دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

درمختارمیں ہے کہ کسی نے پھل کو نمودار ہونے سے پہلے بیچا تو بالاتفاق صحیح نہیں۔(ت)والله تعالی اعلم۔

مسئلہ ۵۹: مسئولہ محمدعلی بخش ۹ربیع الاول ۱۳۰۸ھ

جناب عالی! کیا فرماتے ہیں آپ اس مقدمہ میں کہ ایك جائداد بقیمت مبلغ تین ہزار روپیہ کو خرید کرتاہو ں اوریہ شرط ٹھہرتی ہے کہ جب اس کاجی چاہے اسی قیمت کو یا کچھ روپے زیادہ دے کر مجھ سے پھر خریدلیں میں بلاعذر ان کو دے دو ں گا،اگر یہ جائز ہو توحکم فرمائے۔

الجواب:

اندراج شرط مذکور الصدور بیعنامہ میں مفسد بیع ہے کیونکہ جو شروط زائد مفید بائع ہو ں یا مشتری باطل کنندہ بیع میں فقط محمد یعقوب علی خا ں

الجواب:

بیعنامہ کوئی چیز نہیں وہ گفتگو عقد کی جو زبانی عاقدین میں ہو شرعا اس کا اعتبارہے اگر اس میں بائع نے صرف اس قدر کہیا کہ میں نے یہ چیزیں تین ہزار روپیہ کو بیچیں اور مشتری نے کہا میں نے قبول کیں،اورعقد ختم کردیا،اور دونو ں نے اسے بیع صحیح شرعی لازم سمجھا تو بیع صحیح وجائز ہوگئی،مشتری جائداد اور بائع قیمت کا مالك ہوگیا پھرختم عقد کے بعد عقد سے علاوہ عــــــہ باہم یہ ٹھہرا لیا کہ جب تو چاہنا مجھ سے خریدلینا میں تیرے ہاتھ بیچ ڈالو ں گا،پھر اگر بیعنامہ میں اس وثوق سے کہ کہیں یہ اپنے وعدہ سے نہ پھر جائے یو ں لکھا گیا کہ میں نے فلا ں جائداد بکر ك ہاتھ بعوض سوا تین ہزار روپے کے بیع صحیح شرعی کی اورباہم یہ وعدہ قرار داد ہےکہ میں جب چاہو ں اس قدر روپے کو یہ جائداد مشتری سے خریدلو ں اسے میرے ہاتھ بیع میں عذر نہ ہوگا تو اس لکھے جانے سے بیع میں اصلا حرج نہیں کہ عقد تو وہی تھا جو ان میں باہم زبانی ہوا اس میں اس شرط کا اصلا ذکر نہ تھا بیعنامہ میں ایك ساتھ تحریر ہونا عقد شرعی کو جوصحیح واقع ہوا فاسد نہیں ہوسکتاہے۔والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۶۰: از ضلع پربھنی صوبہ اورنگ آباد مرسلہ مولوی سید غلام رسول حسین صاحب وکیل ۱۶ رمضان المبارك ۱۳۱۳ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مٹی کی بیع وشراء میں کہ جائز ہے یاناجائز؟

عــــــہ: یتعلق بہ مسئلۃ التحاق الشرط بعد العقد بالعقد وفیہا قولان مصححان ۱۲ منہ۔

عقد کے بعد شر ط کو عقد کے ساتھ ملحق کرنے کا مسئلہ بھی اس سے متعلق ہے اوراس میں دو مصحح قول ہیں ۱۲ منہ(ت)

درمختارکے بیع فاسد میں تحریر فرماتے ہیں:

بطل بیع مالیس بمال،المال مایمیل الیہ الطبع ویجری فیہ البذل والمنع درر فخرج التراب ونحوہ [1]۔

جو چیز مال نہیں اس کی بیع باطل ہے،اور مال وہ ہے جس کی طرف طبیعت مائل ہو اور اس میں(بطور ہبہ وغیرہ)دینا اور (غیر کو اس میں تصرف سے)منع کرنا جاری ہوتا ہو (درر) چنانچہ مٹی وغیرہ اس تعریف سے خارج ہوگئی۔(ت)

اور بعض مقام میں جیسا کہ مقام پر بھنی میں مٹی کی طرف طبائع مائل ہیں اور اس میں بذل ومنع جاری ہے اور بیع وشراء بھی جاری ہے اور یوما فیوما اس کی قدر وقیمت زیادہ ہوتی جاتی ہے،اس صور ت میں مٹی پر مال کی تعریف صادق ا ۤسکتی ہے یانہیں ؟ اور اس کی بیع وشراء شرعا جائز ہوسکتی ہے یانہیں ؟ بینوا توجروا

الجواب:

مٹی کہ مال وصالح بیع نہیں،وہ تراب قلیل ہے جس میں بذل ومنع نہیں جیسے ایك مٹھی خاک،ورنہ تراب کثیر خصوصا بعد نقل بلاشبہ مال ہے اور عموما اس کی بیع میں تعامل بلاد،مٹی کی گاٹھیا چھتو ں پرڈالنے یا گہگل کرنے یا استنجو ں کے ڈھیلو ں کے لئے جگہ بکتی ہے،ردالمحتارمیں اسی عبارت درمختار پر لکھا:

قولہ فخرج التراب ای القلیل مادام فی محلہ والا فقد یعرض لہ بالنقل مایصیربہ مالامعتبرا ومثلہ الماء [2]۔

ماتن کے اس قول کہ"مٹی تعریف مال سے خارج ہوگئی"کا مطلب یہ ہے کہ وہ مٹی قلیل ہواور ابھی تك اپنی جگہ پر پڑی ہو ورنہ وہاں سے نقل کرلینے کے بعد وہ مال معتبر بن جاتی ہے۔اورپانی بھی اسی کی مثل ہے۔(ت)

بلکہ زمین خود مٹی ہے اور اس کی بیع قطعا جائز،تو مناط وہی تحقق حد مال ہے،والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۶۱: از پیلی بھیت محلہ پنجابیا ں متصل مسجد مرسلہ شیخ عبدالعزیز صاحب ۲۲ ربیع الآخر شریف ۱۳۱۴ھ

بسم الله الرحمن الرحیم،کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید مسلم تاجر لٹھہ نے ایك روز قوم ہنود کے تعلقہ دارکے ساتھ بایں شرائط چوب فروش کی کہ جس نمونہ اورپیمائش کی لکڑی بکر کو درکار ہوگی زید چراکر اپنے مصارف بار برداری سے بذریعہ ریل یا کشتی کے زید اس مال کو بکر کے مکان پرپہنچادے گا اور بکر نے یہ معاہدہ کیا کہ بعد پہنچ جانے اس مال کے تاریخ پہنچنے سے عرصہ تیس یوم میں قیمت اس لکڑی کی بشرح(۱۰ عہ)زید کو ادا کریں گے اورا گر اس عرصہ میں نہ ادا کریں تو قیمت اس کی تین روپیہ کے نرخ سے دیں گے،چنانچہ زید نے حسب پیمائش فرمائش بکر کی لکڑی تیار کرکے بکر کو اطلاع دی کہ لکڑی تیار ہے حسب معاہدہ سابق مستری بھیجو کہ پاس کرجائے،چنانچہ مستری آیا اور زید کے مکان پر اس لکڑی کو پاس کرکے اپنا نشان اور ٹانچ لگا گیا اور زید نے اس پاس شدہ لکڑی کو اپنے مصارف باربرداری سے بکر کے مکان پر پہنچادیا اوربعد پہنچادینے کے بکر کے ذی اختیار کارکنان کارندگان سے



[1]              درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳

[2]              ردالمحتار کتاب البیوع باب البیع الفاسد داراحیاء التراث العر بی بیروت ۴/ ۱۰۱

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن