دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

اسے لکھی ہوئی قیمت کا علم ہواگر چہ تویہ علم افتراق سے قبل ہو او ر اس نے بیع کو اختیار کرلیا تو ہمارے نزدیك بیع جائز ہوگئی اور اگر افتراق کے بعد اسے لکھی ہوئی قیمت کا علم ہوا تو بالانفاق بیع جائز نہیں ہوگی الخ،

 وثانیا: تتبعت جمیع باب المرابحۃ من الھندیۃ فلم ارفیہا ماذکر من التعلیل لافی النسخۃ المصریۃ ولا فی الہندیۃ وانما قال فیہما اول باب المرابحۃ ان باعہ بربح دہ یازدہ لایجوز الا اذا علم الثمن فی المجلس فیجوز ولہ(ای للمشتری)الخیار فاذا اختار العقد یلزمہ احد عشر استحسانہ وکذا الوباعہ تولیۃ ولایعلم المشتری بکم یقوم علیہ ولایجوز الا اذا علم الثمن فی المجلس فیجوز ولہ الخیار ھکذا فی محیط السرخسی [1] اھ وقال الاخر الباب من ولی رجلا شیئا بما قام علیہ ولم یعلم المشتری بکم قام علیہ فسد البیع فان اعلمہ البائع  فی المجلس صح البیع وللمشتری الخیار ان شاء اخذہ وان شاء ترکہ کذا فی الکافی [2] اھ وقال قبیلہ عن الحاوی اذا باع الرجل المتاع بربح دہ یازدہ او ماشاکل ذٰلك فاذا علم المشتری بالثمن ان شاء اخذہ وان شاء ترکہ،ان علم بالثمن قبل العقد فلیس لہ ان یرد [3] اھ اقول:والمراد العلم فی المجلس بدلیل ما تقدم و ماتاخر۔

وثانیا: میں نے ہندیہ کا تمام باب مرابحہ تلاش کیاتعلیل مذکورہ میں نے اس میں نہیں دیکھی نہ مصری نسخے میں اور نہ ہندی نسخے میں،ہاں بیشك اس کے اندرباب مرابحہ کے شروع میں یہ فرمایا اگر کسی نے دویازدہ یعنی دس کی چیز بطورنفع گیارہ کے بدلے میں فروخت کی تو جائز نہیں مگر جب مجلس میں ہی مشتری کو ثمن کا علم ہوگیا تو بیع جائز ہوگئی اور مشتری کو اختیار ہے اگر اس نے عقد کو اختیار کیا توبطور استحسان اس پر گیارہ لازم ہوں گے یونہی اگر وہ چیز بطور تولیۃ بیچی اور مشتری نہیں جانتا کہ اسے کتنے میں پڑے گی توبیع جائز نہیں مگر جب مجلس کے اندراس کو ثمن معلوم ہوگئے تو جائز ہے اورمشتری کو اختیارہوگا اس طرح محیط سرخسی میں ہے اھ اور باب کے آخر میں کہا کہ جس شخص نےکسی مرد پر بطور تولیۃ کوئی شیئ اتنے میں بیچی جتنے میں بائع کو کتنے میں پڑی تو یہ فاسد ہوئی،پھر اگر بائع مجلس کے اندر مشتری کو بتادے تو بیع صحیح ہوگئی اور مشتری کو اختیارہے اگر چاہے تو لے لے اور چاہے تو چھوڑ دے اسی طرح کافی میں ہے اھ اور اس سے تھوڑا پہلے حاوی کے حوالہ سے کہا کہ اگر کسی مرد نے کوئی سامان جودس کا خریدا ہوا تھا گیار ہ کے بدلے بیچا اس سے ملتی جلتی کوئی صورت اختیار کی پھر جب مشتری کوثمن کا علم ہوا تو اس کا اختیار ہے چاہے تو لے لے اور چاہے تو چھوڑ دے اور اگرمشتری کو عقد سے پہلے ثمن معلوم ہوں تو اسے رد کا اختیار نہ ہوگا الخ میں کہتاہوں اس سے مراد مجلس کے اندر علم ہونا ہے اس دلیل کے ساتھ جو پہلے گزری اور جو اس کے بعد ہے۔

وثالثا: التعلیل المزکور کالمتناقض فان اٰخر ہ یفید انہ بالعقد الاول واولہ انہ بعقد جدید۔

وثالثا: تعلیل مذکور متناقض کی مانند ہے اس لئے کہ اس کا آخر اس بات کا فائدہ دیتاہے کہ وہ عقد اول کے ساتھ ہے اور اس کا اول اس بات کا فائدہ دیتاہے کہ وہ عقد جدید کے ساتھ ہے۔ (ت)

صلب عقد بدلین ہیں فتح القدیر میں اسی مسئلہ آجال مجہول میں ہے:صلب العقد بدلان [4](صلب عقد دونوں بدل ہیں (یعنی ثمن ومبیع) ۔ت) یہ فساد کبھی مرتفع نہیں ہوسکتا جب تك اس عقد ہی کو فسخ نہ کریں یہاں نفس مجلس عقدمیں اصلاح بھی کار آمد نہیں جیسے ایك روپیہ دو۲روپے کو بیچے پھرقبل افتراق زائد روپیہ ساقط کردے،عقدصحت کی طرف عود نہ کرے گا۔ہدایہ میں ہے:

لوباع الی ھذہ الاضال تراضیا باسقاط اگر کسی نے ان اوقات مذکورہ کے وعدہ پر بیع کی

الاجل قبل ان یاخذ الناس فی الحصاد و الدیاس وقبل قدوم الحاج جاز البیع،وقال زفرلا یجوز لانہ وقع فاسدا فلاینقلب جائزا،ولنا ان الفساد للمنازعۃ وقد ارتفع قبل تقررہ وھذہ الجہالۃ فی شرط زائد لافی صلب العقد فیمکن اسقاطہ بخلاف ما اذا باع الدرہم بالدرہمین ثم اسقطا الدرھم الزائد لان الفساد فی صلب العقد [5]۔ پھر بائع اورمشتری اس مدت کو ساقط کرنے پر رضامند ہوگئے قبل اس کے لوگ کھیتی کاٹنے یا اس کو گاہنے کا آغاز کریں اور قبل اس کے کہ حاجی لوگ آئیں تو بیع جائز ہوگئی،امام زفر نے کہا جائز نہیں ہوگی کیونکہ یہ بیع فاسد واقع ہوئی لہٰذا جوازکی طرف نہیں پلٹے گی،اور ہماری دلیل یہ ہے کہ فساد تو جھگڑے کے ڈر سے تھا درانجالیکہ وہ فسادمستحکم ہونے سے پہلے ہی دور ہوگیا اور یہ جہالت صلب عقد میں نہیں بلکہ ایك زائد شرط میں واقع ہوئی جس کو ساقط کرنا ممکن ہے بخلاف اس کے کہ جب ایك درہم دودرہموں کے عوض بیچا پھر بائع اور مشتری دونوں نے زائد درہم کو ساقط کردیا تب بھی یہ بیع جائز نہ ہوگی کیونکہ یہاں فساد صلب عقد میں ہے۔(ت)

اور عدم شرط انعقاد کا فساد اس سے ملحق کیاگیا،

فان انعدامہ یعدم العقد لا انہ منعقد بصفۃ الفساد فیکمن اصلاحہ فی المجلس۔

اس لئے کہ شرط کامعدوم ہونا عقد کو باطل کردیتاہے ایسا نہیں کہ وہ عقد صفت فساد کے ساتھ منعقد ہوا کہ مجلس میں اس کی اصلاح ممکن ہو۔(ت)

عنایہ امام کمال بابرتی محل مذکورمیں ہے:

اعترض بانہ اذا نکح بغیر شہود ثم اشہد بعد النکاح فانہ لاینقلب جائزا ولیس الفساد فی صلب العقد واجیب بان الفساد فیہ لعدم الشرط فہو قوی کما لوکان فی صلب العقد الاتری ان من صلی بغیر طہارۃ ثم تطہر لم تنقلب صلاتہ جائزۃ اھ [6] ملخصا۔

 



[1]       فتاوٰی ہندیہ الباب الرابع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۱۶۰

[2]            فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الباب الرابع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۱۶۵

[3]            فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الباب الرابع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۱۶۵

[4]           فتح القدیر باب البیع الفاسد مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۸۸

[5]            الہدایہ کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۶۴

[6]            العنایہ علی ہامش فتح القدیر کتاب البیوع باب البیع الفاسد مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۸۸

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن