دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

شرعا درصورت مسؤل فیہا زید مستحق یافتن زرثمن کہ در عدالت دادن زید ثابت گردیدہ از روثہ عمرو بعدتسلیم مکان بایشان است،واقرار زید بمکان برائے عمرو کہ ہمچوں صورت خرید درغیبت دادن ثمن از نردخود بمعنی خریدہ شدن برائے عمرو است اقرار بملکیت ثمن برائے عمو عموما خصوص بحالیکہ زید بودن ثمن ازاں خود گفتہ باشد نمی تواند شد چہ اقرار بریك چیز اقرار بچیز دیگر منفصل از مقربہ کہ جزء تابع آں نباشد نمے شود وزرثمن کہ چیزے منفصل وعلیحدہ ا ز مکان مقربہ است بجہت نبودن جزء مکان ومرکب نبودنش دراں تابع مکان نیست پس داخل دراقرار مکان عموما خصوص درحالیکہ زید بودنش ازاں خود گفتہ باشد نمی تواند شد مانند اقرار بجاریہ مقبوضہ ذات صورت مسئولہ میں عمرو کے ورثاء کومکان سپرد کرنے کے بعد زید ان سے وہ زرثمن حاصل کرنے کا شرعی طور پرمستحق ہے جس زرثمن کی زید کی طرف سے عدالت میں ادائیگی ثابت ہے،اورزید کا یہ اقرار کہ مکان عمرو کے لئے ہے جیسا کہ خریداری کی صورت میں عمرو کی عدم موجودگی میں اپنے پاس سے ثمن ادا کرنا بایں معنی کہ مکان کی خریداری عمرو کے لئے ہے اس بات کا اقرار عموما نہیں ہوسکتا کہ ثمن عمر وکی ملکیت تھے خصوصا اس حال میں کہ جب زید نے اپنے پاس سے ثمنوں کی ادائیگی کاکہا بھی ہو(تو بدرجہ اولی ثمنوں کا ملك عمرو ہوناثابت نہ ہوگا)کیونکہ ایك چیز کا اقرار کسی دوسری ایسی چیز کا اقرار نہیں ہوسکتا جو اس چیز سے منفصل ہو جس کا اقرار کیا گیا ہے اوراس کی تابع جزء نہ ہو،اور ثمن اس مکان سے منفصل اور علیحدہ چیز ہے جس مکان کا اقرار زید نے عمرو کے لئے کیا ہے لہٰذا اس مکان کی جزء نہ ہونے اور اس کے ساتھ مرکب نہ ہونے کی وجہ سے زر ثمن مکان کے تابع نہیں چنانچہ بالعموم اقرار مکان میں داخل نہ ہوسکے گا ولد واقرار بصندوق محمولہ متاع و اقرار بدار مقبوضہ مشمولہ بمتاع ودواب کہ اقرار بولد جاریہ ومتاع صندوق ومتاع دار ودواب از ہمیں علت جامعہ یعنی از جہت نبودن ہر یکے ازاں جزو تابع مقربہ نمے شود درفتاوٰی قاضیخان نوشتہ رجل فی یدیہ جاریۃ وولدہافقال ان الجاریۃ لفلان لایدخل فیہ الولد [1] الخ۔ودرمحیط نوشتہ(عبارت منقول بر ہامش در مختار ص ۴۸۲)انتہٰی ملتقطا واگر نیك غور کردہ آید ہمیں مضموم یعنی داخل نبودن ثمن غیر مقربہ در اقرار مکان ولازم نبودنش برمقران ازھدایہ وعینی وغیرہما بقیہ مااقربہ درعبارت لزمہ اقرارہ مجہولہ کان مااقربہ اومعلوما [2]والاقرار ملزم علی المقرما اقربہ [3]۔ واضح مے شودوچوں ثمن غیر مقربہ داخل در اقرار مکان نمی تواند شد خصوصا اس حال میں کہ جب زید نے یہ کہہ بھی دیا ہے کہ ثمن میں اپنے پاس دے رہاہوں یہ ایسے ہی ہوگیا جیسے کوئی شخص اولاد والی مقبوضہ لونڈی کے بارے میں اقرار کرے یا اس صندوق کے بارے میں اقرار کرے جس میں سامان ہویا ایسے گھر کے بارے میں اقرار کے جس میں سامان اور چوپائے ہوں تو یہ اقرار لونڈی کی اولاد،صندوق میں رکھے ہوئے سامان اور گھر میں موجود سامان اور چوپایوں کو شامل نہ ہوگا اسی علت جامعہ کی وجہ سے یعنی اس وجہ سے کہ ان میں کوئی بھی ان چیزون کی جزء وتابع نہیں جن کے بارے میں اقرار کیا گیا،فتاوٰی قاضی خاں میں لکھا ہوا کہ ایك شخص کے قبضہ میں لونڈی اور اس کی اولاد ہوا اور وہ کہے کہ یہ لونڈی فلاں شخص کی ہے تو لونڈی کی اولاد اس اقرار میں داخل نہ ہوگی الخ۔اور محیط میں مرقوم ہے(عبارت برہامش درمختار ص ۴۸۲)انتہی ملتقطا اور اگر خوب غور کیا جائے تو یہی مضمون یعنی غیر اقرار شدہ ثمنوں کا اقرار مکان میں داخل نہ ہونا اور مکان کا اقرار کرنیوالوں پرثمن کا لازم نہ ہونا ہدایہ اور عینی وغیرہ میں مذکور مااقربہ(جس کا اس نے اقرار کیا)کی قید سے حاصل ہوتاہے جو قید انھوں نے ان عبارتوں میں لگائی کہ مقرپر اس کا اقرار لازم ہو جاتاہے چاہے پس زید کہ مکان مذکور آں بلااجازت عمرو بنام اوخریدہ زرثمن آں از نرد خود بجہت مباشربودن معاملہ خرید ومضطر بودن درادائے ثمن کہ دینے واجب الادا بود ببائع آں نمود ورثہ عمرو آں مکان را بعد حکم حاکم برتسلیم زید درقبض خود درآورند بے شبہہ ز ید مستحق یافتن زرثمن ادا کردہ خود از ورثہ عمر واست واحتمال تطوع وتبرع درہمچوں حالت اضطرار ادائے ثمن مفقود کہ شرعا مضطر بادائے دین ذمگی کسے بہ نہجیکہ باشد ہر گز متطوع ومتبرع قراردادہ نمی شود چنانچہ ازیں روایت معتبرہ شرح حموی ظاہر ست لو قضی واحد من الورثۃ حق الغریم من مالہ علی ان لایرجع فی الترکۃ فالقاضی لاینقض القسمۃ بل یمضیہا امااذا شرط الرجوع او سکت فالقسمۃ مردودۃ الاان یقضوا حق الوارث الذی قضی حق الغریم من مالہ وھذا الجواب وہ شے جس کا اس نے اقرار کیامعلوم ہو یا مجہول،مقر پر لزوم اس کے اقرار کی وجہ سے ہوتاہے۔جب غیر اقرار شدہ ثمن مکان کے اقرارمیں داخل نہیں ہوسکتے تو پھر زید نے جو مکان عمرو کی اجازت کے بغیر اس کے نام پر خریدا اور زرثمن اپنے پاس سے اس لئے بائع کودیا کہ ہو خریداری کے معاملہ میں مباشر تھا اور ثمن جو کہ واجب الادا دین ہے کی ادائیگی میں مجبور تھا ورحکم حاکم کے بعد زید کی سپردگی سے عمرو کے ورثاء نے وہ مکان اپنے قبضہ میں لے لیا تو اب زید بلا شبہ عمروکے ورثاء سے اس زرثمن کو وصول کرنے کا مستحق ہے جو اس نے اپنے پاس سے ادا کیا ہے اور اس طرح کی اضطراری حالت میں ثمن کی ادائیگی میں تطوع وتبرع(بطور احسان اداکرنا)کا احتمال موجود نہیں کیونکہ کسی کے ذمے لازم قرض کی ادائیگی میں اگر کوئی شخص کسی طرح مجبورہوتوشرعی طورپراس قرض اداکرنے والے شخص کوتطوع و تبرع کرنے والا ہر گز قرارنہیں دیا جاتا،جیسا کہ شرح حموی کی اس معتبر روایت سے ظاہر ہے اگر کسی وارث نے اپنے مال سے کسی قرض خواہ کا حق ادا کردیا اس شرط پرکہ وہ ترکہ میں سے قرض کا رجوع نہیں کرے گا تو قاضی تقسیم کو نہیں توڑے گا بلکہ اس کو قائم رکھے گا اوراگر اس نے ترکہ سے رجوع کی ظاہر فیما اذا شرط الرجوع مشکل فیما اذا سکت، وینبغی ان یجعل متوطعا اذااسکت و الجواب انہ لم یجعل متطوعا لانہ مضطر فی القضاء [4] انتہی۔وبرائے ثبوت استحقاق زید بہ نسبت یافتن زرثمن از ورثہ عمرو کہ مکان خریدہ زید رابعد حکم حاکم بہ تسلیم زید باوصف ثبوت ادائے ثمن ازاں زید بقبضہ ایشاں دررسیدہ ایں روایت ہدایہ وعنایہ ونتائج وغیرہ کنایت میکند وھی ھذہ ومن قال الاخر بعنی(منقول ھامش الدرمن باب الفضولی)الا ان یسلمہ المشتری لہ ای الاان یسلمہ المشتری لہ العبد المشتری لاجلہ الیہ ویجوز ان یکون معناہ الاان یسلم فلانا العبد المشتری لاجلہ وفاعل یسلم ضمیر یعود الی المشتری بناء علی الروایتین بکسرالراء وفتحہا فیکون بیعا و علیہ العہدۃ ای  علی  شرط لگائی یا خاموش رہا تو تقسیم مردود ہوگی تاوقتیکہ ورثاء اس وارث کا حق ادا کردیں جس نے قرضخواہ کا حق اپنے مال سے اداکیا،یہ حکم شرط رجوع والی صورت میں ظاہر اور سکوت والی صورت میں شکل ہے چنانچہ خاموش رہنے کی صورت میں اس وارث کو متطوع قرار دینا چاہئے،اس کا جواب یہ ہے کہ اس کو متطوع اس لئے قرار نہیں دیا گیا کہ وہ قرض کی ادائیگی میں مجبور تھا انتہی،زید کاخریدا ہوا مکان حکم حاکم پر زید کے سپردگی کے بعد جب ورثاء عمرو کے قبضہ میں پہنچ گیا باوجود یکہ زید کی طرف سے زرثمن کی ادائیگی ثابت ہے تواب ورثاء عمرو سے زید کے زرثمن کے



[1]                      فتاوٰی قاضی خاں کتاب الاقرار فصل فی الاستثناء نولکشور لکھنؤ ۳/ ۶۲۳

[2]                      الہدایہ کتاب الاقرار مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۲۲۹

[3]                      البنایۃ فی شرح الہدایۃ کتاب الاقرار المکتبۃ الامدادیہ مکۃ المکرمہ ۳/ ۴۷۷،فتح القدیر کتاب الاقرار مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۷/ ۲۹۹

[4]                      غمز عیون البصائر الفن الثانی کتاب القسمۃ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲/ ۹۵۔۹۴

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن