دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

اہلسنت کے نزدیك ایمان وکفر میں واسطہ نہیں تو جنین ضرور مومن ہے اور بحکم آیت رسول الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہر مومن کے ولی ووالی ہیں،یہ ثبوت آیت سے ہوا اور حدیث سے یہ کہ ابھی فقہائے کرام کی تصریحیں سن چکے کہ جنین کا کوئی ولی نہیں،اور رسول الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں:

اللہ ورسولہ مولٰی من لامولی لہ [1]۔ رواہ الترمذی وحسنہ وابن ماجۃ عن امیر المومنین الفاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ۱۲ منہ غفرلہ(ت)

جس کا کوئی ولی نہ ہواس کے ولی ووالی ومولٰی الله ورسول ہیں جل وعلا و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ (اسے ترمذی نے روایت کیااور اسے حسن قرار دیا اور ابن ماجہ نے اسے امیر المومنین عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کیا۔ت)۱۲ منہ غفرلہ

یقبض عنہ فصارکالبیع قلت فقدافاد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی انہ لاولایۃ لاحد علی الجنین اصلا وبہ ظہر خطأ من افتی ان الوصی یملك التصرف فی المال الموقوف للحمل[2]

قبضہ کرے چنانچہ یہ بیع کی طرح ہوگیا،میں کہتاہوں کہ مصنف علیہ الرحمۃ نے اس بات کافائدہ دیا کہ بیشك جنین پر کسی کو کسی قسم کی ولایت بالکل حاصل نہیں تو اس سے اس شخص کی غلطی ظاہر ہوگئی جس نے یہ فتوٰی دیا کہ حمل کے لئے رکھے ہوئے مال میں وصی تصرف کرنے کامالك ہے۔(ت)

عقود الدریہ میں منح الغفار سے ہے:

لاولایۃ للاب علی الجنین فضلا عن الوصی لقول الزیلعی ولایلی علی الحمل اھ[3]۔

باپ کو جنین پر ولایت حاصل نہیں تو وصی کو کیسے حاصل ہوسکتی ہے بسبب زیلعی کے قول کے کہ اس کو حمل پر ولایت نہیں اھ(ت)

اور جو عقد جس وقت محتاج اجازت ہو اور اس وقت اس کا اجازت دینے ولا کوئی نہ ہو وہ باطل محض ہوتا ہےکہ پھر آئندہ کوئی صالح اجازت پیدا ہوکر اجازت بھی دے تو جائز نہیں ہوسکتا،درمختارمیں ہے:

مالامجیزلہ حالۃ العقد لاینعقد اصلا بیانہ صبی باع مثلا ثم بلغ قبل اجازۃ ولیۃ فاجازہ بنفسہ جاز لان لہ ولیا یجیزہ حالۃ العقد بخلاف مالوطلق مثلا ثم بلغ فاجازہ بنفسہ لم یجز لانہ وقت العقد لامجیز لہ فیبطل [4]۔

جس بیع کا بوقت عقد کوئی اجازت دینے والا نہ ہو وہ اصلا منعقد نہیں ہوتا اس کا بیان یہ ہے کہ نابالغ بچے نے بیع کی پھر ولی کی اجازت سے قبل بالغ ہوگیا اور بذات خود اس کی اجازت دے دی تو بیع جائز ہوگئی کیونکہ بوقت عقد اس بیع کی اجازت دینے والا اس کا ولی موجود تھا جو بیع کی اجازت دے سکتا تھا بخلاف اس کے کہ اس نے نابالغی کی عمر میں طلاق دی پھر بالغ ہوکر بذات خود اس کی اجازت دی تو یہ طلاق جائزنہ ہوگی کیونکہ بوقت عقد اس کا کوئی اجازت دہندہ نہ تھا لہٰذا یہ باطل ہوگئی (ت)

تو ظاہر ہواکہ صورت مستفسرہ میں یارمحمد مومشتری کا اختلاف کہ ہشام نے وہ بیع صحت میں کی یا مرض الموت میں درحقیقت اس بیع کی انعقاد وبطلان میں اختلاف ہے مشتری مدعی ہے کہ وہ بیع شرعا منعقد ہے اور یارمحمد کہتاہے منعقد نہیں بلکہ محض باطل وکالعدم ہے اور جب بیع کے بطلان وانعقاد میں اختلاف واقع ہو تو قول اس کا بحلف معتبرہے جو قائل بطلان ہو، اشباہ والنظائر ودرالمختار میں ہے:

اختلف المتبایعان فی الصحۃ والبطلان فالقول المدعی البطلان وفی الصحۃ و الفساد لمدعی الصحۃ الافی مسئلۃ فی اقالۃ [5]۔

ائع اور مشتری کا بیع کی صحت وبطلان میں اختلاف واقع ہو تو بطلان کا دعوٰی کرنے والے کا قول معتبر ہوگا اور اگر صحت وفساد میں اِختلاف ہو تو صحت کا دعوٰی کرنے ولا کا قول معتبر ہوگا سوائے اقالہ کے(ت)

اسی طرح جب صحت مرض میں اختلاف ہو کہ مورث نے یہ عقد وارث کے ساتھ یا اس کے لئے فلاں اقرار اپنے مرض میں کیا یاصحت میں،تو قول اس کا معتبر ہے جو مرض میں ہونا بتاتاہے۔ردالمحتارمیں ہے:

لواقر لوارث ثم مات فقال المقرلہ اقرفی صحتہ وقال بقیۃ الورثۃ فی مرضہ فالقول قول الورثۃ والبینۃ للمقرلہ وان لم یقم بینۃ واراداستحلافہم لہ ذٰلك [6]۔

اگر کسی نے اپنے کسی وارث کے لئے کسی شے کا اقرار کیا پھر مرگیا اب مقرلہ،(جس کے لئے اقرار کیا گیا)کہتاہے کہ یہ اقرار اس نے حالت صحت میں کیا جبکہ دیگر ورثاء کہتے ہیں کہ اس نے یہ اقرار مرض الموت میں کیا تو دیگر وارثوں کا قول معتبر ہوگا اور گواہ پیش کرنا مقرلہ،کے ذمے ہے اگر وہ گواہ پیش نہ کرے اوردیگر وارثوں سے قسم لینا چاہے تو اس کو ایسا کرنے کا حق ہے۔(ت)

اسی میں ہے:

فی الاتقروی ادعی بعض الورثۃ ان المورث وہبہ شیئا معینا وقبضہ فی صحتہ وقالت البقیۃ کان فی المرض فالقول لہم و ان اقاموالبینۃ فالبینۃ لمدعی الصحۃ[7]۔

 



[1]      سنن ابن ماجہ ابواب الفرائض باب ذوی الارحام ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۲۰۱

[2]     غمز عیون البصائر مع الاشباہ الفن الثالث القول فی الملك ادارۃ القرآن الخ کراچی ۲/ ۲۰۳

[3]      العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ کتاب الوصایا باب الوصی ارگ بازار قندھار افغانستان ۲ /۳۳۰

[4]     درمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی مطبع مجتبائی دہلی ۲/۳۱

[5]      درمختار کتاب البیوع باب الاقالۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۴،اشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب البیوع ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱/ ۳۲۶

[6]      ردالمحتار کتاب الشہادات باب القبول وعدمہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۳۸۷

[7]      ردالمحتار کتاب الشہادات باب القبول وعدمہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۳۸۷

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن