30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
درمختارمیں ہے کہ اگر فضولی مشتری نے شراء کی نسبت کسی غیر کی بایں طور کہ یوں کہا یہ غلام فلاں کے لئے فروخت کر،بائع نے کہا میں نے فلاں کے لئے فروکت کیا،تویہ شراء موقوف ہوگی،بزازیہ وغیرہ اھ۔ردالمحتار میں ہے کہ اس شخص کی اجازت پر موقوف ہوگی جس کے لئے فضولی نے خریداری کی اگر وہ اجازت دےگا تو یہ شراء جائز ہوجائےگی اور اس کی ذمہ داری اجازت دینے والے پر ہوگی نہ کہ عاقدین پر۔(ت)
جبکہ خالد نے مکانات پر قبضہ کیا وہ شراء جائز ونافذ ہوگیا۔
کما ان قبض الثمن اجازۃ لبیع الفضولی فی الدار المختار اخذ المالك الثمن اجازۃ [1] اھ ملخصا ثم قال وافاد کلامہ جواز الاجازۃ بالفعل والقول [2] اھ، جیسا کہ ثمن پر قبضہ کرنا بیع فضولی کی اجازت ہوتاہے درمختار میں ہے کہ مالك کا ثمن وصول کرنا اجازت ہے اھ ملخص، پھرکہا ماتن کا قول اس بات کا فائدہ دیتاہے کہ اجازت قول وفعل دونوں سے جائز ہے۔اھ(ت)
اور تقریر سوال سے ظاہر کہ ثمن زید نےبطورخود بے اذن وامر خالد اپنے مال سے ادا کیا تو وہ اس امر میں تبرع واحسان کرنیوالا تھا اور یہ بات خود گفتگو مذکور سوال سے واضح ہے پس مکانات بے شرکت غیرے خاص ملك خالد ہیں اور اس پر وارثان زید کا کوئی دعوٰی نہ دربارہ مکانات ہے نہ درباب ثمن،
فی الفتاوی الخیریۃ اذا دفع دینا لحق الاخر باذنہ فلہ الرجوع علیہ ولایکون متبرعا للاذن حتی اذالم یاذن لہ بہ کان متبرعاوبہ یعلم انہ اذادفع مہر زوجتہ عنہ باذنہ اوثمن الجاریۃ التی امرہ بشرائہا یرجع علیہ بما دفع والحال ھذہ [3] اھ۔
فتاوٰی خیریہ میں ہے اگر کسی نے دوسرے کا قرض اس کی اجازت سے ادا کیا تو اس سے رجوع کرسکتاہے اور متبرع نہ ہوگا کیونکہ اس کی اجازت سے ادائیگی کی ہے حتی کہ اگر مقروض نے اس کو ادائیگی قرض کا اذن نہ دیا ہوتا تویہ احسان کرنے والا قرار پاتا(یعنی حق رجوع نہ رکھتا)اس سے معلوم ہوا کہ اگر کسی نے شوہر کے اذن سے اس کی طرف سے ا س کی بیوی کا مہراداکردیا یا کسی کی لونڈی کی قیمت ادا کردی جس کی خریداری کا اس نے حکم دیا تھا تو ادا کرنے والا شوہر اور لونڈی کے مالك سے رجوع کرسکتاہے اور صورت حال یہی ہے اھ(ت)
رہا عمرع اگر واقع میں کچھ روپیہ اس کا بھی ادائے ثمن میں صرف ہوا اور اس نے بھی مثل زید بطور خود دیا تھا تو وہ بھی متبرع ہے جس کا مطالبہ کسی سے نہیں کرسکتا،اور اگر زید نے اس سے مانگ کر ثمن میں صرف کیا تو غایت یہ ہے کہ یہ قرض عمرو کا زیدپر ہوگا اس کے ترکہ سے لے،خالد پر کوئی دعوٰی اسے نہیں پہنچتا۔
فانہ ان اقرض فانما اقرض زید ا فعلیہ العھدۃ لاعلی خالد کما لایخفی۔
اس لئے کہ اگر اس نے قرض دیاتھا تو یہ قرض زید کو دیا تھا اس پر اس کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے نہ کہ خالد پر،جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔(ت)
اور اگر عقد بیع وشراء بنام زید ہوا تھا اگرچہ بعد کو زید نے بیعناموں میں خالد کا نام لکھا دیا تو وہ مکان وقت خریداری مملوك زید ہوئے۔
لان الشراء اذا وجد نفاذا نفذ علی العاقد [4] کما نص علی فی الہدایۃ والدرالمختار وعامۃ الاسفار فی الدر لو اشتری لغیرہ نفذ علیہ[5] الخ۔
کیونکہ شراء نفاذ کی گنجائش پائے تو عائد پر نفاذ ہوجاتی ہےجیساکہ اس پر ہدایہ اور عام کتابوں میں نص کی گئی ہے، درمیں ہے کہ اگر کسی غیر کے لئے خریداری کی تو خود اس پر نافذ ہوگی الخ(ت)
اور عمرو کا روپیہ ادائے ثمن میں دیا بھی گیا ہو تو ا س سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ مکان خرید کردہ عمرو کے ٹھہریں یاان میں اس کا حصہ قرارپایا جائے بلکہ تنہا زید ہی اس کامالك ٹھہرے گا،
فی الفتاوی الخیریۃ لاتثبت الدارللاب بقول الابن اشتریتہا من مال ابی اذا لایلزم من الشراء من مال الاب ان یکون المبیع للاب لانہ یحتمل القرض و الغصب [6]۔ فتاوٰی خیریہ میں ہے کہ بیٹے کے یوں کہنے سے کہ میں نے گھر اپنے باپ کے مال سے خریدا ہے گھر باپ کے لئے ثابت نہ ہوگا کیونکہ باپ کے مال سے خریدنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ مبیع باپ کے لئے ہو اس لئے کہ اس میں یہ احتمال موجود ہے کہ اس نے باپ کا مال غصب کیا ہو یا قرض کیاہو۔(ت)
پھر بعد خریداری جو افعال واقوال زید سے واقع ہوئے اور اس نے وہ مکان خالد کا نام بیعنام میں لکھا کراسے سپردکردئے یہ صریح دلیل ہبہ ہے۔
فالہبۃ ایضا ینعقد بالتعاطی دل علیہ فروع جمۃ فی المذہب وفی الدرالمختار اتخذ لولدہ اولتلمیذہ ثیاباثم اراد دفعہا لغیرہ لیس لہ ذٰلك مالك یبین وقت الاتخاذ انہا عاریۃ [7] اھ وفی العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ وفی الذخیرۃ والتجنیس امرأۃ اشتری ضیعۃ لولدھا الصغیر من مالہا وقع الشراء للام لانہا لاتملك الشراء للولد وتکون الضیعۃ للولد لان الام تصیر واھبۃ [8]۔
چنانچہ ہبہ بھی تعاطی(باہمی لین دین)سے منعقد ہوجا تا ہے اس پر مذہب میں واقع کثیرفروع دلالت کرتی ہے، در مختارمیں ہے کہ بیٹے یا شاگرد کے لئے کسی نے کپڑے بنائے پھر غیر کو دینے کا ارادہ کیا تو اس کو ایسا کرنے کا اختیار نہیں جب تك کہ بنانے کے وقت یہ وضاحت نہ کردی ہو کہ یہ کپڑے عاریت ہیں اھ عقود الدریہ،فتاوٰی حامدیہ،ذخیرہ اور تجنیس میں ہے
[1] درمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی مطبع مجتبائی دہلی ۲/۳۲
[2] درمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی مطبع مجتبائی دہلی ۲/۳۲
[3] فتاوٰی خیریہ کتاب البیوع فصل فی الفضولی دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۲۳۴
[4] ردالمحتار کتاب البیوع باب المتفرقات داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۲۲۰،فتاوٰی قاضی خاں کتاب البیوع فصل فی البیع الموقوف نولکشور لکھنؤ ۲ /۳۵۱
[5] درمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱
[6] فتاوٰی خیریہ کتاب البیوع فصل فی الفضولی دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۱۹
[7] درمختار کتاب الہبۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۰
[8] العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوٰی الحامدیۃ کتاب الوصایۃ عبدالغفار کتبخانہ قندہار افغانستان ۲ /۳۳۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع