دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

وکل شرط کذا فاسد وکل شرط فاسد فہو یفسد البیع وکل بیع فاسد حرام واجب الفسخ علی کل من العاقدین فان لم یفسخا اثما جمیعا وفسخ القاضی بالجبر۔ ہر وہ شرط جو ایسی ہو فاسد ہے اور جو شرط فاسد ہو وہ بیع کو فاسد کردیتی ہے اور ہر فاسد بیع حرام ہے جس کا فسخ کرنا بائع اور مشتری میں سے ہر ایك پر واجب ہے اگر وہ فسخ نہ کریں تو دونوں گنہگار ہوں گے اور قاضی جبرا اس بیع کو فسخ کرائے۔

ثانیا: اس میں جہالت قدر ثمن لازم آئندہ اورخاصہ قمار ہے کہ بائع مشتری کے لئے ایك آئندہ نامعلوم صورت میں کہ خدا جانے کس طرح واقع ہوگی ہارجیت بدی گئی ہے اور قمار بنص قطعی قرآن حرام ہے،والله سبحانہ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۶۴: نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم،

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس معاملہ میں کہ زید نے عمرو سے مبلغ(ما لعہ لعہ/)لے کر ایك اقرار نامہ بدیں مضمون تحریر کیا کہ (۱۴۰)چٹے لکڑی پانچ اقساط میں دوں گا منجملہ ان کے صرف ۲۵ چٹے لکڑی دی اور اقرار نامہ مذکور الصدرمیں یہ شرط تحریر کی کہ اگر کسی جانب سے لین دین لکڑی میں انحراف ہو تو پانچ روپیہ فی چٹہ ہرجہ لینے کا ایك دوسرے سے مستحق ہوگا،پس عمرو زید سے اس صورت سے ہر جہ تحریری لینے کا شرعا مستحق ہے یانہیں ؟ بینوا توجروا

الجواب:

صورت مستفسرہ میں اگر لکڑی زیدکے پاس اس وقت موجود نہ تھی تو یہ بیع حرام وباطل ہوئی،عمرو پر لازم ہے کہ یہ ۲۵ چٹے بھی زیدکو واپس دے اور زید پر لازم کہ پورے(ما لعہ لعہ/)عمرو کو پھیردے اور اگر لکڑی موجود معین بیچی اور پھر اس میں سے ۱۱۵ چٹے مشتری کونہ دی تو زید پر فرض ہے کہ اب دے دے اور اگر وہ لکڑی دوسری جگہ بیچ ڈالی ہے تو زید سخت گنہگار ہوا اور عمرو اپنی لکڑی اس دوسرے مشتری سے واپس لے سکتاہے اور اگر پتہ نہ چلے تو ۱۱۵ چٹے کے جو دام بازار کے بھاؤ سے ہوئے عمرو زید سے لے،بہرحال ہرجہ لینے کا کسی صورت میں اختیارنہیں،نہ وہ شرط اقرارنامہ اصلا قابل قبول۔والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۶۵: ۲۲ محرم الحرام ۱۳۲۳ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کھال مردہ کا بیچنا جائزہے یانہیں ؟ اور ہڈی بیچنا جائز ہے یانہیں ؟ بعض عالم کہتے ہیں جائز نہیں ہے اور بعض کہتے ہیں جائز ہے۔بینوا توجروا

الجواب:

کھال اگر پکاکر یا دھوپ میں سکھاکر دباغت کرلی جائے تو بیچنا جائز ہے لطھارتہ و حل الانتفاع(بسبب اس کی طہارت کے اور حلال ہونے اس سے نفع حاصل کرنے کے۔ت)ورنہ حرام وباطل ہے لانہ جزء میتۃ وبیع المیتۃ باطل(اس لئے کہ وہ مردار کی جزء ہے اور مردار کی بیع باطل ہے۔ت)ہڈی پر اگر دسومت نہ ہو خشك ہو تو اس کی بیع جائز ہے لما تقدم

 

لان الحیاۃ لاتحلہ(اس وجہ سے جو پہلے گزر چکی ہے کیونکہ حیات اس میں سرایت نہیں کرتی۔ت)اورا ن احکام سے خنزیر مستثنٰی ہے اس کی کھال یا ہڈی کسی حال میں اصلا خرید وفروخت یا کسی قسم کے انتفاع کے قابل نہیں لنجاسۃ عینہا(اس کے نجس عین ہونے کی وجہ سے۔ت)والله تعالٰی اعلم

مسئلہ ۶۶: مرسلہ محمد بشیر الدین طالبعلم مدرسہ امداد العلوم محلہ بانسمنڈی کانپور ۲۹صفر ۱۳۳۰ھ

کوئی شخص زندہ گائے یا بکری وغیرہ کی کھال چھوڑ کر صاف گوشت خریدے ذبح کرنے کے بعد دس بارہ آدمی مل کر تقسیم کرکے کھائیں اس صورت میں بیع کیسی ہے؟ اور گوشت کھانا حلال ہے یا حرام؟ بینوا توجروا

الجواب:

بیع فاسد ہے اور وہ کھانا حرام۔

والوجہ ظاہر فھو کجذع فی سقف بل اشد قال فی الدر فی السراج لوسلم الصوف والبن بعد العقد لم ینقلب صحیحا وکذا کل ما اتصالہ خلقی کجلد حیوان ونوی تمر وبزر بطیخ[1] واللہ تعالٰی اعلم۔ اس کی وجہ ظاہر ہے تو وہ چھت میں لگی ہوئی شہتیر کی مانند ہے بلکہ اس سے بھی سخت تر،در میں فرمایا کہ سراج میں ہے اگر عقد کے بعد اون اور دودھ مشتری کو سونپ بھی دیا تب بھی بیع صحیح نہ ہوگی اور ایسے ہی ہےہر وہ چیز جس کا اتصال پیدائشی طورپر ہے جیسے حیوان کی کھال،کھجور کی گٹھلی اور تربوز کا بیچ،والله تعالٰی اعلم۔(ت)

مسئلہ ۶۷ تا ۶۸: از جاورہ ملك مالوہ مسئولہ جناب سید مقبول عیسٰی صاحب ۱۴ جمادی الآخر ۱۳۱۰ھ

(۱)مسماۃ زینب سے زید نے اس شرط پر نکاح کیا اور ایك دستاویز کا بین نامہ بھی اس مضمون کی لکھ دی کہ جو زینب کو بالعوض دین مہر مبلغ پچاس ہزار روپے اور دو اشرفی کے اپنے نکاح میں لایا ہوں اور بالعوض اس دین مہر جو دوقطعے مکانات نصف نصف حصہ خو د مع حدود اربعہ ہیں زینب کو دین مہر میں دے دیئے اور جو آئندہ جائداد منقولہ وغیرہ منقولہ میں اپنے قوت بازو سے پیدا کروں گا اس کی مالك بھی عوض اس دین مہر کے منکوحہ رہے گی اور بشرط نااتفاقی جمیع جائداد منقولہ و غیر منقولہ کی مالك منکوحہ ہے اس جائداد میں میرا اور میرے خویش واقارب کا کسی طرح سے دعوی نہ ہوگا بعد ازاں ایك مدت کے زید نے اور جائداد منقولہ وغیر منقولہ اپنے قوت بازو سے پیدا کی وہ بھی جائداد منقولہ وغیرہ منقولہ بموجب شرائط کا بین نامہ زینب کو دے کر نصف قبضہ کرادیا،اندریں صورت مالك جمیع جائداد کی زینب قرار پاسکتی ہے یازید؟ اور جو شے دین مہر میں اس صورت سے دے دی جائے کیا قبضہ لازم ہوگااور بلاقبضہ ہو تو کیاحکم ہے؟

 



[1]              درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن