30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۱)چوری کا مال دانستہ خریدناحرام ہے بلکہ اگر معلوم نہ ہو مظنون ہو جب بھی حرام ہے مثلا کوئی جاہل شخص کو اس کے مورثین بھی جاہل تھے کوئی علمی کتاب بیچنے کو لائے اور اپنی ملك بتائے اس کے خریدنے کی اجازت نہیں اور اگر نہ معلوم ہے نہ کوئی واضح قرینہ تو خریداری جائز ہے،پھر اگر ثابت ہوجائے کہ یہ چوری کا مال ہے تو اس کااستعمال حرام ہے بلکہ ملاك کو دیا جائے اور وہ نہ ہو تو اس کے وارثوں کو،اور ان کا بھی پتہ نہ چل سکے تو فقراء کو،والله تعالٰی اعلم۔
(۲)یہ مسئلہ بہت مشتبہ ہے اور اختلاف کثیر ہیں اورنظائر متشابہ ہیں اور احتراز اولٰی ہے،انظرردالمحتار من اول البیوع(رد المحتار میں کتاب البیوع کے شروع میں دیکھئے۔ت)والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۷۲: از قصبہ نیٹھور ضلع بجنور محلہ سادات مرسلہ سید شاہد حسین انسپکٹر پنشنر ۲۹ محرم ۱۳۳۲ھ
جناب عالی! نہایت ادب سے گزراش ہے کہ میں نے ایك مولوی صاحب سے ذریعہ تحریر بابت پرامیسیر نوٹ ۵مسئلے دریافت کئے تویہ جواب آیا جو ملاحظہ کے لئے ارسال کرتاہوں اور نیٹھور کے مدرسہ اسلامیہ کے حامد حسین مولوی صاحب سے دریافت کیا تو فرمایا کہ ہدایہ کتاب الزکوٰۃ میں تحریر ہے کہ جوروپیہ ملك میں ہو یا کسی کو امانت یاقرض دے رکھا ہو اور اس کے ملنے کی امید ہو چاہے مدیون مقر ہو یا مفلس یا منکر،مگر منکر کی صورت میں داین کے پاس اپنے قرض کی پکی سند ہو مثلا معتبر گواہ یا مدیون کا اقرار نامہ ہو تو ایسے قرض کی زکوٰۃ مالك کے ذمہ واجب ہے،مالك روپیہ مذکور مدیون یا امانت دار سے لے کر قبضہ کرے یا نہ کرے،اب عرض یہ ہے کہ پرامیسری نوٹ کا روپیہ مردہ نہیں ہے البتہ اس قدر ضرور بے قابو ہے کہ ضرورت کے وقت مالك کو نہیں مل سکتا جب گورنمنٹ کے اعلان پر کوئی جدید خریدار پیدا ہو اس وقت روپیہ مالك کو ملك جائے گا اب اس کے واسطے جس قدر زمانہ گزرے یہ قاعدہ گویا ایسا ہے جیسے کہ کسی کارخانہ یا کمپنی میں حصے فروخت ہوں اور کوئی شخص اول حصہ جات کو خرید لے اب اگر حصہ دار اپنا روپیہ کارخانہ یاکمپنی سے واپس لینا چاہے تو اس کو اس وقت تك روپیہ نہیں مل سکتا جب تك کہ ان حصوں کاخریدار پیدا نہ ہوں خواہ کسی قدر زمانہ گزر جائے البتہ منافع مقررہ ملتارہے گا اب براہ کرم وبندہ نوازی کے جواب شافی مرحمت فرمائے ۶ پائی کا ٹکٹ جوا ب کے لئے ارسال ہے بحث صرف پرامیسری نوٹ کی بابت ہے سیونگ بنك کا جواب نہیں چاہتا۔زیادہ حدادب!
حاضرالوقت حسین احمد دست بستہ سلاعم عرض کرتاہے یہ سید صاحب بہت ہی شش وپنج میں مبتلا ہیں ان کی تسلی فرمادیجئے گا از راہ کرم۔فقط
الجواب:
پرامیسیر نوٹ کا روپیہ گورنمنٹ کبھی واپس نہیں دیتی ہے خریدارپیدا ہونے پر اگر یہ بیع کرے گا توخریدار سے روپیہ لے گا گورنمنٹ کے یہاں سود دینے کے لئے اس کے نام کی جگہ خریدار کانام قائم ہوجائے گا،یہ اس قرض کا واپس ملنا نہ ہوا،قرض ملتا تو گورنمنٹ سے ملتا نہ کہ خریدار سے،تو وہ قرض یقینا مردہ ہے،اور یہ کہ ملتا ہے غیر مدیوں کے ہاتھ دین کی بیع سے ملتاہے،وہ بیع ناجائزوفاسد و حرام ہے،مگر جبکہ خریدار کو مدیون سے اس کا قبضہ لینے پر مسلط کرے، اشباہ میں ہے:
لایجوز بیع الدین ممن لیس علیہ الدین الا اذاسلطہ علی قبضۃ [1]۔
غیرمدیون کے ہاتھ دین فروخت کرنا جائز نہیں مگر اس وقت جائز ہے جب اس کو قبضہ پر مسلط کرے۔(ت)
اوریہاں قبضہ پر مسلط کرنا ناممکن ہے کہ سو خریدار بدلیں گورنمنٹ وہ روپیہ کسی کو نہ دے گی سود دیتی رہے گی،تویہ روپیہ قطعا اجماعا حرام محض بیچنا حرام روپیہ لینا حرام او رلے لیا ہو تو واپس دینا فرض ہے پھر اس روپیہ سے کون سے اتنفاع کا امکان ہوا۔اوریہی معنی قرض مردہ کےہوں کہ ملك ہوا اور انتفاع پر قدرت نہ ہو،لہٰذا حکم وہی ہے جو فتوٰی اول میں لکھا گیا،والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۷۳: از ریاست رامپور محلہ گھیرپورن سنگھ متصل قبرستان مسجد ۱۲ع مرسلہ محمد عبدالقادر صفر ۱۳۳۲ھ
ماقولکم رحمکم اللہ تعالٰی فی ھذہ المسئلۃ(اس مسئلہ کے بارے میں تمھارا کیاا رشاد ہے الله تعالٰی تم پر رحم فرمائے۔ ت) زید نے نوآنے قیمت کے ایك ٹکٹ نو۹/ آنے سے لے کر سرکار میں داخل کیا بعد ازاں سرکار نے اسی زید سے سوا روپیہ لے کر اس کو چارٹکٹ اور دے دئے،بعد اس کے زید نے وہی چار ٹکٹ وہی سواروپیہ بیچ کر پھر سرکار میں داخل کیا،بعد روپیہ داخل کرنے کے سرکار نے اسی روپیہ کے دو فی قیمت کا ایك کپڑا زید کو دے دیا اب یہ معاملہ مطابق شرح شریعت کے جائز ہے یانہیں ؟ اور اس کپڑا سے نماز پڑھنا جائز ہے یانہیں ؟ بینوا توجروا بالدلائل وحوالۃ الکتب(دلائل و حوالہ کتب کے ساتھ بیان کرو اجردئے جاؤ گے۔ت)
الجواب:
یہ صورت شرعا باطل وناجائز ہے کہ وہ ٹکٹ جو اس کے ہاتھ بیچا جاتاہے اور یہ دوسروں کے ہاتھ بیچتا ہے اصلا مال نہیں تو رکن بیع کہ مبادلۃ المال بالمال ہے اس میں متحقق نہیں اس کی حالت مٹی سے بھی بدتر ہے مٹی پر بھی کام آتی ہے،اوریہ کسی مصرف کا نہیں سوائے اس کے کہ احمق پہلے اپنا گلا پھانسے پھر اس کے چھڑانے کو اپنے سے چاراحمق اور تلاش کرے اور ان میں ہر ایك کو چار چار ڈھونڈتا پڑیں اوریہ سلسلہ بڑھتا رہے یا بعض احمقوں کے خسارہ پر ختم ہوجائے،ہاں وہ کپڑا کہ اسے ملا وہ معاوضہ نہیں ہوتا بلکہ بطور انعام دیا جاتاہے تو وہ فی نفسہٖ اس کے لئے جائز اور اس سے نماز درست ہے[2]۔والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۷۴: مسئولہ محمد سلیمان شاہجہان پورکیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اس شہر میں جس قدر افتادہ زمین مکانات سے باہر گلیوں کوچوں میں ہے سب سرکار نے ضبط کرلی ہے پبلك کو مکان بنانا دیوار بنانی منع کردیا ہے،اب اگر دوسرا پڑوسی زمین مقبوضہ کو سرکارسے خرید کر مکان بنالے،جائز ہے یانہیں ؟ بینوا توجروا
الجواب:
اگر وہ افتادہ زمین غیر مملوکہ تھی جسے شرع میں"عادی الارض"عرف حال میں"سرکاری زمین"کہتے ہیں تو خریدنے میں کوئی حرج نہیں ہے،والله تعالٰی اعلم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع