30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رسید دستخطی حاصل کرلی اس مابین جب تك وصولیابی روپیہ کازمانہ آئے علاقہ بکر میں انتظاما تبدل وتغیر ہوا اور بجائے کارندگان سابق کے دوسرا کارندہ یوروپین سے قائم ہوا اس سے قیمت کا روپیہ طلب کیا گیا اول تو بوجہ ابتدائے انتظام کے اس نے لیت ولعل کیا پھر عرصہ تین چار مہینے بعدا س لکڑی مستری کی پاس شدہ میں سے بقدر ایك ثلث کے ناقص انتخاب کی اور اب کہ بجائے ۳۰ یوم کے معاہدہ کے عرصہ آٹھ سات ماہ کا منقضی ہوتاہے ہنوز قیمت چوب کا روپیہ ادا نہیں ہوا اور طلب پر بکر خود اورنیز اس کا کارندہ جدید جواب دیتے ہیں کہ جس قدر لکڑی ہم نے ناقص برآمد کی ہے واپس لے جاؤ اور باقیماندہ عمدہ مال کی قیمت شرح(۱۰ عہ)کی دی جائے گی کیا ایسی صورت میں جائز ہوگا کہ زید بذریعہ نالش محکمہ جات حکام زمانہ کی امداد سے شرائط فی مابین کے پورے اس مال کی قیمت جس کو بکر کا مستری پاس کرکے نشان دے گیا تھا اور زید نے اس کو بکر کے مکان پر پہنچا کر رسید حاصل کی ہے بشرح(ے)روپیہ کے مع خرچ محکمہ کے وصول کرکے یاحسب خواہش بکرکے عمدہ لکڑی کی قیمت بہ نرخ(۱۰ عہ)کے وصول کرکے ناقص منتخب کی ہوئی لکڑی اپنا دوسرا مصارف خرچ کرکے واپس لائے،بیان فرمائیں ثواب پائیں۔فقط
الجواب:
صورت مستفسرہ میں بیع ہی نہ ہوئی کہ یہ لکڑی وقت بیع معدوم وغیر مملوك بائع تھی اور ایسی چیز کہ بیع بے طریق سلم باطل محض ہے،درمختارمیں ہے:
بطل بیع مالیس فی مبلکہ لبطلان بیع المعدوم و مالہ خطرا لعدم الابطریق السلم لانہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نھی عن ییع مالیس عند الانسان ورخص فی السلم[1]۔
غیر مملوك کی بیع باطل ہے بسبب باطل ہونے اس چیز کی بیع کے جو معدوم ہویا اس کے معدوم ہونے کاخطرہ ہو مگر بطور رسلم اس کی بیع باطل نہیں اس لئے کہ رسول الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس چیز کی بیع سے منع فرمایا جو آدمی کے پاس نہ ہوا ور بیع سلم میں رخصت دی۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
لم ینعقد بیع المعدوم ومالہ خطر العدم کالحمل واللبن فی الضرع ولابیع مالیس مملوکالہ وان مبلکہ بعدہ الا السلم [2] الخ۔
اس چیز کی بیع منعقدنہیں ہوتی جو معدوم ہو یا اس کے معدوم ہونے کا خطرہ ہو جیسے حمل اور تھنو ں کے اندر دودھ،اور نہیں منعقد اس چیز کی بیع جو بائع کی ملك میں نہ ہواگرچہ بعدمیں اس کا مالك بن جائے سوائے بیع سلم کے الخ(ت)
تو زید وبکر میں باہم کوئی معاہدہ ہی نہیں جس کی بناء پر ایك دوسرے سے کچھ مطالبہ کرسکے،زیداپنی لکڑی تمام وکمال واپس لے اور اپنے صرف سے جہا ں چاہے لے جائے،ہا ں اب از سرنو اس مال موجودہ کی بیع برضائےباہمی جس قیمت پر ہوجائے تو وہ جائز ہوگی اور اس کا مطالبہ ہوسکے گا والله سبحانہ و تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۶۲: از شاہجہان پور مرسلہ عنایت حسین خاں محلہ ہاتھی تھان ۲۷ ربیع الاخر ۱۳۱۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اوپر اس بات کے کہ زید نے پیداوار رس قبل تیار ہونے پیداوار کھیت نیشکر ازروئے تخمینہ واندازہ کے کہ جو بعد چہار ماہ کے اگر الله نے چاہا تو پیدا ہوگا اس مال رس کو زید نے بہ نفع مبلغ(مہ ہہ ۱۲/)ایك سومن بوزن خام بدست بکر کے اس شرط سے فروخت کیا اور فورا زر قیمت پیشگی بیباك کرلیا شرط باہم یہ قرار پائی کہ اگرتخمینہ مذکورہ سے مال رس کم پیدا ہوگا اس وجہ سے کم دیا جائے گا تو فی من خام آدھ آنہ کے جس کے حساب سے ہے سومن خام پر ہوتے ہیں،بطریق منافع جس کو عوام الناس گٹے کہتے ہیں بوجہ پیشگی لینے روپیہ کے زید کو مع روپیہ باقی ماندہ کے بکر کو دینا ہوں گے لہٰذا یہ بیع اور کمی منافع دونوں شرعا مذہب حنفیہ میں جائز ہیں یا کیا درجہ رکھتے ہیں،عندالله اجروثواب ہوگا۔
الجواب:
یہ بیع بھی حرام اور یہ شرط بھی حرام،اور یہ دام جو اس کمی پر لئے جائیں نرے سود ہیں۔
فان النبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نھی عن بیع ما لیس عندہ وعن بیع وشرط والربٰو ھو الفضل المستحق بالعقد الخالی عن العوض کما فی الہدایۃ [3] و المسائل واضح،واللہ تعالٰی اعلم۔نبی اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس چیز کی بیع سے منع فرمایا جوآدمی کے پاس نہ ہو اور بیع اور شرط سے منع فرمایا اور سود عقد سے ثابت ہونے والی اس زیادتی کو کہتے ہیں جو عوض سے خالی ہو جیسا کہ ہدایہ میں ہے،اور یہ تمام مسائل واضح ہیں، والله تعالٰی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۶۳: از شہر کہنہ مرسلہ مولوی خدایار خاں صاحب ۱صفر ۱۳۱۹ھ
جناب مولانا معظم مکرم دام سالما،السلام علیکم ورحمۃ الله وربرکاتہ،ایك مسلمان شخص کے ہاتھ رس بیچا تھا بہ نرخ(صہ مہ /)فیصدی من یہ شرط ٹھہری تھی کہ بعد ختم بیل ڈیڑھ مہینہ کے اند رجو روپیہ باقی نکلے گا دیں گے اگرنہ دیں گے تو اس کا نرخ(معہ سہ /)کا دیں اور خدا یار کے اوپر ہمارا روپیہ باقی نکلے وہ بھی ڈیڑھ مہینہ کے اندر دیں اگر میعاد میں نہ دیں تو(مہ لہ/)کانرخ لیں،سو روپیہ ہمارا نکلا تیرہ سواور میعاد گزرگئی،اب نرخ(معہ سہ/)کالینا سود تونہیں ہے یا ہے چونکہ میں آپ سے اکثر اپنے معاملات پوچھ لیتاہوں لہٰذا اب بھی تصدیعہ دیتاہوں کہ مجھ کو صبح اس کی اطلاع ہوجائے۔زیادہ نیاز خاکسار خدایار تبیتہ الله بالتصدیق والاقرار
الجواب:
یہ شرط فاسدا ور عقد حرام ہے دو۲ وجہ سے:اولا: اس شرط میں احداد العاقدین کی منفعت ہے،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع