30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
صحت چیزے دیگر ست وجواز بمعنی حل دیگر اینہا اگر چہ تاحد سکر حرام است فاما ہمچو خمر وخنزیر از تقوم برنیفتادہ است و چوں بیع برمال متقوم مقدورالتسلیم وارد شود صحیح بود گو حرام باشد پس صحت درینہا مطلق ست وگربرائے تداوی از بیرون بدن می خواہد میخواہد بمعنی حل نیز باشد وگربرائے معصیت میخواہد روانیست قال تعالٰی" وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- "[1]۔واللہ صحت اور چیز ہے اور جوازبمعنی حل دوسری چیز،مذکورہ اشیاء یعنی افیون اور بھنگ جب نشہ کی حد تك پہنچ جائیں تو اگرچہ حرام ہیں مگر متقوم ہونے سے خارج نہیں ہوتیں،جیسے شراب اور خنزیر متقوم ہونے سے خارج ہوتے ہیں تو بیع مال متقوم مقدورالتسلیم پر وارد ہوتو صحیح ہوتی ہے اگرچہ حرام ہو لہٰذا صحت تو ان میں مطلق ہے اور اگر بیرون بد ن ان میں سے علاج معالجہ مطلوب ہو تو جواز بمعنی حل بھی ہوگا اور اگر معصیت کے لئے ان کی بیع مطلوب ہو تو جائز نہیں۔الله تعالٰی نے فرمایا گناہ اور ظلم پر تعاون مت کرو۔والله تعالٰی اعلم۔(ت) والله تعالٰی اعلم
مسئلہ ۸۰: از ضلع سلمپور موضع سگو ڈاکخانہ سگو،مولوی محمد حیات بروز یکشنبہ ۱۶ ذی الحجہ ۱۳۳۴ھ علمائے دین ومفتیان شرع متین کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں جوکہ جانور حلال مرجائے اس کو مسلمان بکری کرکے اپنی ضرورت پوری کرنی جائز ہے یانہیں ؟
الجواب:
جو جانور مردا ر ہوگیا بغیر ذبح شرعی کے مرگیا اس کا بیچنا حرام ہے اور اس کے دام حرام والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۸۱: مسئولہ عبدالرحیم وخدابخش بریلی محلہ اعظم نگر ۱۵ جمادی الاول ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك قبرستان جو ایك مدت سے ہندوؤں کے قبضے میں تھا حکیم مظاہر الاسلام کے والد نے اس کو بہ کوشش اہل محلہ کچہری کے ذریعہ سے ہندوؤں سے واپس لیا بعد مرگ مظاہر الاسلام رحیم بخش بہشتی نے بہت کم قیمت کو زوجہ مظاہر الاسلام نے خرید لیا اور ایك بیعنامہ موروثی زمین قرار دے کر لکھا لیا کسی اہل محلہ کو معلوم بھی نہ ہوا رحیم بخش جانتا تھا کہ قبرستان ہے مگر نفع کے خیال سے خرید لیا،آیا یہ خریدوفروخت قبرستان جائز ہے یا حرام؟ اور اہل محلہ اس قبرستان کو رحیم بخش کے ہاتھ سے قیمت دے کر چھڑائیں یا بغیر قیمت،اوراگر نہ چھڑائیں تو شرعی مواخذہ وپکڑ ہے یانہیں ؟ اور رحیم بخش کو اصلی قیمت لینا چاہئے یاجو بیعنامہ میں لکھی ہے یا زیادہ،اور اگر قیمت لیں تو مواخذہ شرعی ہوگا یانہیں ؟ بینواتوجروا
الجواب:
رحیم بخش پر فرض ہے کہ قبرستان کو فورا فورًا بلا قیمت چھوڑ دے،اگرنہ چھوڑے گا تو روز قیامت اس کا عذاب یہ ہے کہ اسے تکلیف دی جائے گی کہ زمین کا اتنا ٹکڑا ساتوں طبقوں تك کھودے اور پھر وہ کروڑہا کروڑ من پہاڑ اس کے گلہ میں طوق ڈالے جائیں،اس پر اگر ایك کوڑی قیمت لے گا تو اس کے لئے جہنم کی آگ ہے،اہل محلہ پر فرض ہے کہ ہر جائز کوشش سے قبرستان کو بلا قیمت اس کے قبضہ ظلم سے چھڑائیں اگر مجبور ہوں اور بے قیمت نہ چھوٹ سکے تو یہ قیمت دے سکتے ہیں مگر اس کا لینا اسے سور کی مثل ہوگاا ور خواہ اصلی لے یا بیعنامہ کی،کم یا زیادہ ہر طرح حرام قطعی ہے،ہاں اس نے جو قیمت زوجہ مظاہر الاسلام کو دی وہ اس عورت پر حرام قطعی ہے،وہ رحیم بخش کو واپس دے مگر رحیم بخش اس کی واپسی پر قبرستان کو روك نہیں سکتا اسے فورا بلا قیمت واگزاشت کردے خواہ اسے عورت سے واپس ملے یا نہ ملے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۸۲ تا ۸۴: از سورت محلہ سید واڑہ سید عبدالقادر سید حسن واعظ بروز شنبہ بتاریخ ۶صفر المظفر ۱۳۲۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك قصبہ مسلمانوں میں دوفریق ہوگئے تھے اس پر سے شہر سورت میں سے دوتین شخص کو مذکورہ قصبہ والے لے گئے اور انھوں نے دونوں کو ایك جگہ جمع کیا اور جس کا قصور رپایا ان سے کہا کہ تم مقابل فریق سے اپنا قصور معاف کراؤ،تو انھوں نے مقابل فریق سے قصور کی معافی چاہی،بعد میں جو شخص سورت گئے تھے انھوں نے اپنے پیسے سے شیرینی منگواہی اور مجلس میں تقسیم کردی اس میں سے ایك شخص نے وہ شیرینی نہ لی اور کہا کہ تم بکری فروخت کرنے کے دلال ہو تو تمھارے مکان کا پانی،کھانا اور شیرینی چار مذہب میں حرام ہے،تو کہنے والا گنہگار ہے یانہیں،(۱)سورت میں لوگ اپنی بکری وکیلوں پر روانہ کرتے ہیں اس شرط پر کہ تم اس کو بیچو اور اس کی قیمت ہم کو پوری اداکردو، نفع ونقصان وکیل کے ذمہ اور دلالی کا روپیہ فی صدی دوروپیہ لے لو،یہ درست ہے یانہیں ؟
(۲)ایسی کمائی ہو مسلمان کی تو اس کے گھر کاکھانا درست ہے یانہیں ؟
(۳)بے پڑھا فتوٰی دےدے کہ چار مذہب میں حرام تو اس کا کیاحکم ہے؟
الجواب:
(۱)اس عبارت سے یہ مفہوم ہتاہے کہ وہ لوگ ایك قیمت معین کردیتے ہیں کہ اتنے دام ہم کو بھیج دو خواہ تم کم کو بیچو یا زیادہ کو،او ران داموں میں سے دو روپیہ فیصدی اپنی دلالی کے لے لو،اگر یہی صورت ہے تو بلاشبہ فریقین کو ناجائز ہے مؤکلوں کو بھی اور وکلاء کو بھی ایسی صورت میں اس شخص کا اعتراض بیجا نہ تھا اگر چہ لفظ زائد کہے،والله تعالٰی اعلم۔
(۲)اس میں تفصیل بہت ہے اور اجمال یہ ہے جو سیدنا امام محمدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:
بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینہ [2]ھندیۃ عن الذخیرہ۔
ہم اسی کو لیتے ہیں جب تك کسی معین چیز کا حرام ہونا ہمیں معلوم نہ ہوجائے،ہندیہ بحوالہ ذخیرہ۔(ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع