہموں کے عوض دینار خریدے پھر ان دیناروں کو بطور مرابحہ بیچا تو یہ جائز نہیں کیونکہ دینار بیع متعین نہیں ہواکرتے لہٰذا عقد صرف میں جن دیناروں پر قبضہ کیا گیا بعینہ وہی بیع اول کامبیع قرار نہ پائے۔(ت)
فتح القدیر میں ہے:
انما لم تجز المرابحۃ فی ذٰلك لان بدلی الصرف لا یتعینان فلم تکن عین ھذہ الدنانیر متعینۃ لتلزم مبیعا [5]۔
اس میں مرابحہ اسی لئے ناجائزہے کہ بیع صرف کے بدلین متعین نہیں ہوتے تو بعینہ یہی دینار متعین نہ ہوئے کہ ان کا مبیع ہونا لازم ہوتا۔(ت)
اور اگر سونے کا گہناروپوں کو خریدا تو اسے مرابحۃ بیچ سکتاہےکہ وہ بیع میں متعین ہوگیا تو عقد سی مملوك اول پر واقع ہوگا۔
کما قدمناہ وبہ ظہر ان مرادہم ہنا بالعرض والسلع کل مایتعین ولم من احد النقدین وبالصرف مالا یتین فیہ البدل الذی حصل فی ملك من یرید بیعہ مرابحۃ وان الاولی قول الفتح المراد نقل ما ملکہ مما ھو ببیع متعین بدلا لۃ قولہ بالثمن الاول فان کون مقابلہ ثمنا مطلقًا یفیدان ماملکہ بالضرورۃ مبیع مطلقًا [6] اھ۔
[1] غنیہ ذوی الاحکام فی بغیۃ درر الاحکام باب المرابحۃ والتولیۃ میر محمد کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۸۰
[2] فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الباب لرابی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۱۶۱
[3] حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب البیوع باب المرابحۃ والتولیۃ دارالمعرفۃ بیروت ۳ /۹۴
[4] فتاوٰی قاضی خان کتاب البیوع فصل فی الاجل نولکشور لکھنو ۲/ ۴۰۱
[5] فتح القدیر کتاب البیوع باب المرابحۃ والتولیۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۱۲۲
[6] فتح القدیر کتاب البیوع باب المرابحۃ والتولیۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۱۲۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع