30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ ایك عورت نے اپنے مال سے نابالغ بچے کے لئے جائداد خریدی تو شراء ماں کے لئے واقع ہوئی کیونکہ وہ بچےکے لئے خریداری کی مالك نہیں اور وہ جائداد بچےکی ہوگی کیونکہ مال ہبہ کرنے والی بن گئی۔(ت)
پس اس صورت میں بھی بعد قبضہ خالد کے ملك تام ہوگئی اور ان مکانات میں کسی کا کچھ حق نہ رہا اور زرثمن میں اگرعمرو نےکچھ دیا بھی تو اس کا وہی حال ہےجو اوپر مذکور ہوا یعنی بطور تطوع تھا تو کسی پر مطالبہ نہیں اور بطور قرض تھا تو وہ زید پر ہے خالد سےکچھ تعلق نہیں،ہاں اگر نفس عقد زید وعمرو دونوں کے لئے واقع ہوتا مچلا بائع کہتا میں نے یہ مکان تم دونون کے ہاتھ بیچے،یہ کہتے ہم نے خریدے،یا عمرو زید کو اپنی طرف سے اپنے مکان کی خریداری کا وکیل کردیتا تو البتہ وہ بحصہ مساوی زید وعمرو دونوں کے ملك ہوتے اگرچہ عمرو نے ثمن میں کچھ نہ دیا ہو اور اب یہ ہبہ بنام خالد کہ صرف زید نے کیا محض ناجائز رہتا،
لانہ مایملك الاھبہ مبلکہ وھو مشاع ولایکفی سکوت عمرو حتی یجعل ھبۃ لکل لان سکوت المالك یبیع الفضولی لایکون رضا کما فی الاشباہ فکیف بالھبۃ [1]۔
کیونہ وہ تو صرف اپنی ملك کو ہبہ کرنے کا مالك ہے،اور اس کی ملك جزء غیر منقسم ہے جس کاہب جائز نہیں)اور عمرو کا سکوت کافی نہیں کہ دونوں کا ہبہ بنادیا جائے کیونکہ فضولی کی بیع کے وقت مالك کا سکوت اس کی رضا نہیں ہوتا جیسا کہ اشباہ میں ہے تو ہبہ میں ایسا کیسے ہوسکتاہے(ت)
مسئلہ ۹۹: از پیلی بھیت مرسلہ مولوی عبدالاحد صاحب ۴ جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے بحالت مرض الموت ایك حقیت بحق وارث بیع کی بہ امورات خیر،تویہ وقف رہا یا بیع؟ ایسی صورت میں یہ بیع بھی ایك ثلث میں بحق وارث رہ سکتی ہے یانہیں ؟ یہ بیع ایسی حالت میں بیع جانی جائے گی یاہبہ؟ فقط بینوا توجروا
الجواب:
جبکہ بیع کی ہے تو وہ عقد نہ وقف ہوسکتاہے نہ ہبہ ہوسکتاہے بلکہ بیع ہی ہوگا اگر واقعی اسی مرض میں ہے جسے شرعا مرض الموت مانا جائے تو وارث کے ہاتھ بے اجازت دیگر ورثہ مطلقًا ناجائز ہے نہ ثلث میں نافذ ہوسکتی ہے ہزارویں حصے میں،والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۰: از قصبہ فیروز آباد ضلع آگرہ مسئولہ سید بشارت علی وسرفراز علی سوداگران چوڑی ۲ ذی الحجہ ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اس زمانے میں گورنمنٹ نے شہر بہ شہر،قصبہ بہ قصبہ،گاؤں بگاؤں مویشی خانے مقرر کررکھے ہیں اس میں لاوارثی گائے بیل بکری وغیرہ داخل کی جاتی ہیں اور وہ زیادہ سے زیادہ پندرہ یوم مویشی خانہ میں اس وجہ سے رہتی ہے کہ جب مالك مویشی آئے گا اس وقت زرجرمانہ و زرخوراك وصول کرکے چھوڑ دیا جائے گا اور جب میعاد مقررہ تك مالك راس نہیں آیا تو اس جانور کو حاکم پرگنہ یا حاکم متعلقہ نیلام کردیتاہے،اب سوال یہ ہے کہ ایسی بیع جائز ہے یانہیں ؟ اس قسم کی گائے بیل وغیرہ نیلام میں سے خرید کرکے بقرہ عید پر قربانی کرنا اس جانور کا جائز ہے یانہیں ؟ دوسری بات یہ ہے کہ اگر ایسے جانور کو دوسرا شخص خریدے خواہ ہندو ہو یا مسلمان پھر اس سے ایك اور شخص خرید کرکے قربانی کرے تو جائز ہے یانہیں ؟ قربانی کرنے والے کو اس کا علم ہے کہ اس نے مویشی خانے میں سے نیلام میں خریدی ہے زید وعمرو دونوں مولوی ہیں یہ دونوں کہتے ہیں کہ ایسے جانور کی قربانی جائز ہے اور بکر ایك مولوی ہے وہ یہ کہتاہے کہ یہ جانور حکم لقیط میں ہے لہٰذا ایسے جانور کی قربانی بھی ناجائز ہے؟ بینوا توجروا۔
الجواب:
جو چیز ہے بے اطلاع مالك بیچی جائے وہ بیع اجازت مالك پر موقوف رہتی ہے قبل از اجازت اگر سو بیعیں یکے بعد دیگرے ہوں سب اسی کی اجازت پر موقوف رہیں گی اور قبل اجازت اس میں کوئی اس کا مالك نہ ہوگا نہ اس کا تصرف جائز ہو،نہ اس کی قربانی ہوسکے،لقطہ کاحکم تشہیر ہے اس کے بعد فقیر پر تصدق نہ کہ بلاتشہیر بیع،ہاں بعد اطلاع جس بیع کہ وہ نافذ کردے نافذ ہوجائیگی جبکہ بائع ومشتری وبیع قائم ہوں،فتاوٰی قاضی خاں وفتاوٰی عالمگیریہ وغیرہما میں ہے:
اذا باع الرجل مال الغیر عندنا یتوقف البیع علی اجازۃ المالك ویشترط لصحۃ الاجازۃ قیام العاقدین و المقعود علیہ [2]۔
جب کسی شخص نے غیر کا مال فروخت کیا توہمارے نزدیك یہ بیع مالك کی اجازت پر موقوف ہوگی اور اجازت کے صحیح ہونے کے لئے شرط ہے کہ عاقدین اور معقود علیہ قائم ہو،(ت)
مسئلہ ۱۰۱: از بنارس محلہ کچی باغ علاقہ جیت پورہ مرسلہ خلیل الرحمن صاحب ۲۸ جمادی الاولٰی ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں جو کچھ ازروئے کتب معتبرہ ہو بیان فرمائیں،بینوا توجروا واضح ہو کہ مسمٰی حشام جب بیمار ہوئے تو حالت بیماری میں اپنا مکان اپنی زوجہ واپنی دختر دونوں کے ہاتھ بیع کیا مگر گواہان سے ثابت ہوا کہ زرثمن روبرو گواہوں کے مشتریاں مذکورہ نے ادانہیں کیا اور بعد بیع کرنے مکان کے مسمی حشام ایسے نہ ہوئے کہ چارپائی سے اٹھر کر کام ضروری کرتے آخر بعد اکیس یوم کے قضا کرگئے،اور بعد قضا کرنے حشام کے ان کی دختر بھی ایك ہفتہ کے بعد مرگئی،اور پھر گزرنے مدت پانچ ماہ کےلڑکا حشام کا پیدا ہوا،اور بعد پیدا ہونے بیٹے کے مسماۃ جان بی بی زوجہ حشام بیمار ہوئیں اوربیماری کی حالت میں زوجہ حشام نے مکان مذکور کو ایك شخص کے ہاتھ بیع کیا اور بعد بیع کرنے مکان کے چار روز بعد زوجہ حشام بھی قضا کرگئیں فقط۔
لڑکا حشام کا جو پیدا ہوا تھا وہ تنہا رہا،پھر وہ لڑکا بھی دو۲ مہینے بعد مرگیا،جب سب لوگ مرگئے کوئی نہ بچا مگر ایك براردر زادہ حشام کے مسمی یارمحمد ہیں،تو یار محمد سے اور جس کے ہاتھ زوجہ حشام نے مکان بیع کیا تھا اس سے تنازع ہوئی،مشتری نے کہا کہ ہم نے خریدا ہے اور یارمحمد نے کہا کہ ہمارا حق ہوتاہے ہم مالك ہیں، غرضکہ جب جھگڑا زیادہ اہل محلہ نے دیکھا تب پنچوں نے دونوں سے کہا کہ جھگڑو نہ ہم لوگ تمھارا جھگڑا طے کردیں گے،پنچ جمع ہوئے،مطلب سے آگاہ ہوئے یعنی مشتری نے کہا کہ حشام بعد بیع کرنے مکان کے تندرست ہوگئے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع