دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

بالجملہ فقیر غفرالله تعالٰی لہ جہا ں تك نظر کرتاہے اس تجارت کے مطابق حلال وطیب ہونے کی راہ نہیں پاتا،ہا ں بعض صورتیں ایسی بھی ہیں جن میں مشتری بخوشی خود خریدیں مثلا فروشندہ سے دوسرے نے قدرے نفع دے کر بیچنے کو مول لیا جیسے اونچے بزازو ں سے گٹھری والے کپڑالیتے ہیں یا نالش جس بات پر کرتاہے وہ ایسی نہ تھی جس سے درگزر کرنی کچھ اس پر شاق ہوتی صرف ایذائے مخالف یا انتقام کے لئے نالش چاہتاہے یہ بھی صورت حاجت کی نہ ہوئی،یا دائن کو یہ کاغذ درکا تھا مدیوں سے کہا میرے قرض لادے وہ لے آیا یہ خریدار ی بھی برضائے خود ہوئی کہ اس پر کاغذ دے کر قرض اتارنا لازم تھا،یا اپنے کسی بزرك کو نالش کی حاجت ہوئی چھوٹے نے خوشنودی کے لئے اپنے پاس سے کاغذ خرید کر لگایا خواہ کسی عزیز یا دوست یا محتاج کے کام میں صرف کیا کہ یہ سب حالتیں خریدار کی ضرورت کی نہیں ایسی صورت میں بیشك بیع صحیح وجائز اور زرثمن فروشندہ کےلئے حلال وطیب،اور صرف یہ بات کہ ومڑی کا کاغذ سوروپے کوکیونکر جائے بعد ثبوت تراضی موثر نہیں،ہر شخص اپنے مال کا مختار ہے جنتے کو چاہے بیچے،اما م محقق علی الاطلاق فتح القدیر میں ہے:

لوباع کاغذۃ بالف یجوز ولایکرہ [1]۔

اگر کسی نے کاغذ کا ٹکڑا ہزار کے بدلے میں فروخت کیا تویہ جائز ہے مکروہ نہیں ہے۔(ت)

فقیر غفرلہ الله تعالٰی لہ مسئلہ تجارت نوٹ میں اسے واضح کرچکا وبالله التوفیق مگر ان صورتو ں کا وقوع نادر ہے،انھیں پرقانع ہوکر تجارت نہ چل سکے گی،اور اگرکوئی قناعت کرے اور جب تك ہوسکتاہے البتہ ایك صورت عدم اکراہ کثیر الوقوع ہے یعنی جھوٹی نالش کے لئے خریدنا کہ یہ لوگ مظلوم نہیں خود ظالم ہیں توانھیں شراء پر کیا مجبوری ان کے ہاتھ بیچنے میں اگر چہ عدم حلت کی وہ وجہ نہ ہوئی،مگر اور وجوہ معصیت پیداہو ں گی کہ درحال سے خالی نہیں یا تو بائع کو معلوم ہوگا کہ مشتری ظالم ہے اور خاص نالش ناحق کے لئے خریدتاہے یا بے دلیل وعلم ٹھہرا لے گا کہ اس مشتری کا ایسا ارادہ ہے برتقدیر ثانی سوء ظن میں گرفتار ہوا اور بدگمانی حرام قطعی،پھر تراشیدہ خیال معصیت مال کی بناء پر کیونکر مال مسلم کا استحلال کرسکتاہے،برتقدیر اول جبکہ یہ جاننا تھا کہ وہ نالش دروغ کے لئے کاغذ لیتاہے تو اس سے اس کے ہاتھ بیچنا معصیت پر اعانت کرنا ہوا جس طرح اہل فتنہ کے ہاتھ ہتھیار اور معصیت پر اعانت خود ممنوع ومعصیت،

قال عزوجل " وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- "[2]۔واللہ الہادی ھذا ماعندی والعلم بالحق عند ربی، واللہ سبحنہ وتعالٰی اعلم۔

آپس میں ایك دوسرے کی مددنہ کرو گناہ اور حد سے بڑھنے پر۔ اور الله تعالٰی ہی ہدایت دینے والاہے یہ وہ ہے جو میرے پاس ہے اور حق کا علم میرے پروردگار کے پاس ہے،اور الله سبحانہ وتعالٰی خوب جاننے والا ہے۔(ت)

مسئلہ ۵۴: از کلکتہ فوجداری بالاخانہ نمبر ۳۶ مرسلہ جناب مرزا غلام قادر بیگ صاحب

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہا ں کلکتہ میں مصنوعی یعنی میل کا گھی بکتاہے باوجود علم ایسا گھی تجارت کے لئے خرید کر بیچنا جائز ہے یانہیں ؟ بینوا توجروا

الجواب:

اگریہ مصنوعی جعلی گھی وہا ں عام طور پر بکتاہے کہ ہر شخص اس کے جعل ہونے پر مطلع ہے اور باوجود اطلاع خریدتاہے تو بشرطیکہ خریداراسی بلد کا ہو،نہ غریب الوطن تازہ وارد ناواقف اور گھی میں اس قدرمیل سے جتنا وہا ں عام طورپر لوگو ں کے ذہن میں ہے اپنی طرف سے اور زائد نہ کیا جائے نہ کسی طرح اس کا جعلی ہونا چھپا یاجائے،خلاصہ یہ کہ جب خریدارو ں پر اس کی حالت مکشوف ہو اور فریب ومغالطہ راہ نہ پائے تو اس کی تجارت جائزہے،اخر گھی بیچنا بھی جائز اور جوچیز اس میں ملائی گئی اس کا بیچنا بھی،اور عدم جواز صرف بوجہ غش وفریب تھا،جب حال ظاہر ہے غش نہ ہوا،اور جواز رہا جیسے بازاری دودھ کہ سب جانتے ہیں کہ اس میں پانی ہے او ر باوصف علم خریدتے یہ اس صورت میں ہے جبکہ بائع وقت بیع اصلی حالت خریدار پرظاہر نہ کردے،اور اگر خود بتادے تو ظاہر الروایت ومذہب امام عظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم یں مطلقًا جائز ہے خواہ کتنا ہی میل ہو اگرچہ خریدار غریب الوطن ہو کہ بعدبیان فریب نہ رہا،درمختارمیں ہے:

لاباس ببیع المغشوش اذا بین غشہ اوکان ظاھرا یری وکذاقال ابوحنیفۃ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فی حنطۃ خلط فیہا الشعیر والشعیریری لاباس بیبعہ و ان طحنہ لایبیع وقال الثانی فی رجل معہ فضۃ نحاس لایبیعہا حتی یبین [3]۔ ملاوٹ والی چیز کو فروخت کرنے میں کوئی حرج نہیں جب اس کی ملاوٹ کو بیان کردے یا ملاوٹ ایسی ظاہر ہو کہ دکھائی دیتی ہو اوریونہی فرمایا امام ابوحنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ایسی گندم کے بارے میں جس میں جوملے ہوئے ہو ں اس طورپو کہ جونظر آتے ہو ں تو ایسی گندم کی بیع کوئی مضائقہ نہیں اور اگر اس مخلوط گندم کو پیس لیا تومت بیچئے،اور امام ابویوسف نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جس کے پاس تانبا ملی چاندی ہے کہ وہ اسے بتائے بغیر نہ بیچے۔(ت)

ردالمحتار میں ہے:

قول وان طحنہ لایبیع ای الاان یبین لانہ لایری [4]۔

ماتن کا یہ فرمانا کہ جب اس نے مخلوط گندم کو پیش لیا تو مت بیچے،اس کا مطلب یہ ہے کہ بیان کئے بغیر نہ بیچےکیونکہ اب اس میں ملاوٹ دکھائی نہیں دیتی،(ت)

بالجملہ: مدار کا ظہور امر پرہے خواہ خود ظاہر ہو جیسے گیہو ں میں جو چنو ں میں کسایا بجہت عرف و اشتہار مشتری پرواضح ہوجیسے دودھ کا معمولی پانی خواہ یہ خو دحالت واقعی تمام وکمال بیان کرے،والله سبحنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔

 



[1]         فتح القدیر کتاب الکفالۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲/ ۲۲۴

[2]        القرآن الکریم ۵/۲

[3]             درمختار باب المتفرقہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۵۲

[4]              ردالمحتار باب المتفرقات داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۲۲۱

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن