30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اھ(ت) قیمت معلوم ہوگی _______ تو بھی عقد جائز نہیں ہوگا لیکن اگر بائع رضامندی پر قائم ہے اور مشتری بھی اس پر راضی ہوگیا تو دونوں کی باہمی رضامندی سے عقد ان کے درمیان منعقد ہوجائے گا الخ فتح میں اس کو تعاطی سے تعبیر کیا گیا اور مراد دونوں سے ایك ہی ہے اھ(ت)
اور لفظ فتح یہ ہیں :
وجواز اذا علم فی المجلس بعقد اٰخر ھوالتعاطی کما قالہ الحلوانی [1] اھ اقول:وھذا التعیین ان التعاطی بعد عقد فاسد اذا وقع فی المجلس لایحتاج الی سبقۃ متارکۃ ذٰلك الفاسد بخلافہ بعد المجلس الاتری الی تقییدہ وبقولہ اذا علم فی المجلس والا فحصول البیع بعقد جدید لا یتوقف علی کونہ فی المجلس الاول فقد حصل التوفیق وان استبعدہ الشامی و استظھر انہما روایتان اعنی اشتراط المتارکۃ فی التعاطی بعد الفاسد و عدمہ فافہم وباللہ التوفیق۔
مجلس میں معلوم ہوجانے پر اس کا جواز دوسرے عقدکے ساتھ ہے جوکہ تعاطی ہے جیسا کہ حلوانی نے فرمایا اھ میں کہتاہوں یہ امر کی تعیین کے لئے ہے کہ بیشك تعاطی جب عقد فاسد کے بعد مجلس میں واقع ہو تو وہ پہلے اس عقد فاسد کے متارکہ کی محتاج نہیں ہوتی بخلاف مجلس کے بعد تعاطی کے،کیا تونہیں دیکھتا کہ فتح نے اپنے اس قول کے ذریعے قید لگائی کہ"جب اس کو مجلس میں معلوم ہو" ورنہ عقد جدید کے ساتھ بیع کا حصول اس بات پر موقف نہیں کہ وہ مجلس اول میں ہو تحقیق(مختلف عبارتوں میں)توفیق وتطبیق حاصل ہوگئی اگر چہ شامی نے اس کو بعید جانا اور احتیاط برتتے ہوئے کہا کہ بیشك یہ دو روایتیں ہیں یعنی عقد فاسد کے بعد تعاطی میں متارکہ کا شرط ہونا اور شرط نہ ہونا پس سمجھ اور توفیق الله تعالٰی ہی کی طرف سے ہے۔(ت)
پھر شامی نے فرمایا:
وجزم بخلاف فی الھندیۃ اٰخر باب ہندیہ میں باب المرابحہ کے آخر میں اس کے خلاف
المرابحۃ وذکر ان العلم فی المجلس یجعل کابتداء العقد ویصیر کتاخیر القبول الی اٰخر المجلس وبہ جزم فی الفتح ھناك ایضا اھ[2]۔
اقول اولا: لقد ابعد الحجۃ فقد قال فی الھدایۃ من باب خیار الشرط انہ اسقط المفسد قبل تقررہ فیعود جائزا کما اذا باع بالرقم واعلمہ فی المجلس [3] اھ واقرہ الفتح و الشراح وقال فی الفتح صدرالبیوع ممالا یجوز البیع بہ البیع بقیمتہ اوبما حل بہ اوبما ترید اوبما اشتراہ اوبمثل مااشتری فلان لایجوز فان علم المشتری بالقدر فی المجلس فرضیہ عاد جائزا اھ [4]۔ وقال فی البدائع لو قال بعت ھذا العبد بقیمتہ فالبیع فاسد لان قیمتہ تختلف باختلاف المقومین فکان الثمن مجہولا وکذا اذا باع بحکم المشتری اوبحکم فلان
پر جزم کیا اور ذکر کیا کہ مجلس میں معلوم ہونے کو ابتداء عقد کی مانند بنایا جائے گا اور یہ آخر مجلس تك قبول کومؤخر کرنے کی طرح ہوجائے گا اوریہاں پر فتح نے بھی اسی پر جز م کیا اھ
اقول:(میں کہتاہوں)اولا: علامہ شامی دلیل سے دورہوگئے تحقیق ہدایہ کے باب خیار الشرط میں فرمایا کہ بیشك بائع نے مفسد کو فساد کے مستحکم ہونے سے قبل ساقط کردیا تو بیع جائز ہوگئی جیسا کہ کسی نے لکھی ہوئی قیمت پر بیع کی اور مجلس کے اندر مشتری کو وہ قیمت بتادی الخ فتح اور شارحین نے اسے برقرار رکھا،فتح میں کتاب البیوع کے آغاز میں فرمایا جن چیزوں کے ساتھ بیع ناجائز ہے ان میں سے یہ ہے کہ کہ کسی چیز کی بیع اس کی قیمت کے بدلے میں یا اس چیز کے بدلے جس سے بیع حلال ہو یا بائع مشتری کو یہ کہے کہ جنتی قیمت تو چاہے اس کے بدلے میں بیچتاہوں یا کہے جتنے پر اس نے خریدا ہے اس کے بدلے میں یا کہے جتنے پر فلاں نے خریدا اس کی مثل قیمت کے بدلے میں ،تو ان تمام صورتوں میں بیع ناجائز ہے پھر اگر مشتری کو مجلس کے اندر قیمت کی مقدار معلوم ہوگئی اور وہ اس پر رضامند ہوا تو بیع جائز ہوجائے گی الخ۔بدائع نے فرمایا کہ اگر بائع نے کہا میں نے غلام اس کی قیمت کے عوض بیچا تو بیع فاسد ہے کیونکہ مختلف قیمت لگانے والوں کے اعتبار سے اس غلام کی قیمت مختلف ہوگی تو اس طرح ثمن مجہول ہوگا اس طرح اگر غلام بیچا اس چیز کے بدلے میں جس کا فیصلہ مشتری یا فلاں شخص کرے گا تو بھی بیع فاسد ہوگی کیونکہ معلوم نہیں فلاں شخص کیا فیصلہ کریگا اور جہالت ثمن صحت بیع سے مانع ہے پھر جب مشتری کوثمن کا علم ہوا اور وہ اس پر رضامندہوگیا تو بیع جائز ہوجائے گی کیونکہ جہالت مجلس کے اندر ہی زائل ہوگئی تو یہ ایسے ہی ہوگیا جیسے گویا کہ عقد کے وقت معلوم تھا اور اگر ثمن کا علم نہ ہوا یہاں تك کہ بائع اور مشتری متفرق ہوگئے تو فسادمستحکم ہوگیا اھ مختصرا۔اور اسی میں امام ابوحنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا یہ قول بھی ہے کہ اگرحالت عقد میں تمام ثمن اس طرح مجہول ہوں کہ جہالت جھگڑے تك پہنچائے تو یہ فساد عقدکا موجب بنے گی اور ہمارے نزدیك جب مجلس کے اندر جہالت رفع ہوجائے تو عقدجواز کی طرف پلٹ آتاہے کیونکہ مجلس اگر چہ طویل ہو اس کاحکم ساعت عقد والا ہی ہوتاہے اھ اور اسی میں یہ بھی ہے کہ جب کسی نے لکھی ہوئی قیمت کے بدلے میں کپڑا خریدا اور مشتری کو اس لکھی ہوئی قیمت کا علم نہیں ہے حتی کہ بیع فاسد ہوئی پھر
لانہ لایدری بما اذا یحکم فلان وجہالۃ الثمن تمنع صحۃ البیع فاذا علم ورضی بہ جاز البیع لان الجہالۃ قد زالت فی المجلس ولہ حکم حالۃ العقد فصار کانہ کان معلوما عند العقد وان لم یعلم بہ حتی افترقا تقرر الفساد [5] اھ مختصرا وفیہما ایضا لابی حنیفۃ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ان جملۃ الثمن مجہولۃ حالۃ العقد جہالۃ مفضیۃ الی المنازعۃ فتوجب فساد العقد و عندنا اذا ارتفعت فی المجلس ینقلب العقد الی الجواز لان المجلس وان طال فلہ حکم ساعۃ العقد [6] اھ و فیہا ایضا اذا شتری ثوبا برقمہ ولم یعلم المشتری رقمہ حتی فسد البیع ثم علم رقمہ فان علم قبل الافتراق واختار البیع جاز عندنا و ان کان بعد الافتراق لایجوز بالاجماع [7] اھ،
[1] فتح القدیر کتاب البیوع مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۴۷۴
[2] ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۲
[3] الہدایہ کتاب البیوع باب خیار الشرط مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۳۴
[4] فتح القدیر کتاب البیوع مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵ /۴۶۷
[5] بدائع الصنائع کتاب البیوع فصل واما شرائط الصحۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۱۵۸
[6] بدائع الصنائع کتاب البیوع فصل واما شرائط الصحۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۱۵۹
[7] بدائع الصنائع کتاب البیوع فصل واما شرائط الصحۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۱۷۸
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع