دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عوام میں قدیم سے یہ دستور رائج ہے کہ جب فصل انبہ یا خربوزہ وغیرہ کی فروخت کرتے ہیں تو قیمت کے سوا کچھ جنس لیتے ہیں جو ڈالی کے نام سے مشہور ہے،انبہ کی جنس فی روپیہ ایك صد آم،اورخربوزہ پر فی روپیہ ۵ سیر لینے کا معمول ہے،اور بعض اوقات جنس بقدر تول طے پاتی ہے اور اکثر بلاتعین وقت کے فصل کی فروختگی کا معمول وقت پھول آنے یاپھل کے نمودار ہوجانے پرہے۔تو بایں صورت فصل انبہ وغیرہ کی بیع درست ہے یانہیں اور جنس دستوری کا لینا اور اس کاکھانا جائز ہے یانہیں ؟ اگر جائزنہیں تو شرعا وہ کیا فصل کی بیع کا طریقہ ہے کہ جس سے بیع بھی درست رہے اور جنس کالینا بھی روا قرار پائے۔

الجواب:

بیج یا پھول پرفصل کی بیع ناجائزہے،اور جب پھل آجائیں اگر چہ جانور کے کھانے کے قابل ہوئے ہوں تو بیع جائز ہے مگریوں کہ خریدار اسی وقت توڑلے،اور اگر یہ ٹھہراکر پھل تیار ہونے تك لگے رہیں گے تویہ ناجائز وحرام ہے اور اس میں اسے فی روپیہ آم یا پانچ سیر خربوزہ یاکم وبیش بائع کےلئے قرارد ینا دوسراحرام ہے،ہاں یہ ہوسکتاہے کہ مثلا آم میں جتنے کوبہاربیچی منظور ہو موجودہ پھل جس حالت کے ہیں اتنے کوخرید کئے جائیں پھر مشتری بائع سے کہے کہ میں نے یہ پیڑ بعقد معاملہ تجھ سے لئے کہ میں ان کی غورپر داخت کروں گا اور جو پیل پیداہوں گے ان میں سے ہر ہزارمیں ایك تیرا اور نوسو نناوے میرے یا سو تیرے اور نو سو میرے جوقرارپاجائے،خربوزے،تربوز،ککڑی،بیگن کی جڑیں خریدے تاکہ جو پید ا ہوے مشتری کی ملك ہویہ خریداری ایك حصہ ثمن پر ہو جتنے پر بہار بیچنا اورخریدنا چاہتے ہوں باقی حصہ ثمن پر اس زمین کو ایك مدت معلوم تك اجارہ پر لے جس میں یہ سمجھے کہ فصل فارغ ہوجائے گی یہی طریقہ کھیتی میں بھی ہے مثلا سوروپے پر معاملہ کرنا چاہتے ہیں توخربوزے وغیرہ کی جڑیں یاموجود کھیتی پچاس روپے کوخریدے اور چھ مہینے میں فارغ ہوتی سمجھیں تو باقی پچاس روپے کے بدلے میں چھ مہینے کے واسطے اجارہ پر لے لے،درمختارمیں ہے:

من باع ثمرۃ بارزۃ اماقبل الظہور فلایصح اتفاقا ظھر صلاحہا اولا یصح فی ظاہر المذہب وصححہ السرخسی، ویقطعہا المشتری فی الحال جبرا علیہ وان شرط ترکھا علی الاشجار فسد البیع،والحیلہ ان یاخذ الشجرۃ معاملۃ علی ان لہ جزء من الف جزئ وان یشتری اصول الرطبۃ کالباذنجان و اشجار البطیخ والخیار لیکون الحادث للمشتری وفی الزرع والحشیش یشتری الموجود ببعض الثمن ویستاجر الارض مدۃ معلومۃ یعلم فیہا الادراك بباقی الثمن [1]مختصرا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔

جس شخص نے نمودار پھل بیچا چاہے اس کی صلاحیت ظاہر ہوئی ہو یانہ ہوئی ہو تو اصح قول کے مطابق صحیح ہے اور اگر نمودار ہونے سے قبل پھل بیچا تو بالاتفاق صحیح نہیں،اورا گر کچھ پھل نمودار ہواور کچھ ابھی نمودار نہیں ہو تو ظاہر مذہب میں بیع صحیح نہیں سرخسی نے اس کو صحیح قرار دیا اور بیع کے بعد مشتری پھلوں کو فی الحال قطع کرے اس سلسلہ میں اس پر جبر کیا جائے گا اور اگر اس نے پھلوں کو درختوں پر چھوڑنے کی شرط لگائی تو بیع فاسد ہوگی اور اس میں حیلہ یہ ہے کہ مشتری بائع سے درخت بطور معاملہ لے کرہزار میں سے ایك جزء بائع کی ہوگی اور یہ کہ بینگن،تربوز اور ککڑی کی جڑیں خریدلے تاکہ نئے پیداہونے والے پھل مشتری کی ملك ہوں اور کھیتی اور گھاس میں موجودبعض ثمن کے بدلے خریدلے اور باقی ثمن کے بدلے زمین کو مدت معینہ کے لئے کرایہ پر لے لے جس مدت میں کھیتی کا پکنا معلوم ہو۔(ت)

مسئلہ ۸۸: ا زکانپور مسجد جامع مرسلہ محمدادریس صاحب پرتابگڈھی ۲۹ ذی القعدہ ۱۳۳۶ھ

پس از سلام مسنون حضرت سیدولد آدم وسید الانس والجان(روحی فداہ)معروض خدمت ولا ہے کہ خادم کو چند مسائل کے متعلق جناب سے استفسار مقصودہے زید نے اپنے مکان کہ عمرو سے بیع کیا اور قیمت کے متعلق یہ قرار دیا کہ جو بکر قرار دے وہی قیمت ہے یعنی بیع تو اس وقت کی اور قیمت کی تقدیر وتعیین بکر کی رائے پر موقوف کردی یہ بیع صحیح ہوئی یا فاسد،پھر جبکہ بکرنے تخمینہ تین ماہ کے بعد قیمت معین کی تو بصورت فسادوہ فساد اُٹھ گیا یا نہیں ؟ اور کون سا فساد بعد رفع علت فساد اٹھ جاتاہے اور فساد کے صلب عقد میں ہونے کا کیامعنی ہے،اور تقرر بیع کی کیا صورتیں ہیں،امید کہ حضرت والا ان امور سے ضرور بالتفصیل مع حوالہ کتاب آگاہ فرمائیں گے۔بینوا توجروا

الجواب:

یہ بیع فاسد ہے،عالمگیریہ میں ہے:

اما اشرائط الصحۃ فمنہا ان یکون البیع معلوما و الثمن معلوما علما یمنع من المنازعۃ فبیع المجہول جہالۃ تقضی الیہا غیر صحیح کبیع شاۃ من ھذا القطیع وبیع الشیئ بیقمتہ وبحکم فلان [2]۔

بیع کے صحیح ہونے کی شرط میں سے یہ ہے کہ مبیع معلوم ہو اور ثمن معلوم ہو اس طور پر کہ جھگڑا نہ پیدا ہو چنانچہ ایسی مجہول چیز کی بیع صحیح نہیں جس سے جھگڑا پیدا نہ ہو،جیسے کہا جائے کہ اس گلہ میں سے ایك بکری کی بیع یا اس شے کی بیع اس کی قمیت کے ساتھ یافلاں کے فیصلے کے مطابق بیع۔(ت)

بکرنے جبکہ تعیین ثمن انقضائے مجلس بیع کے بعد کی وہ فساد بالاجماع متقرر ہوگیا اب نہیں اٹھ سکتا جب تك یہ بیع فسخ نہ کی جائے۔ردالمحتارمیں ہے:

فی النہایۃ والفتح وغیرہما قال شمس الائمۃ الحلوانی وان علم بالرقم فی

نہایہ اورفتح وغیرہ میں ہے شمس الائمہ حلوانی نے فرمایا کہ اگرچہ مشتری کو مجلس کے اندر لکھی ہوئی

المجلس لاینقلب،ذٰلك العقد جائز اولکن ان کان البائع دائما علی الرضافرضی بہ المشتری ینعقد بینہا عقد بالتراضی اھ وعبر فی الفتح بالتعاطی والمراد واحد [3] اھ قیمت معلوم ہوگی _______ تو بھی عقد جائز نہیں ہوگا لیکن اگر بائع رضامندی پر قائم ہے اور مشتری بھی اس پر راضی ہوگیا تو دونوں کی باہمی رضامندی سے عقد ان کے درمیان منعقد ہوجائے گا الخ فتح میں اس کو تعاطی سے تعبیر کیا گیا اور مراد دونوں سے ایك ہی ہے



[1]                      درمختار کتاب البیوع فصل فی مایدخل فی البیع تبعا مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۹

[2]                      فتاوٰی ہندیہ کتاب البیع الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۳/۳

[3]                      ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۱۲

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن