30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نفی الرضٰی اعم من افساد الاختیار و الرضی بازاء الکراھۃ والاختیار بازاء الجبر ففی الاکراہ بحبس اوضرب لاشك فی وجوب الکراھۃ وعدم الرضی وان تحقق الاختیار الصحیح اذ فسادہ انما ھو بالتخریف باتلاف النفس او العضو [1]۔
رضاء کی نفی فساد اختیار سے عام ہے اور رضا کراہت کے مقابلے میں جبکہ اختیار جبرکے مقابلے میں آتاہے،چنانچہ قید اور مار کے ذریعے اکراہ کی صورت میں کراہت وعدم رضا کے پائے جانے میں کوئی شك نہیں اگر چہ اختیار صحیح متحقق ہے کیونکہ فساد اختیار جان سے ماردینے یا عضو کے ضائع کردینے کی دھمکی دے حاصل ہوتاہے۔(ت)
درمختار میں ہے:
الاکراہ الملجی وغیر الملجی یعد مان الرضاء والرضاء شرط لصحۃ ھذہ العقود وکذا لصحۃ الاقرار فلذا صار لہ حق الفسخ والامضاء [2]۔
اکراہ ملجی و غیر ملجی یعنی اکراہ تام وناقص رضاکو ختم کردیتے ہیں حالانکہ ان عقود کی صحت کے لئے رضا شرط ہے اور اسی طرح صحت اقرار کے لئے بھی رضا شرط ہے،اسی لئے اس کو فسخ کرنے اور جاری رکھنے کا حق حاصل ہوا ہے۔(ت)
بعینہٖ یہی حال خریداری کاغذ مذکورکا ہے کوئی شخص بلاوجہ اپنا ایك پیسہ ضائع جانا گوارانہیں کرتا مال کا سولہواں حصہ تو بہت ہوتاہے مگر جب رئیس کاحکم ہے کہ بے اس کے کوئی نالش نہ سنی جائے تو آدمی یا تو اپنے حقوق واملاك سے یکدست ہاتھ دھو بیٹھے یہ ممکن نہیں کہ ظالم ناخدا ترس جس کے اس عزم پر آگاہ ہوجائیں اس کے تن کے کپڑے تك اتار کر بس نہ کریں کہ آخریہ بخوف مصرف نالش تو کرے گا ہی نہیں پھر ڈر کاہے یا،رہی عاقبت،وہ کس نےدیکھی ہےخدا کا سامنا ہوگا ہوگا،آج تو اپنی چلتی گئی نہ کریں،یہ ان کاحال ہے جو خدا کا سامنا ہونے پر ایمان لاتے ہیں اور جو اس پراعتقاد ہی نہیں رکھتے ان کیا کہنا،وہ توپورے بے غم ہے یا بحالت قدرت بطور خود جبرا اپنے حقوق واپس کرلے توالٹی ان کی طرف سے نالش ہو اورحکم کے نزدیك یہ خود مجرم ٹھہرے معہذا جوا بدی نہ کرے تو وہی ظلم بے تحاشہ اور کرے تو اب کیا اس قسم کے صرف نہ ہو ں گے پھر بھی ہما ں آش درکاسہ غرض دنیا میں سب راہیں بند ہیں سوا اس کے کہ ریاست سے مددلے اورریاست علانیہ حکم دے چکی کہ ہماری امداد اسی شرط پر موقوف ہے ورنہ زنہار دار القضاء کے دروازے تك بازنہ ہوگا ناچار خریداری کاغذ مذکور گوارا کرے گا مگریہ گوارش اسی طرح کی ہے کہ دل نہیں چاہتا بس چلے تو حق یہی ہے کہ اپنا حق بے کوڑی خرچے ہاتھ لگے مگر مجبوری کوکیا کیجئے،تو ثابت ہوا کہ یہ خریداری ہرگز بطیب خاطر نہیں ہوتی اور جو روپیہ اس کے بدلے نذر فروشندگان ہوتاہے زنہار رضائے قلب سے نہیں دیا جاتا تو بحکم قرآن وحدیث اسے مال حلال وطیب نہیں کہہ سکتے،ہا ں اس قدر مسلم کہ بوجہ مرور زمان وعموم ابتلاء بہت لوگو ں خصوصا مقدمہ بازو ں پر اس قسم کے مصارف میں آثار کراہت غالبا ظاہر نہیں ہوتے مگر حاشا یہ طیب نفس ورضائے دلی نہیں بلکہ یہ بات وہی ہے کہ عادت ہوگئی اور جب سب ایك حال میں ہیں تو مرگ انبوہ جشنے دارد(اجتماع کی موت میں اپنی موت جشن رکھتی ہے۔ت)آخر اور رقمو ں میں نہ دیکھئے جن میں اپنے کسی نفع کی توقع نہیں ہوتی اور رؤسا وسلاطین اموال ومزارع پر باندھ دیتے ہیں اول اول چند روز ایك عام واویلا رہتاہے پھر کچھ نہیں کہ آخر دنیا اول دنیا پھر اظہار کراہت بے معنی جب زیادہ زمانہ گزرا چلئے وہ رفتہ رفتہ ایك امور عادیہ میں داخل ہوگیا مگر دل کی خواہش ہرگز اس کی مساعد نہیں ہوجاتی اس کا سہل سا ایك امتحان یہ ہے کہ مثلا اسی کاغذ ہی کے نسبت ریاست کاحکم ہوجائے کہ ضروری نہیں سادے پر بھی دعوٰی سن لیں گے پر دیکھئے کتنے خرید نے جاتے ہیں،حاشا وکلا کوئی پاس بھی نہ پھٹکے گاکہ بلاوجہ اپناخرچ کسے بھاتاہے تو قطعا عدم رضا دائمی ابدی ہے اور یہ شراء بالکل شرائے مکروہ کی حالت میں ہے وبعداللتیا واللتی(اوربحث وتمحیص کے بعد۔ت)عدم رضا وفقدان طیب نفس میں کلام نہیں اور اسی قدر انعدام حلت میں کافی علماء فرماتے ہیں اگر بادشاہ وقت کا بھاؤ کاٹ دے مثلا لوگ روپیہ کے پندرہ سیر گیہو ں بیچتے ہیں حاکم حکم دے کہ بیس سیر سے کم نہ بیچیں ورنہ سزا پائیں گے اسی صورت میں مشتری کے لئے یہ بھاؤحلال نہ ہوگاکہ اگرچہ حاکم نے بائع کو بیع پر جبر نہ کیا کہ اصلا نہ بیچے تو اپنے مال کا مالك ہے مگریہ حکم تو کردیا ہے کہ بیچے تو اسی بھاؤ بیچے اور اس کی مخالفت میں حاکم کی طرف سے اندیشہ ہے تو اس نرخ پر اس کی رضا متحقق نہ ہوئی،اور مسلمان کا مال بے مرضی لینا حلال نہیں۔درمختار میں ہے:
اذا سعر وخاف البائع ضرب الامام لونقص لایحل للمشتری [3]۔
اگر حاکم نرخ مقررکردے اور بائع کوضرب حاکم کاڈر ہے اگر وہ اس نرخ میں کمی کرے تو ایسی صورت میں مشتری کے لئے حلال نہیں۔(ت)
شرح نقایہ میں ہے:
لوسعر فباع للخوف لم یحل للمشتری لقولہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ لایحل مال امری مسلم الابطیب نفس منہ [4]۔
اگر حاکم نے نرخ مقرر کردیا اوربائع اس کے خوف سے فروخت کیا تو مشتری کے لئے حلال نہیں کیونکہ رسول الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ارشاد ہے کسی مسلمان کا مال اس کی دلی خوشی کے بغیر لینا حلال نہیں۔(ت)
اسی طرح اگرچہ رئیس نے نالش پرمجبور نہ کیا نہ کرے تو اپنے ترك حق کا مختار ہے مگرحکم دیا ہے کہ کرے تو کاغذ ضرورہی دے اور اسی مقدار کا دے اور اس کی مخالفت میں تلف حق کا اندیشہ ہی نہیں بلکہ یقین کا مل ہے تو اس شراء پر بھی رضامتحقق نہ ہوئی، فرق اس قدرہے کہ حکم حاکم نہ ہوتا تو گیہو ں والا گیہو ں خود بھی بیچتا اگرچہ زیادہ کو،اور یہا ں حکم نہ ہوتا تو نالش والایہ کاغذ کوڑی کو بھی نہ پوچھتا کم لایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع