30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں اٹھالایا اور فروخت سے روك رکھا جبکہ اس سے شہر والوں کو ضرر پہنچتاہے تو یہ مکروہ ہے یہ امام محمد علیہ الرحمۃ کا قول ہے،اورامام ابویوسف رحمہ الله تعالٰی علیہ سے بھی دوروایتوں میں سے ایك میں یہی آیاہے،یہی مختار ہے،اسی طرح غیاثیہ میں ہے،اوریہی صحیح ہے جیسا کہ جواہر الاخلاطی میں مذکور ہے اور جامع الجوامع میں ہے کہ اگر کہیں دور سے اناج خرید کر کھینچ لایا اور شہر میں فروخت سے روك رکھا تو ممنوع نہیں،تتارخانیہ میں یوں ہی ہے۔(ت)
مسئلہ ۹۰: از شہر کہنہ ۱۱ربیع الآخر شریف ۱۳۲۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زد نے مبلغ پانسو روپے کے گیہوں خریدے فصل میں اور بقدر ضرورت اپنے اہل وعیال کے لئے رکھ لئے،اور باقیماندہ ماہ اساڑھ میں فروخت کردئے اس شکل میں زید مواخذہ دار ہوایانہیں ؟
الجواب:
بریلی میں پانسو بلکہ پانچ ہزار کے گہیوں فصل پر خریدنے اور بیچنے میں کوئی مواخذہ نہیں کہ ان دونوں زمانوں میں نرخ کا اختلاف معمولی طوپر ہمیشہ ہوتاہے،ہاں اگر گرانی پڑنے کی خواہش کرے تو خلق اللہ کا بدخواہ اور ماخوذ گناہ ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۱ تا ۹۲: از بریلی محلہ ذخیرہ جناب مقبول الرحمن خاں
(۱)کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مکان مسکونہ کی بیع ایك مسلمان سے قرار پائی وہ معاملہ بیع طے ہوگیا اور قبضہ مکان پر مشتری کو بعد تحریر مسودہ بیعنامہ کردینے دستخط کے دے دیا گیا حسب قانون انگریزی ہنوز بینعامہ تحریر ورجسٹری نہ ہوا تھا کہ ایك دوسرامسلمان اسی محلہ کا جو پہلے خریداری سے انکار کرچکا تھا اب ایك سو روپیہ بڑھاکر خریداری کا ارادہ ظاہر کرتاہے اور قبضہ ہنوز اس شخص کا ہے جس سے پہلے بائعان کی گفتگو بیع کی طے ہوچکی ہے اور اس کے قبضہ میں مسودہ دستخط شدہ بھی موجود ہے،ایسی صورت میں کون سی بیع شرعا جائز ہے اور جو بیع شرعی پرراضی نہ ہو اس کے لئے کیاحکم ہے؟
(۲)تین ہفتہ سے مشتری سابق مع عیال واطفال اس مکان میں رہتاہے جس پر بائعان بخوشی قبضہ دے چکے ہیں تو اب اس کو حق اہل محلہ کے پڑوسی ہونے کا حاصل ہوگیا یانہیں ؟ اوراگر حاصل ہوگیا تو نئے مشتری کو جو پڑوسی ہے اس کو تکلیف دینا اور مکان بہ جبر اس سے خالی کرانا جائز ہے یانہیں ؟ اور اگر نہیں تو اس کے لئے کیاحکم ہے؟ بینوا توجروا
الجواب:
دوسرے کااب بیع سے تعرض کرنا،قیمت بڑھانا،اپنی طرف پھیرنا سب حرام ہے۔
فقد نہی رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ عن سوم الرجل علی سوم اخیہ [1] فضلا عن الصورۃ المذکورۃ فی السوال۔ بیشك رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی شخص اپنے بھائی کے سوداپر سودا کرے چہ جائیکہ سوال میں مذکورہ صورت ہو۔(ت)
مکان بہ جبر اس سے خالی کرانا ظلم ہے،اور رسول الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں:الظلم ظلمات یوم القیمۃ [2]۔ظلم قیامت کے دن اندھیریاں ہوجائے گا۔
اورقرآن عظیم میں ظالموں پر لعنت فرمائی اور ہمسایہ ظلم اور بھی سخت اشد کبیرہ ہے،بائع پر فرض ہے کہ اپنی اگلی بیع پر قائم رہے شرعا بیع ہوچکی رجسٹری یا اسٹامپ پرلکھا جانا شرعا اصلا ضرور نہیں،اور اس دوسرے شخص پر فرض ہے اس ظلم سے باز آجائے والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۹۳: از چاندپور ضلع بجنور مرسلہ حکیم رضوی صاحب ۲۳ شوال ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ فصل اور موسم ارزانی میں غلہ خرید کیا جائے عندالموقع بشرح نرخ بازار فروخت کردیا جائے اس کا منافع مسلم کے لئے حرام ہونا کہاں تك لغویت ہے مخالفین اس میں طعنہ زن ہوتے ہیں بغرض حجت حضور سے استصواب ہے۔
الجواب:
صورت مذکورہ پر غلہ کی تجارت بلاشبہ حلال وجائز ہے اسےحرام کہنے والا حلال شرعی کو حرام کہتاہے،حرام یہ ہے کہ بستی میں آنے والا غلہ خود خریدلے اور بندرکھے کہ جتنا مہنگا چاہے بیچے جس سے بستی پر تنگی ہو جائے،اور مکروہ یہ ہے کہ اس کے خریدنے سے بستی پر تنگی تونہ ہو مگر اسے آروز ہو کہ قحط پڑے کہ مجھے نفع بہت ملے،اور جب ان دونوں باتوں سے پاك ہے جیسا صورت سوال میں ہے تو اصلا کراہت بھی نہیں۔ درمختارمیں ہے:
کرہ احتکار قوۃ البشر والبہائم فی بلد یضرباھلہ فان لم یضرلم یکرہ [3]۔
انسانوں اور چوپایوں کی خوراك مہنگا بیچنے کی غرض سے ایسے شہر میں روك رکھنا مکروہ ہے جس کے باشندوں کو اس روکنے سے ضررر پہنچے اور اگر ضرر نہ ہو تو مکروہ نہیں۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
اثم بانتظار الغلاء والقحط لنیۃ السوء للمسلمین [4]۔واللہ تعالٰی اعلم،
مہنگائی اور قحط سالی کے انتظار میں غلہ کوروك رکھنے سے گنہگار ہوا کیونکہ ا س میں مسلمانوں کےلئے بدخواہی ہے۔ والله تعالٰی اعلم۔(ت)
[1] مسند احمد بن حنبل حدیث ابوہریرہ رضی الله تعالٰی عنہ دارالفکر بیروت ۲ /۴۱۱
[2] مسند احمد بن حنبل عبدالله ابن عمر رضی الله تعالٰی عنہ دارالفکر بیروت ۲/ ۱۰۶
[3] درمختار کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۸
[4] ردالمحتار کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۵۶
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع