دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

بحرمیں ظہریہ کے حوالے سے ہے کہ کسی شخص نے اکھاڑنے کےلئے درخت خریدا تو خریدار کو اسے اکھاڑنے کاحکم دیا جائے گا الخ(ت)

یہا ں کہ برخلاف حکم شرع اس کے کٹوانے کی شرط ذمہ بائع لگائی گئی بیع فاسد ہوئی،درمختار وردالمحتارمیں ہے:

یقطعہا المشتری فی الحال(ای اذا طلب البائع تفریغ ملکہ)وان شرط ترکھا فسدالبیع کشرط القطع علی البائع حاوی(وعلل فی البحر الفساد بانہ شرط لا یقتضیہ العقد وھو شغل ملك الغیر [1] اھ ملتقطا۔

مشتری اس درخت کوفی الحال کاٹے یعنی جب بائع اپنی ملکیت کی فراغت کا مطالبہ کرے،اور اگر اس کو زمین میں چھوڑے رکھنے کی شرط لگائی توبیع فاسد ہوگئی جیسا کہ کاٹنے کی ذمہ داری بائع پر عائد کرنے کی شرط لگانے سے بیع فاسد ہوجاتی ہے، حاوی بحر۔میں فساد کی علت یو ں بیان فرمائی کہ یہ ایسی شرط ہے جس کا تقاضا عقد نہیں کرتا اور وہ شرط ملك غیر کو مشغول رکھنے کی ہے اھ ملتقطا(ت)

پس بائع ومشتری دونو ں گنہگار ہوئے اور دونو ں پر بحکم شرع واجب ہے کہ اپنے اس بیع کوفسخ کریں ان میں جو کوئی نہ مانے دوسرا بے اس کی رضامندی کےکہہ دے میں نے اس بیع کو فسخ فورًا فسخ ہوجائے گی اور اگر دونوں فسخ کرنا چاہیں اورحاکم شرع خو خبر ہو تو وہ جبر ا فسخ کردے کہ گناہ کا زائل کرنا فرض ہے، درمختارمیں ہے:

یجب علی کل واحد منہما فسخہ قبل القبض اوبعدہ ما دام المبیع بحالہ اعداما للفساد لانہ معصیۃ فیجب رفعہا بحرولذالایشترط فیہ قضاء قاضی واذا اصرعلی امساکہ وعلم بہ القاضی فلہ فسخہ جبرا علیہما حقا للشرع بزازیہ [2]۔

بیع فاسد کو بائع ومشتری میں سے ہر ایك پر واجب ہے چاہے مبیع پر قبضہ سے پہلے ہو یا بعد،جب تك مبیع اپنے حال پر قائم ہے اوریہ فسخ فساد کو ختم کرنے کے لئے ہے کیونکہ یہ معصیت ہے۔لہٰذا اس کا رفع واجب ہے،بحر،یہی وجہ ہے کہ اس میں قضاء قاضی کی شرط بھی نہیں اور اگر وہ اس بیع فاسد کے برقرار رکھنے پر اصرار کریں اور قاضی کو خبر ہوجائے تو وہ حق شرع کے لئے ان دونوں یعنی بائع ومشتری پر جبر کرکے فسخ کراسکتا ہے بزازیہ اھ تلخیص(ت)

پھر جب اس بیع کو فسخ کرلیں اورباہم رضامندی ہو تونئے سرے سے پھر بیع صحیح بغیر اس شرط مفسد کے کرسکتے ہیں۔والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۵۷: ۴ رجب ۱۳۱۱ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے شیشی قاروری فی سیکڑہ دس آنے کے حساب سے خرید کر بمنافع فی صدی دوآنہ سیکڑہ کے عمرو سے تعدادی آٹھ سو قاروری کے مبلغ چھ روپے وصول پاکر قاروریان واسطے دینے عمرو کے اپنی دکان پر لاکر رکھیں اور عمرو سے کہا کہ آپ شیشیا ں اپنی لے جائے،عمرو نے جواب دیا کہ مجھ کو اس وقت فرصت نہیں ہے پیلی بھیت سے واپس آکر لو ں گا،جب عمرو پیلی بھیت سے واپس آیا اس وقت قاروریا ں شمار کی گئیں تو منجملہ آٹھ سو قاروری کے سو قاروری بوجہ ناز کی کے ٹوٹی نکلیں تو اب اس سوقاروری شکستہ کی قیمت ۱۲ زید کے ذمہ ہونا چاہئے یا عمرو کے؟ بینوا توجروا

الجواب:

سائل مظہر کہ اس وقت بیع نہ ہوئی تھی بلکہ عمرو نے اس سے شیشیا ں مانگیں اس کے پاس نہ تھیں اس نے خرید کر دیناکہا اور قیمت فیصل کرلی کہ جس بھاؤ کو خریدو ں گا فی صدی دوآنے کے نفع پر تجھے دو ں گا۔عمرو نے اسے پیشگی روپے دے دئے یہ صورت بیع کی نہ ہوئی صرف ایك وعدہ قرار داد ہوا اور اگر ایجاب وقبول ہو بھی جاتاتاہم باطل تھی کہ شیشیا ں زید کے پاس نہ تھیں اور جو چیز ہنوز اپنی ملك ہی میں نہیں بیع سلم کے سوا اس کا بیچنا باطل ہے۔

فی الدرالمختار من البیع الباطل وبیع مالیس فی مبلکہ لبطلان بیع المعدوم ومالہ خطرالعدم لا بطریق السلم لانہ علیہ الصلٰوۃ والسلام نھی عن بیع مالیس عندالانسان ورخص فی السلم [3] اھ قال فی ردالمحتار المراد بیع ما سیمبلکہ قبل مبلکہ لہ [4]۔

درمختار میں ہے کہ بیع باطل کے قبیلہ سے ہے اس چیز کی بیع جا بائع کی ملك میں نہ ہو کیونکہ معدوم چیز اور وہ چیز جس کے عدم کا خطرہ ہو اس کی بیع باطل ہے مگر بطور سلم ان کی بیع باطل نہیں اس لئے کہ رسول الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس چیز کی بیع سے منع فرمایا جو آدمی کے پاس نہ ہواور بیع سلم میں رخصت دی الخ ردالمحتار میں فرمایا کہ اس سے مراد اس چیز کی بیع ہے جو عنقریب اس کی ملك میں آئے گی اس کی ملك میں ہونے سے قبل۔(ت)پس شیشیا ں کہ زید نے خریدیں زیدہی کی ملك تھیں جتنی ٹوٹیں اس کی عمرو سے کچھ علاقہ نہیں۔والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۵۸: ۱۹ رمضان المبارك ۱۳۱۲ھ

علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ ایك شخص نے پھول پر انبہ خریدے اور کل روپیہ دینے کافرداپر وعدہ کیا مگر کل کی قیمت وعدہ پر ادا نہ کی،وعدہ کو فسخ کیا،بیع جائز ہے یاناجائز؟بینوا توجروا

الجواب:

پھل کا پھول پر بیچنا ہی سرے سے حرام وناجائز ہے وہ بیع بالاتفاق صحیح نہ ہوئی بائع ومشتری دونو ں پر اس سے دست کشی وتوبہ لازم ہے:

فی الدرالمختار باع ثمرۃ قبل الظہور لایصح اتفاقا [5] واللہ تعالٰی اعلم۔

 



[1]              ردالمحتار کتاب البیوع فصل فی مایدخل فی البیع تبعا الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۳۹،درمختار کتاب البیوع فصل فی مایدخل فی البیع تبعا الخ مجتبائی دہلی ۲ /۹

[2]              درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۸

[3]              درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴

[4]              ردالمحتار کتاب البیوع باب البیع الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۰۵

[5]              درمختار کتاب البیوع فصل فی ما یدخل فی البیع تبعا الخ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۹

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن