دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 17 | فتاوی رضویہ جلد ۱۷

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۷

اور فاسدوہ جس کی اصل حقیقت خلل سے خالی ہو مگر وصف یعنی ان متعلقات میں خلل ہو جو قوام عقدمیں داخل نہیں مثلا شروط فاسدہ اگر رکن ومحل سالم از خلل ہو ں تو بیع شرعی قطعا متحقق،پھر اگر وصف میں خلل ہے مثلا بیع مقدور التسلیم نہیں یا مجہول ہے یاکوئی شرط فاسد مفہوم،اصل یہ کہ بیع شرعی میں مبادلہ مال بمال کانام ہے ایجاب وقبول اس کے رکن اورمال متقوم محل اور اجل و قدرت تسلیم وشرط وغیرہا اوصاف اور انتقال ملك حکم واثر ہے اپنے وجود شرعی میں صرف رکن ومحل کا محتاج ہے کہ بے ان کے اس کے(تحقق کی کوئی ضرورت نہیں)جو خلل کہ ان میں ہوگا مبطل بیع قرار پائے گا جس کے معنی یہ ہوں گے کہ عندالشرع راسابیع ہی نہیں خلل رکن مثل بیع عــــــہ

عــــــہ:یہا ں تك جواب دستیاب ہوا۔

مسئلہ ۵۳: از تعلقہ پٹن ضلع اورنگ آباد علاقہ حیدر آباد دکن کچہری منصفی مرسلہ مولوی عبدالعزیز صاحب ۲۶ ربیع الاول ۱۳۰۶ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دن اس مسئلہ میں کہ سرکاری کاغذ ممہور ہوتے ہیں مہر میں اس کی قیمت بھی لکھی ہوتی ہے اور یہا ں سرکاری قاعدہ یہ ہے کہ دعوٰی جب تك اسی کاغذپر نہ لکھا جائے ہر گز مسموع نہیں ہوتا،اوربعد مسموع ہونے یہ ضرور نہیں کہ فیصلہ مدعی کے حسب دلخواہ ہو اس کاغذ میں سرکار کی منفعت ہے آٹھ روپے کا دعوٰی ہو تو(۸/)کاکاغذ ممہور لیا جاتاہے (عہ؎) تك (عص۔للعہ ؎)تک(عہ۔للعہ)تک(للعہ ماصہ)تک(مئے )،وعلی ہذا القیاس او راس ممہور کے فروخت کرنے کے واسطے سرکار کی جانب سے جو شخص معین ہوتاہے وہی فروخت کرسکتاہے غیر کی مجال نہیں اور اس کے بائع کو ہر سوروپے میں پانچ روپیہ نفع ملتاہے اس کا غذ ممہور کی بیع اور تجارت کا طریقہ شرعا جائز ہے یانہیں ؟ بینوا توجروا

الجواب:

نسأ اللہ ھدایۃ الحق والصواب اللہم اغفر(ہم الله تعالٰی سے حق اور درستگی کی ہدایت مانگتے ہیں اے اللہ! مغفرت فرما۔ت)یہ تجارت اکثرصورتو ں میں خالی از خباثت نہیں،الله عزوجل نے جواز تجارت کے لئے تراضی باہمی شرط فرمائی

قال تعالٰی عز من قائل" یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ- "[1]۔

الله تعالٰی کاارشادہے:اے ایمان والو! نہ کھاؤ اپنے مال آپس میں ناحق طورپر مگریہ کہ کوئی سودا ہو تمھارے آپس کی رضامندی سے۔

حدیث میں جناب سید عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں:

لایحل مالی امریئ مسلم الابطیب نفسہ [2]۔رواہ الدارقطنی عن انس بن مالك رضی اللہ تعالٰی عنہ۔

کسی مسلمان کا مال حلال نہیں مگر اس کے جی کی خوشی سے، (اسے دارقطنی نے انس بن مالك رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کیا۔ت)

دوسری حدیث میں ہے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں:

لایحل لمسلم ان یأخذ عصا اخیہ بغیر طیب نفس منہ قال ذٰلك لشدۃ ماحرم اللہ من مال المسلم علی المسلم [3]۔رواہ ابن حبان فی صحیحہ عن ابی حمید الساعدی رضی اللہ تعالٰی عنہ۔

مسلمان کوحلال نہیں کہ اپنے مسلمان بھائی کی چھڑی بے اس کی مرضی کے لے اور یہ اس سبب سے ہے کہ الله تعالٰی نے مسلمان کا مال مسلمان پر سخت حرام کیا ہے(اسے ابن حبان نے اپنی صحیح میں ابوحمید ساعدی سے رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کیا۔ت)

ظاہر ہے کہ آدمی نالش اپنے استخراج کےلئے کرتاہے جبکہ خود اس کی تحصیل پر قادرنہیں ہوتا اور کوئی شخص اپنے دل کی خوشی سے نہ چاہے گا کہ میراحق جو غیر کے پاس ہے بے صرف کے میسرنہ ہو بلکہ جب اسے اپنا حق جانے گا قطعا مفت ہی ہاتھ آنا چاہے گا،ہا ں اگر دیکھے گا کہ یو ں نہیں مل سکتا ناچار بحکم من ابتلی بلیتین اختاراھونہما [4](جو شخص دو مصیتبو ں میں مبتلا ہو وہ ان میں سے ہر کمتر کو اختیار کرے۔ت)صرف وخرچ گوارا کرلے گا کہ سارا دھن جاتا دیکھے تو آدھا دیجئے بانٹ،یہ معنی اگرچہ منافی اختیار نہیں کہ کسی نے اس پر اپنا حق لینے کا جبر نہ کیا تھا اسے اختیار تھا کہ بالکل خاموش رہنا تو یہ صرف نہ پڑتھا مگر مفسد رضا بیشك ہے اگربے اس کے وصول ممکن جانتا ہر گز خرچ اختیار نہ کرتا مثلا عمرو نے زید کا سو روپے کا مال دبالیا اورکہتاہے دس روپے دے تو واپس کرو ں،زید اس کی زبردستی اور اپنا عجز جان کر دس دے آیا اور مال چھڑالیا یہ روپے اگرچہ فی الواقع زید نے باختیار خود دیے مگر عمرو کے لئے حلال نہ ہوجائیں گے کہ ہر گز برضائے خود نہ دئے،اختیار ورضا میں زمین وآسمان کا فرق ہے،اور عقود بیع وشراء وہبہ وامثالہا صرف بے اختیاری ہی سے فاسد نہیں ہوتے بلکہ عدم رضا بھی ان کے فساد کو بس ہے۔

کما مر فی قولہ تعالٰی " عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ- "[5] و فی الحدیث الابطیب نفسہ [6]۔جیسا کہ الله تعالٰی کے اس ارشاد میں گزرا کہ کسی کا مال مت کھاؤ سوائے اس کے کہ تمھارے درمیان باہمی رضامندی سے سودا ہو،اور حدیث میں گزرا کہ کسی مومن کی دلی خوشی کے بغیر اس کا مال لینا حلال نہیں۔(ت)

ردالمحتار میں ہے:

 



[1]                      القرآن الکریم ۴/ ۲۹

[2]                    سنن الدارقطنی کتاب البیوع حدیث ۹۱ نشرالسنہ ملتان ۳ /۲۶

[3]                            الترغیب والترہیب بحوالہ ابن حبان حدیث ۹ مصطفی البابی مصر ۳/ ۱۷

[4]                            الاشباہ والنظائر الفن الاول بیان احکام من ابتلی ببلیتین ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۱۲۳

[5]                            القرآن الکریم ۴/ ۲۹

[6]                           الترغیب والترہیب بحوالہ ابن حبان حدیث ۹ مصطفی البابی مصر ۳ /۱۷

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن