دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

تھے اور یارمحمد بھتیجے حشام نے کہا کہ بیع کرنے کے بعد چچااپنی چارپائی سے نہ اٹھے اور فوت ہوئے،اس بات میں پنچوں نے صلاح کیا کہ جو لوگ قریب مکان کے رہیتے ہیں ان سے دریافت کرناچاہئے تب دو۲ آدمی پڑوسی کو بلایا ایسے کہ وہ لوگ حشام کے گھر جاتے رہتے تھے،وہ لوگ آئے یعنی مسمی الہی بخش ومسمی جان محمد،دونوں گواہوں سے پوچھا گیا تو جو گواہوں نے شہادت دی ہے وہ رقم ہوتاہے فقط۔

بیان الہٰی بخش گواہ کا یہ ہے:الہٰی بخش ازروئے حلف بمقابلہ پنچوں کے مسجد میں بیان کیا کہ میں گاہ گاہ ان کے گھر جاتا تھا تو حالت حشام کی ایسی تھی کہ سوائے چارپائی کے کہیں جانہیں سکتے تھے اور ضعف اس قدر تھا کہ واسطے حاجات ضروری کے مکان سے باہر نہیں جاسکتے تھے مکان کے اندر پاخانہ وپیشاب کرتے تھے اور بیعنامہ لکھنے کے تخمینا ایك ماہ سے کمتر میں انتقال کرگئے،بیان جان محمد گواہ کا یہ ہے:مسجد میں بیان کیا گیا کہ حشام نے جب بیعنامہ لکھا تو حالت ان کی یہ تھی کہ سوائے چاپائی کے کہیں جانہیں سکتے تھے،بیماری میں ضعف اس قدر تھا کہ واسطے پاخانہ وپیشاب کے مکان سے باہر نہیں جاسکتے تھے اندرہی مکان کے حاجت اداکرتے تھے میں گاہ گاہ ان کی حالت کو جاتا رہتا تھا تو اسی چارپائی پر جھك کر حقہ بھی بھرلیتے تھے،اور اسی بیماری میں تخمینا ایك ماہ سے کمتر میں قضا کرگئے۔

الجواب:

بیع جو مرض الموت میں وارث کے نام کی جائے حکم وصیت میں ہے کہ بعد موت مورث،بے اجازت وارث باطل ہے، فتاوٰی امام قاضیخاں وغیرہ میں ہے:

من البیع الموقوف اذا باع المریض فی مرض الموت من وارثہ عینا من اعیان مالہ ان صح جاز بیعہ وان مات من ذلك المرض ولم یجز موقوف بیوع میں سے ہے کہ جب مریض نے مرض موت میں اپنے مال میں سے جو معین چیز انے کسی وارث کے ہاتھ فروخت کی اب اگر وہ صحتیاب ہوگیا تو بیع جائز ہوجائے گی اور گر اسی بیماری میں مرگیا اور اس کے وارثوں نے الورثۃ بطل البیع [1]۔ اس بیع کی اجازت بھی نہ دی تو بیع باطل ہوجائے گی۔(ت)

او وقت اجازت متصل موت مورث ہے یہاں تك کہ حیات میں اجازت ورثہ معتبر نہیں،ہدایہ میں ہے:

لامعتبر باجازتہم فی حال حیاتہ لانہا قبل ثبوت الحق،اذا لحق یثبت عندالموت [2]۔ مریض کی زندگی میں وارثوں کی اجازت معتبر نہیں کیونکہ یہ اجازت ثبوت حق سے پہلے ہوئی اس لئے کہ واثوں کا حق تو مریض کی موت کے وقت ثابت ہوگا۔(ت)

اور موت ہشام سے چند ماہ بعد لڑکا پیدا ہونے سے ثابت ہواکہ وقت موت یہ لڑکا بھی ایك وارث تھا اور اگر بچہ کہ ہنوز پیٹ میں ہو ظاہر ہے کہ نہ تو خود اس کی اجازت متصور نہ اس کی طرف سے کسی کی اجازت ممکن کہ پیٹ کے بچے پر الله عــــــہ ورسول جل جلالہ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سوا کسی ولی یا وصی

عــــــہ: الله جل جلالہ کا ولی ووالی جملہ عالم ہونا ظاہر اور اس کی خلافت سے حضور پرنور سید عالم خلیفہ اعظم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ولایت بھی ہر شیئ پر ہے اور خود جنین پر حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ولایت فقیر قرآن عظیم وحدیث صحیح سے ثابت کرسکتاہے،آیت تو قول الہٰی عزوجل النبی "اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ"[3]جس میں ارشاد ہو اکہ رسول الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہر مسلمان پر اس کی جان سے زیادہ ولی وواولی ومختار وصاحب تصرف واقتدار ہیں،اور شك نہیں کہ جنین بھی انسان ہے اور یقینا کافر نہیں،رسول الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں :

کل مولود یولد علی فطرۃ الاسلام [4]۔

ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتاہے۔(ت)(باقی برصفحہ آئندہ)

یاحاکم یہاں تك کہ خود باپ کو بھی ولایت نہیں۔ ولوالجیہ پھر معین المفتی پھر غمز العیون القول فی الملك میں ہے:

لاولایۃ للاب علی الجنین [5]۔

جنین پر باپ کی ولایت حاصل نہیں۔(ت)

ثالث میں ثانی سے ہے:

وفی التبیین ولاتصح الہبۃ للحمل لان الھبۃ من شرطہا القبول والقبض ولایتصور ذٰلك من الجنین ولایلی علیہ احدحتی

تبیین میں ہے: حمل کے لئے ہبہ درست نہیں کیونکہ قبول وقبضہ ہبہ کی شرائط میں سے ہے جبکہ جنین سے یہ متصور نہیں اور نہ ہی اس پر کسی کو ولایت حاصل ہے کہ وہ اس کی طرف سے

 

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) الله سبحانہ وتعالٰی فرماتاہے:

" فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَاؕ "[6]

الله کی فطرت وہ ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا فرمایا۔(ت)

 



[1]                  فتاوٰی قاضی خاں کتاب البیوع فصل فی البیع الموقوف نولکشور لکھنؤ ۲/ ۳۵۳

[2]                   الہدایہ کتاب الوصایہ مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۶۵۱

[3]                   القرآن الکریم ۳۳ /۶

[4]                   صحیح البخاری کتاب الجنائز قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۸۱،صحیح مسلم کتاب القدر باب معنی کل مولود یودل علی الفطرۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۳۶

      [5]غمز عیون البصائرمع الاشباہ الفن الثالث القول فی الملك ادارۃ القرآن الخ کراچی ۲/ ۲۰۳

[6]      القرآن الکریم ۳۰ /۳۰

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن